Book Name:Zakhmi Sanp

باحیا خواتین خواہ کچھ بھی ہوجائے بے پردَگی نہیں کیا کرتیں جیسا کہ سیِّدَتُنا اُمِّ خَلَّاد رَضِیَ للہُ تَعَالٰی عَنْہَاپردہ کئے منہ پر نِقاب ڈالے اپنے شہید فرزندکی معلومات حاصِل کرنے کیلئے بارگاہِ سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں حاضِر ہوئیں ۔   کسی نے کہا:  آپ اس حالت میں بیٹے کی معلومات حاصِل کرنے آئیں ہیں کہ آپ کے چِہرے پرنِقاب پڑا ہوا ہے ! کہنے لگیں :   ’’اگر میرا بیٹا جاتا رہا تو کیا ہوا میری حیاتو نہیں گئی۔   ‘‘  (سُنَنِ ابوداوٗد ج ۳ ص ۹ حدیث۲۴۸۸مُلَخَّصاً   )  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔   اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

بے پردَگی کوئی چھوٹی مصیبت نہیں!

          اِس حِکایت سے ہماری وہ اسلامی بہنیں درس حاصل کریں کہ جو بے پردَگی کیلئے طرح طرح کے بہانے تَراشتی ہیں۔  کوئی کہتی ہے:  کیا کروں میں تو بیوہ ہوں ، کوئی کہتی ہے:  بچّوں کا پیٹ پالنے کے لئے دفتر میں غیر مردوں کے ساتھ بے پردَگی یا خلوت (یعنی تنہائی)  میں یا اندیشۂ فتنہ ہونے کے باوُجُود نوکری کرنی پڑگئی ہے ، حالانکہ حُصُولِ مَعاش کیلئے کوئی گھریلو کسب بھی ممکن تھا، لیکن

’’مَدَنی سوچ ‘‘ کہاں سے لائیں ! کیا پہلے کی باپردہ خواتین بیوہ نہیں ہوتی تھیں؟  ان پر مصیبتیں نہیں پڑتی تھیں؟ کیا اَسیرانِ کربلا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمپر آفتوں کے پہاڑ نہیں ٹوٹے تھے؟  کیا مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّکربلا والی عِفَّت مَآب  بِیبیوںرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّنے پردہ ترک کیا تھا؟  نہیں اور ہر گز نہیں تو پھر مہربانی فرما کر اپنی ناتُوانی پر ترس کھائیے اور اپنے کمزور وُجُود کو قَبْروجہنَّم کے عذاب سے بچانے کی خاطِر پردہ اختِیار کیجئے۔   خدا کی قسم !  وہ بے پردَگی چھوٹی مصیبت نہیں ہو سکتی جوکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عذاب میں پھنسا کر رکھ دے۔   وَا لعِیاذُ بِاللّٰہِ تعالٰی۔   

31 مَدَ نی پھولوں کا گلدستہ

{1}   ہمارے میٹھے میٹھے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ عورت کا ہاتھ،  ہاتھ میں لئے بِغیرفَقَط زَبان سے بَیْعَت لیتے تھے۔     (مُلَخَّص ازبہارِ شریعت  ج۳ ص۴۴۶)

مُریدَنی پیر صاحب کا ہاتھ نہیں چوم سکتی

{2}     عورت کا اپنے پِیر ومرشِد سے بھی اِسی طرح پردہ ہے جس طرح دیگر نامَحرموں سے ۔   عورت اپنے پِیر کا ہاتھ نہیں چُوم سکتی، اپنے سر پر ہاتھ نہ پِھروائے،پِیر صاحِب کے ہاتھ پاؤں بھی نہ دابے ۔             

مرد و عورت مُصافحَہ نہیں کر سکتے

{3}   مردو عورت آپَس میں ہاتھ نہیں ملاسکتے ۔   

فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ :’’تم میں سے کسی کے سر میں لوہے کی کیل ٹھونک دی جاتی اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی ایسی عورت کو چُھوئے جو اس کے لیے حلال نہیں ۔   ‘‘  (مُعْجَم کبیرج۲۰ص۲۱۱حدیث۴۸۶)

{4}عورت اجنبی مَرْد کے جِسْم کے کسی بھی حصّے کو نہ چُھوئے جبکہ دونوں میں سے کوئی بھی جوان ہو اس کوشَہْوت ہوسکتی ہو۔  اگرچِہ اس بات کا دونوں کو اطمینان ہو کہ شَہوَت پیدا نہیں ہوگی۔     (عالمگیری ج۵ص۳۲۷،بہارِ شریعت ج۳ص۴۴۳)

مَرْد سے چُوڑیاں پہننا

{5}   نامَحرم کے ہاتھ سے عورت کا چُوڑیاں پہننا گناہ ہے ۔   دونوں گنہگار ہیں۔     

چھوٹے بچّے کا کون سا حصّہ چُھپائے

{6}   بَہُت چھوٹے بچّے کے لیے عورت (یعنی چُھپانے کا عُضْو)  نہیں اس کے بدن کے کسی  حصّے کو چُھپانا فرض نہیں، پھر جب کچھ بڑا ہوگیا تو اس کے آگے اورپیچھے کا مقام چُھپانا ضَروری ہے ۔   دس برس سے بڑا ہوجائے تو اس کے لیے بالِغ کا ساحکم ہے ۔     ( رَدُّالْمُحتَارج۹ص۶۰۲،،بہارِ شریعت ج۳ص۴۴۲)

 



Total Pages: 8

Go To