Book Name:Zakhmi Sanp

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

خوفناک جانور

          غالباً شعبانُ المُعظَّم ۱۴۱۴ھ کا آخِری جُمُعہ تھا۔   رات کو کورنگی  (بابُ المدینہ کراچی)  میں مُنْعَقِد ہونے والے ایک عظیمُ الشّان سنّتوں بھرے اجتماع میں ایک نوجوان سے سگِ مدینہ عُفِیَ عَنْہُ   (راقِمُ الْحُرُوف)  کی ملاقات ہوئی۔  اُس پر خوف طاری تھا ، اس نے حَلفیہ بیان دیا کہ میرے ایک عزیز کی جوان بیٹی اچانک فوت ہوگئی ۔   جب ہم تدفین سے فارِغ ہوکر پلٹے تو مرحومہ کے والِد کو یا دآیا کہ اس کا ایک ہینڈ بیگ جس میں اَہَم کاغذات تھے وہ غَلَطی سے میِّت کے ساتھ قَبْر میں دفن ہوگیا ہے ۔  چُنانچِہ باَمرِ مجبوری دوبارہ قَبْر کھودنی پڑی، جوں ہی ہم نے قَبْر سے سِل ہٹائی خوف کے مارے ہماری چیخیں نکل گئیں کیونکہ جس جوان لڑکی کو ابھی ابھی ہم نے ستھرے کفَن میں لپیٹ کر سُلایا تھاوہ کفَن پھاڑ کر اُٹھ بیٹھی تھی اوروہ بھی کمان کی طرح ٹیڑھی آہ! اس کے سر کے بالوں سے اس کی ٹانگیں بندھی ہوئی تھیں اورکئی چھوٹے چھوٹے نامعلوم خوفنا ک جانور اس سے چمٹے ہوئے تھے۔  یہ دَہشت ناک منظر دیکھ کر خوف کے مارے ہماری گِھگّی بندھ گئی اورہینڈبیگ  نکالے بِغیرجُوں تُو ںمِٹّی پھینک کر ہم بھاگ کھڑے ہوئے ۔    گھر آکر میں نے عزیزوں سے اس لڑکی کا جُرم دریافْت کیا تو بتایا گیا کہ اس میں کوئی فی زمانہ معیوب سمجھا جانے والا جُرم تو نہیں تھا، البتَّہ یہ بھی عام لڑکیوں کی طرح فیشن ایبل تھی اورپردہ نہیں کرتی تھی ۔   ابھی انتِقال سے چند روز پہلے رشتے داروں میں شادی تھی تو اس نے فیشن کے بال کٹوا کر بن سنور کر عام عورَتوں کی طرح شادی کی تقریب میں بے پردہ شرکت کی تھی ۔   

اے مِری بہنو! سدا پردہ کرو               تم گلی کُوچوں میں مت پھرتی رہو

ورنہ سن لو قبر میں جب جاؤگی             سانپ بچّھو دیکھ کر چِلّاؤگی

کمزور بہانے

             کیااس بدنصیب فیشن پرست لڑکی کی داستانِ غم نشان پڑھ کر ہماری وہ اسلامی بہنیں درسِ عبرت حاصل نہیں کریں گی جو شیطان کے اُکسانے پر اس طرح کے حِیلے بہانے کرتی رہتی ہیں کہ میری تو مجبوری ہے ، ہمارے گھر میں کوئی پردہ نہیں کرتا، خاندان کے رَواج کو بھی دیکھنا پڑتا ہے ، ہمارا سارا خاندان پڑھا لکھا ہے ،  سادہ اورباپردہ لڑکی کے لیے ہمارے یہاں کوئی رِشتہ بھی نہیں بھیجتا۔   بس دل کا پردہ ہوتاہے ، ہماری نیّت تو صاف ہے وغیرہ وغیرہ ۔   کیا خاندانی رَسْم و رَواج اور نَفْس کی مجبوریاں آپ کو عذابِ قبر وجہنَّم سے نَجات دلادیں گی ؟  کیا آپ بارگاہِ خداوندی  عَزَّ َجَلَّ میں اس طرح کی کھوکھلی مجبوریاں بیان کر کے چھٹکارا حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گی؟  اگر نہیں اورواقِعی نہیں تو پھر آپ کو ہر حال میں  بے پردَگی سے توبہ کرنی پڑے گی ۔   یا درکھئے !  لَوحِ محفوظ پر جس کا جہاں جوڑا لکھا ہوتاہے وَہیں شادی ہوتی ہے ۔   ورنہ آئے دن کئی پڑھی لکھی ماڈَرْن کنواری لڑکیاں پلک جھپکتے میں موت کا شکار ہوکر رہ جاتی ہیں بلکہ بعض اوقات ایسا بھی ہوتاہے کہ دُلہن اپنی  ’’رخصتی‘‘ سے قَبْل ہی موت کے گھاٹ اُترجاتی ہے اوراسے روشنیوں سے جگمگاتے ،  خوشبوئیں مہکاتے حَجَلۂ عَرُوسی میں پہنچانے کے بجائے کیڑے مکوڑوں سے لبریز تنگ وتاریک قَبْر میں اتاردیا جاتاہے ۔    

تو خوشی کے پھول لے گی کب تلک؟

تُو یہاں زندہ رہے گی کب تلک

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 



Total Pages: 8

Go To