Book Name:Faizan e Sultan Bahoo رحمۃ اللہ تعالی علیہ

مُرید بن جائیں اور جو پہلے سے کسی پیر صاحب  سے بیعت ہوں اگر وہ چاہیں تو امیراہلسُنَّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے طالب ہوکر اپنے پیر صاحب کے فیض کے ساتھ ساتھ امیرِ اہلسُنَّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا فیضان بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ!آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی نگاہِ فیض سے لاکھوں مسلمانوں بالخصوص نوجوانوں کی زندگیوں میں مدنی انقلاب بَرپا ہوگیا اور وہ گناہوں سے تائب ہوکر قرآن  وسُنَّت کی راہ پر گامزن ہوگئے۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                                                صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مُرشد کامل کیسے ملے

مال و دولت سے فراغت اور حُقوق کی معافی کے بعد حضرت شاہ حبیبُ اللہ قادری  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِینے حضرت سُلطان باہو رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ پر کامل توجہ فرمائیآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کافی دیر تک اسی حالت میں بیٹھے رہے  حضرت شاہ حبیبُ اللہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے پوچھا: کیاتم اپنی مراد کو پہنچ گئے ہو ؟ حضرت سلطان باہو رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی  عَلَیْہنے جواب دیا :آج جوکچھ مجھ پرظاہر ہوا  وہ بچپن  میں ہی  حاصل ہوچکا تھا، یہ سن کرحضرت شاہ حبىب اللہ قادری  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی بطورِ آزمائش فوراً غائب ہوئے اور فضا میں اُڑکر کہیں چلے گئے ،حضرت سلطان باہو رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بھى پیچھے  پىچھے اُڑےاور حضرت شاہ حبیب اللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو اىک کھیت کے کنارے بوڑھے آدمی کی صورت میں پایاجو بىلوں کى جوڑى لىے ہل چلا رہے تھے۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ بھی گُدڑی پہن کر اجنبی کی صورت میں حاضر ہوکر کہنے لگے: بابا! آپ کىوں تکلىف اٹھاتے ہىں؟ آپ آرام کرىں مىں  آپ کى جگہ ہل چلادیتا ہوں۔ىہ سنتے ہی حضرت شاہ حبیب اللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنى اصلى صورت مىں لوٹ آئے۔ ایک مرتبہ یوں آزمائش کی کہ اُڑکر  کسی شہر میں پہنچے اور وہاں کی غیر معروف مسجد میں چھوٹے بچوں کو قرآن مجید کی تعلیم دینے میں  مصروف ہوگئے ،حضرت سلطان باہو رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ بھی پیچھے پیچھے پہنچے اور قاعدہ ہاتھ مىں لىے  حاضرِ خدمت ہوگئے،جب کئی مرتبہ آزمائش  ہوچکی تو حضرت شاہ حبیب اللہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہنے لگے : جس نعمت کے آپ مستحق ہیں وہ ہمارے بس میں نہیں لہٰذاآپ مىرے شىخ سَىِّدُ السَّادات حضرت پىر سىد عبدالرحمن دہلوى قادرى عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیکى خدمت مىں چلے جائیں ۔  ([1])   

بیعت

چنانچہ آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے دہلی پہنچ کرسلسلۂ عالیہ قادریہ میں سَیِّدُ السَّادات حضرت پیر سَیِّدعبد الرحمن جیلانی دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے  ہاتھ پر بیعت   کی اور ان کے  فُیوض وبرکات سے  مُسْتَفِیْض ہوئے ۔ ([2])

مُرشدِ کامل کو آپ کے آنے کی  پیشگی اطلاع

جب حضرت سلطان باہو رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ منزلِ مقصود کى تلاش مىں  دہلى کے قریب پہنچےتو  سىد السادات  حضرت پىر سىد عبدالرحمن جیلانی دہلوى عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے اپنے ایک مُرید کو بھىجا کہ فلاں راستےمیں اس شکل و صورت والاراہِ حق کاایک مُتلاشی آرہا ہے اسے فوراً ہمارے پاس لاؤ۔۲۹ ذیقعدۃُ الحرام ۱۰۷۸ھ بمطابق 11مئی 1668ء بروزجمعۃُ المبارک حضرت سُلطان باہو رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرت سَىِّدُ السادات پىرعبد الرحمن عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن کی بارگاہ میں پہنچے تو انہوں نے حضرت سلطان باہو رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا ہاتھ پکڑا اور خلوت مىں لے گئے  پھر  اپنے مرید کامل پر معرفتِ حق کے انوارو تجلیات کی بارش برسائی۔ ([3])

مُرشد کی بارگاہ سے ملنے والے کمالات

 مُرشدِ کامل سے فیضیاب ہونے کے بعد حضرت سلطان باہو رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے رخصت لی اور دہلى کے بازاروں مىں گھومنا شروع کردیاجو  خاص وعام  نظر آتا اس پر اپنی رُوحانی نظر فرماتے ۔ جس سے دہلی کے گلی بازاروں میں آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ  کا شہر ہ ہوگیا اورآپ کے  اردگرد لوگوں کاہجوم ہوگیا۔جب اس  بات کی خبر حضرت سَىِّدُالسادات  پىرعبد الرحمن قادرى عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیکوہوئی توآپ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرماىا:معلوم کرو کہ وہ  کون ہے اور کس خاندان اور سلسلے سے تعلّق رکھتا ہے؟ مُریدوں نے جا کر دىکھا تو فوراً پہچان گئے اور آکر عرض کى: آپ نے آج جنہیں اپنے رُوحانی فَیض سے نوازا ہے یہ وہى دروىش ہیں۔یہ سن کر حضرت سَىِّدُالسادات  پىر عبد الرحمن قادرىعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیرنجیدہ ہوگئے اورفرماىا: انہیں فوراً  میرے پاس  لاؤ۔ جب حضرت سُلطان باہو رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنےپیر صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نےسخت لہجے میں فرمایا: ہم نے تمہیں  خاص نعمت عناىت کى مگر تم اسے لوگوں میں  عام کرتے پھر رہے ہو۔ حضرت سلطان باہو رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے عرض کى: اے میرے آقا! جب کوئی بوڑھى عورت روٹى پکانے کے لئے بازار سے تَوا خرىدتى ہے تو اسے  اچھی طرح ٹھوک بَجا کر دىکھتى ہے کہ کىسا کام دے گا؟اسی طرح  جب کوئی کمان خرىدتا ہے تو اسے کھىنچ کر دىکھتا ہے کہ اس مىں کتنی لچک ہے؟ میں بھی آپ کی جانب سے ملنے والی اس نعمت عُظْمیٰ کو دیکھنا چاہتا تھا کہ یہ نعمت کیسی اورکتنی زیادہ ہے؟آپ ہی نے فرمایا تھا کہ اسے آزماؤ اور فیض کو عام کرو۔اس کے بعد اپنے پیرو مُرشد سےمزید عنایات اور فُیُوض و برکات حاصل کئے اور   ان کی شفقت  و مہربانی کے سائے میں رخصت ہوگئے ۔  ([4])

تبلیغِ دین کی خاطر سفر

آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی اکثر زندگی  سیر وسیاحت میں گزری آپ زیادہ ترمدینۃ الاولیاء ملتان، ڈیرہ غازی خان ،ڈیرہ اسمعیل خان ،چولستان ،وادی سون سکیسر (ضلع خوشاب ) اورکوہستانِ نمک کے علاقوں میں سفرکرکے مخلوقِ خدا عَزَّ  وَجَلَّ میں وعظ  ونصیحت، حکمت و معرفت  عام کرتےرہے  ۔دہلی کے سفر میں آپ کی ملاقات مُغل بادشاہ اورَنگ زیب عالمگیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے ہوئی جنہوں نےآپ سےبیعت کی درخواست  کی تو فرمایا:تمہیں فَیض پہنچتا رہے گا اس سے زیادہ مجھ سے تعلق مَت رکھو۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ نے اورَنگ زیب عالمگیر رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے لئے ”اورَنگ شاہی“ نامی



[1]      مناقبِ سلطانی، ص۵۶، ۵۷ ملخصاً

[2]      ابیات سلطان باہو ، ص۲بتغیر

[3]      مناقب سلطانی، ص۵۸ ملخصاً

[4]      مناقب سلطانی، ص ۵۹ملخصاً



Total Pages: 8

Go To