Book Name:Faizan e Sultan Bahoo رحمۃ اللہ تعالی علیہ

تھے۔([1]) یعنی یہ نظر کا اٹھاناانتظارِ وحی میں ہوتا تھا ورنہ نظر مبارک کا زمین کی طرف رکھنا روز مرّہ کے معمولات میں تھا۔ ([2])

جس طرف اُٹھ گئی دم میں دم آ گیا           اُس نگاہِ عنایت پہ لاکھوں سلام

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                                                                     صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ولیٔ  کامل کی نظر ِکامل

جب سُلطانُ العارفین حضرت سُلطان باہُورَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ  کی نظرِ ولایت سےغیرمسلموں کے قبول ِاسلام کے واقعات  کئی مرتبہ  پیش آئے  تومقامی غیر مسلموں میں کھلبلی مچ گئی۔چنانچہ وہ سب حضرت بازیدمحمد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الصَّمَد  کی خدمت میں حاضر ہوکرآپ کے صاحبزادے حضرت سلطان باہو رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ کی شکایت کرنے لگے۔والد ماجد نے پوچھا:آخر میرے بچے کا قُصُور کیا ہے ؟ یہ تو بہت چھوٹا ہے ،کسی پر ہاتھ  اٹھانے کے قابل بھی نہیں ہے۔ ایک شخص نےکہا: اگر ہاتھ اُٹھا لیتا تو زیادہ اچھا تھا ،والدماجد نےحیران ہوکر  پوچھا: پھر کیا گلہ  ہے؟ان کے سربراہ  نے کہا: آپ کا بچہ ہم میں سے جسے بھی  نظر بھر کر دیکھ لیتا ہے وہ مسلمان ہوجاتا ہے اس کی وجہ سے شور کوٹ کے لوگوں کا آبائی مذہب خطرے میں پڑ گیا ہے، بڑی عجیب شکایت تھی والد ماجد کچھ دیر تک سوچتے رہے پھر فرمایا:اب تم  ہی بتاؤکہ میں اس سلسلے میں کیا کرسکتا ہوں ؟ کسی کے مذہب تبدیل کرلینے میں  میرے بیٹے کا کیا قُصُور؟ کس طرح اسے نظر اٹھا کر دیکھنے سےباز رکھ سکتا ہوں؟ سربراہ نے کہا: قُصُور تو بچے کی دایَہ کا ہے جو اسے وقت  بے  وقت  بازار لے   جاتی ہے ۔آپ سے یہ گزارش ہے کہ آپ بچے کی سیر کے لئے ایک وقت مقرر کردیں۔ بالآخر حضرت بازید محمد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الصَّمَد  نے سختی کے ساتھ دایہ کو ہدایت کردی کہ وہ ایک مقررہ وقت پر سلطان باہو کو باہر لے جایاکرے۔اس کے بعد  شہر کے غیرمسلموں نے اس کام پر چند نوکر رکھ لئے کہ جب سلطان باہو رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے گھر سے نکلیں تو بازاروں اور گلی کوچوں میں اُن  کی آمد کی خبرپہنچا دی جائے ۔ لہٰذا جب  نوکر خبر دیتے تو غیرمُسلم اپنی اپنی دُکانوں اورمکانوں میں چھپ  جاتے ۔ ([3])

بارگاہِ رسالت  سے فُیوض وبَرکات

 حضرت سُلطان باہُو رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: بچپن میں ایک دن سڑک کے کنارےکھڑاتھاکہ ایک بارعب، صاحبِ حشمت،نورانی صورت والے بُزرگ  گھوڑے پر تشریف لائے اور میراہاتھ پکڑ کر اپنے  پیچھے بٹھالیا،میں نے ڈرتے اور کانپتے ہوئے پوچھا: آپ کون ہیں؟ ارشاد فرمایا: میں (حضرت)علی بن ابی طالب (کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم)ہوں، میں نے پھر عرض کی: مجھے کہاں لے جارہے ہیں؟ فرمایا:پیارے آقا ،حضرت محمد مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم سے تمہیں ان کی بارگاہ میں لے جارہا ہوں۔ بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں حاضری ہوئی تو وہاں حضرت سَیِّدُنا ابو بکر صدیق ، حضرت سَیِّدُنا عمر فاروق ِاعظم اور حضرت سَیِّدُناعثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ بھی جلوہ فرما تھے مجھے دیکھتے ہی نبیوں کے سُلطان، رحمتِ عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے دونوں دستِ مبارک میری طرف بڑھائے اور ارشاد فرمایا: میرے ہاتھ پکڑلو،پھر دستِ اقدس پر بیعت لی اور کلمہ کی تلقین فرمائی ۔ حضرت سلطان باہو رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :جب میں نے کلمۂ طیبہ لَآا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللہ پڑھا تو درجات ومقامات کا کوئی حجاب باقی نہ رہا، اس کے بعد   حضرت سَیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھ پرتوجُّہ فرمائی جس سے میرے وجود میں صِدْق وصَفا(یعنی سچائی اور پاکیزگی) پیدا ہوگئی،توجہ فرمانے کے بعد حضرت سَیِّدُناابوبکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اس مجلس سے  رخصت ہوگئے ۔ پھر حضرت سَیِّدُناعمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے میری جانب توجہ فرمائی جس سے میرے وجود میں عدل ومحاسبۂ نفسی (فکرِ مدینہ )پیدا ہوگیا۔ پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی رخصت ہوگئے ، ان کے بعد حضرت سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے میری  جانب توجہ فرمائی جس سے میرے اندر حیا اور سخاوت کا نور پیدا ہوگیا  پھر وہ بھی اس نورانی مجلس  سے رخصت ہوگئے۔اس کے بعد حضرت سَیِّدُناعلی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے مجھ پر توجہ فرمائی تو میرا جسم علم، شُجاعت اور حِلم سے بھر گیا۔پھر پیارے آقا ،حضرت محمد  مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میر اہاتھ پکڑکر خاتونِ جنّت حضرت سَیِّدَتُنا فاطمۃُ الزہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس لے گئے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نےمجھ سے فرمایا:تم  میرے فرزندہو۔ پھر میں نے حسنینِ کریمین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے قدمین ِ شریفین کا بوسہ لیا اور ان کی غلامی کاپٹا اپنے گلے میں  پہن لیا۔ پھر حُضُور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پیر دستگیرحضور غوثِ اعظم  شیخ عبدُ القادر جیلانی الحَسنی والحُسَینی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سپرد فرمادیا حضور غوثِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھے مخلوق ِخدا  کی رہنمائی کا حکم ارشاد فرمایا ۔ حضرت سُلطان باہو رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : میں نے جو کچھ بھی  دیکھا اپنی ظاہری آنکھوں  سے دیکھا۔  ([4])

سائلو ! دامن سخی کا تھام لو                کچھ نہ کچھ انعام ہوہی جائے گا

                   مُفْلسو! ان کی گلی میں جا پڑو                      باغِ خلد اِکرام ہو ہی جائے گا   (حدائق بخشش، ص۴۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                                      صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

خدا تک پہنچنے کا راستہ

حضرت سَیِّدُنا سُلطان باہورَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میری والدہ ماجدہ نے مجھ سے کہا: جب تک مرشدِ کامل کا دامن نہ پکڑوگےمعرفت حاصل نہ ہوگی۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کہا: مجھے ظاہری مُرشد کی کیا ضرورت ہے؟ میرے مرشدِ کامل تو حضورِ پُرنُور، شافع یومُ النُّشُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہیں، والدہ ماجدہ نے کہا: بیٹا! ظاہری مرشد  بھی ضروری ہے اس کے بغیر اللہعَزَّ  وَجَلَّ  کی معرفت مشکل ہے۔  ([5])

 



[1]            ابوداود ، کتاب الادب ، باب الھدی فی الکلام ، ۴/ ۳۴۲، حدیث : ۴۸۳۷

[2]                مدارج النبوۃ، ۱/ ۱۸

[3]                مناقب سلطانی، ص ۲۷ ، ملخصاً، وغیرہ

[4]    باہو عین یاہو، ص ۱۱۱ تا ۱۱۳، ملخصاً وغیرہ

[5]     مناقب سلطانی ، ص  ۵۳ملخصاً



Total Pages: 8

Go To