Book Name:Faizan e Sultan Bahoo رحمۃ اللہ تعالی علیہ

آپ کے والدین

حضرت سُلطان باہو رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے والدِماجد کا نام حضرت بازید محمد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الصَّمَد  جبکہ والدۂ ماجدہ کا نام حضرت بی بی راستیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اہے حضرت بازیدمحمد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الصَّمَد  نیک،پرہیز گار،شریعت کے پابنداورحافظِ قرآن ہونے کےساتھ ساتھ دہلی میں مُغْلیہ  حکومت کے ایک بڑے عُہدے پر فائز تھے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے  بی بی راستی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ا سے نکاح کیاجو ولایت کے اعلیٰ مراتب پر فائز تھیں ۔سُون سَکیسرکے  گاؤں انگہ کی  ایک پہاڑی کے دامن میں چشمے کے کنارے عبادت و رِیاضت میں مصروف رہا کرتی تھیں۔ایک وَلیّہ کی نشانی کے طور پر وہ جگہ آج بھی معروف و محفوظ ہے۔ ([1])

    آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہا کےتَقْویٰ و پرہیز گاری کاحضرت بازیدمحمد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الصَّمَد  پر ایسا گہرااثر ہواکہ دل پر محبتِ الٰہی غالب آگئی اورآپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے دُنیا سے قَطع تعلقی اختیار کی اور عبادت وریاضت میں زندگی بسر کرنےلگے ،چونکہ اب ظاہری ذریعۂ معاش کوئی نہ رہا تھا لہٰذا کسبِ معاش کی خاطرمجبوراً مدینۃُ الاولیاء(ملتان )کا  رُخ کیا اوروہاں کے  ناظم  کے   پاس  مُلازمت  اختیار کرلی ۔([2])

جب حضرت بازیدمحمدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الصَّمَدکے مدینۃ الاولیاء ملتان  میں قیام کی خبریں دہلی   پہنچیں تو وہاں سے ناظم ملتان کوحکم نامہ جاری ہوا کہ انہیں دہلی واپس بھیجا جائے تاکہ اپنا منصب سنبھالیں مگر حضرت بازید محمد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الصَّمَد  نے فرمایا: میں دنیاوی  مشاغل ترک کرکے باقی عمر یادِ الٰہی میں گزارنا چاہتا ہوں ۔بادشاہ نے آپ کی یہ درخواست قبول کرلی ۔

مشہورمُغل بادشاہ  شاہ جہاں نے حضرت بازید محمد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الصَّمَد  کوبہترین عسکری  خدمات  انجام دینےپر بطورِانعام  شورکوٹ(ضلع جھنگ،پنجاب ) کے گرد ونَواح میں وَسیع وعَریض زمین دے رکھی تھی ۔چنانچہ حضرت سُلطان باہو رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے والدین اسی جگہ  میں رہائش پذیر ہوگئے ۔ ([3]) 

ولادت ِ باسعادت

حضرت سُلطان باہو رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی ولادتِ باسعادت بروز پیر ماہ رمضانُ المبارک ۱۰۳۹ھ بمطابق اپریل 1630ءمیں موضع اَعْوان (شور کوٹ ضلع جھنگ  پنجاب) پاکستان میں ہوئی ۔([4])

پیدائش سے پہلے ولایت کی بشارت

والدہ ماجدہ حضرت بی بی راستی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ا کو حضرت سُلطان باہو رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی    عَلَیْہ کی پیدائش سے پہلےہی الہام ہوچکا تھا کہ ان کے شکم (پیٹ ) میں ایک ولیٔ  کامل پرورش پارہا ہےچنانچہ خود فرماتی ہیں:مجھے غیب سے یہ بتایاگیا ہےکہ میرے پیٹ میں جولڑکا ہے وہ  پیدائشی ولیُّ اللہ اورتارکِ دُنیاہوگا ۔([5])

تعلیم وتربیت

آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ ابھی کم سن ہی تھے کہ والد ماجد کا وصال ہوگیا،آپ رَحْمَۃُاللّٰہ     تَعَالٰی عَلَیْہ کی ابتدائی تعلیم وتربیت آپ  کی والدہ ماجدہ  نے بحسن وخوبی فرمائی ۔

بچپن کے معمولات

آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی  شیرخواری  کے دنوں میں جب  رمضانُ المبارک آتا تو دن بھر والدہ ماجدہ کا دودھ نہ پیتے اورافطار کے وقت  پی لیا کرتے۔ بچپن میں  آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے سانس کے ساتھ ” ھُو ھُو    کی آواز اس طرح  نکلتی تھی جیسے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ ذکرِالٰہی میں مشغول ہوں،آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ نہ تو کھلونوں سے  کھیلا کرتے  اور نہ ہی بچوں کے دیگر مَشاغل اختیارفرماتے ۔ ([6])     آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ نظریں جھکا کرچلا کرتے، اگر  راہ چلتے اچانک کسی مسلمان پرنظر پڑجاتی تو اس کے جسم پر لرزہ طاری ہوجاتا اوروہ  بے اختیار پکار اٹھتا ”واللہ! یہ کوئی عام بچہ نہیں، اس کی آنکھوں میں عجیب روشنی ہے  جو براہِ راست دلوں کو متاثِّر کرتی ہے “ اگر نظر کسی غیرمُسلم  پرپڑتی  اس کی بگڑی سنور جاتی اور وہ اپنے آبائی باطل مذہب کوترک کردیتا اور کلمۂ طیبہ پڑھ کردائرۂ اسلام میں داخل ہوجاتا ۔([7])

اے کاش !ہم بھی بُزرگانِ دین کی سیرت پرعمل کرتے ہوئے  نظریں جُھکاکر چلنے والے بن جائیں۔شیخِ طریقت،امیرِ اہلسُنَّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ”پردے کے بارے میں سوال جواب “ صفحہ313پر نگاہِ مصطفٰے(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کے مختلف انداز بتاتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا محمد بن عیسٰی ترمِذی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نقل فرماتے ہیں:جب سرکارِ دو عالم،نُورِ مُجَسَّم ، شاہِ بنی آدم ، رسولِ مُحتَشم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکسی طرف توجُّہ فرماتے توپورےمُتوَجِّہ ہوتے، مبارَک نظریں نیچی رہتی تھیں، نظر شریف آسمان کے بجا ئے ز یادہ تر زمین کی طرف ہوتی تھی،اکثر آنکھ مبارَک کے کَنارے سے دیکھا کرتے تھے۔([8]) مذکورہ حدیث پاک میں یہ الفاظ ”پورے مُتَوَجِّہ ہوتے“اس کا مطلب یہ ہے کہ نظر چراتے نہیں تھے ۔  اور یہ بات کہ” مبارَک نظریں نیچی رہتی تھیں“ یعنی جب کسی چیز کی طرف دیکھتے تو اپنی نگاہ پَست (یعنی نیچی) فرما لیا کرتے تھے ۔بِلا ضَرورت اِدھر اُدھرنہ دیکھا کرتے تھے، بس ہمیشہ عالِمُ الغَیب جَلَّ جَلَالُہُ  کی طرف مُتوَجِّہ رہتے ، اُسی کی یادمیں مشغول اور آخِرت کے مُعامَلات میں غورو تفکُّر فرماتے رہتے ۔([9]) اور یہ الفاظ” آپ کی نظریں آسمان کی نسبت زمین کی طرف زیادہ رہتی تھیں“ یعنی یہ حد درجہ    شرم وحیا کی دلیل ہے،حدیث میں جو یہ آیا ہے کہ خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحمَۃلّلْعٰلمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب گفتگو کرنے بیٹھتے تواپنی نگاہ شریف آسمان کی طرف زیادہ اُٹھاتے



[1]     ابیات سلطان باہو، ص۱، وغیرہ

[2]    مناقب سلطانی، ص ۲۱ ملخصاً

[3]      مناقب سلطانی ، ص ۲۶ملخصاًوغیرہ

[4]      باہو عین یاہو، ص ۱۰۷بتغیر

[5]      مناقب سلطانی، ص۲۶ ملخصاً

[6]      باہو عین یاہو ، ص ۱۱۰ملخصاً

[7]