Book Name:Ameer e Ahlesunnat Ki Deeni Khidmat

اللہ  عَزَّوَجَلَّ نے جب شیطان سے فرمایا: اِنَّ عَلَیْكَ اللَّعْنَةَ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ  (۳۵) ’’ بیشک قیامت تک تجھ پر لعنت ہے۔ ‘‘  یعنی آسمان و زمین والے تجھ پر لعنت کریں   گے اور جب قیامت کا دن آئے گا تو تُو اس لعنت کے ساتھ ہمیشگی کے عذاب میں   گرفتار کیا جائے گا جس سے کبھی رہائی نہ ہو گی۔ یہ سُن کر شیطان بولا: رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ  (۳۶)   ’’ اے میرے ربّ   (عَزَّ وَجَلَّ! مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے۔ ‘‘  اس سے شیطان کا مطلب یہ تھا کہ وہ کبھی نہ مرے کیونکہ قیامت کے بعد کوئی نہ مرے گا اور قیامت تک کی اس نے مہلت مانگی اور اس کی یہ درخواست قبول کرتے ہوئے اللہ  عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَۙ  (۳۷)  اِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ  (۳۸)   ’’ تو ان میں   ہے جن کو اس معلوم وقت کے دن تک مہلت ہے۔ ‘‘  یعنی جس دن پہلی مرتبہ صور پھونکا جائے گا اور تمام مخلوق مر جائے گی اس دن تک تمہیں   مہلت ہے۔ معلوم ہوا شیطان کے مُردہ رہنے کی مدت نَفْخَۂ اُولٰی سے نَفْخَۂ ثَانِیَہ   (یعنی پہلے صور پھونکنے سے دوسرے صور پھونکنے)   تک چالیس برس ہے اور اس کو اس قدر مہلت دینا اس کے اِکرام   (عزت)   کے لیے نہیں   بلکہ اس کی بلا و شقاوت   (بدبختی)   اور عذاب کی زیادتی کے لیے ہے۔ شیطان بولا: رَبِّ بِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاُزَیِّنَنَّ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ  (۳۹)   اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ  (۴۰) ’’ اے میرے ربّ   (عَزَّ وَجَلَّ! قسم اس کی کہ تو نے مجھے گمراہ کیا! میں   ان کے دلوں   میں   وسوسے ڈال کر گناہوں   کی رغبت دلاؤں   گا اور ضرور تیرے چُنے ہوئے بندوں   کو چھوڑ کر باقی سب کو بے راہ کر دوں   گا۔ ‘‘  یعنی جن لوگوں   کو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے اپنی توحید و عبادت کے لئے برگزیدہ فرما لیا ان پر شیطان کا وسوسہ اور دھوکا نہ چلے گا،  پس اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے بھی ارشاد فرمایا: اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِیْنَ  (۴۲)    ’’ بیشک میرے بندوں   پر تیرا کچھ قابو نہیں   سوا ان گمراہوں   کے جو تیرا ساتھ دیں  ۔ ‘‘  یعنی جو کافِر تیرے مطیع و فرمانبردار ہو جائیں   گے اور تیرے اِتِّباع کا قصد کر لیں   گے ان سب کا ٹھکانا جہنّم ہے۔   ([1]

خیر و شر کی جنگ

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! تاریخ گواہ ہے کہ مخلوق کو گمراہ کرنے کے لیے بارگاہِ خداوندی سے دُھتکارے ہوئے ابلیس لعین نے ہر دور میں   گمراہی و بے دینی کے نئے نئے انداز و اطوار اپنائے اور متعارف کروائے۔ جب سے خیر و شر کی یہ جنگ شروع ہوئی ہے شر کے پھیلانے کے لئے شیطان اپنے پیروکاروں   کے ساتھ مل کر مسلسل اس کوشش میں   مگن ہے کہ راہِ حق سے وابستہ لوگوں   کو بھٹکانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ پائے۔ چنانچہ،  حضرت سیِّدُنا آدم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ابلیس سے شروع ہونے والا حق وباطل کا یہ معرکہ ہر زمانے میں   مختلف صورتوں   میں   موجود رہا لیکن فتح ہمیشہ حق کی ہوئی اور ہر بار باطِل کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا کیونکہ اللہ   عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:

وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُؕ-اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا  (۸۱)     (پ۱۵،  بَنِی اِسراء یل:۸۱) 

ترجمۂ کنز الایمان: اورفرماؤ کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا۔ بے شک باطل کو مٹنا ہی تھا۔

پیارے اسلامی بھائیو! دین اِسلام و ہ مبارک دین ہے جسے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے اِنسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے پسند فرمایا اور اس دِین کی حفاظت کے لیے ہردور میں   ایسے اَفراد پیدا کئے جنہوں   نے نہ صرف اِس دین متین پر خود عمل کیا بلکہ دوسروں   تک اس کی تعلیمات پہنچانے اور نیکی کی دعوت عام کرنے کی بھرپور کوشش بھی فرمائی۔

کچھ ایسے ہی حالات پندرھویں   صدی ہجری میں   مسلمانوں   کو درپیش تھے۔ اس پُرفِتَن دور میں   عام لوگ ضروری دینی معلومات سے محروم اور الیکٹرونک و پرنٹ میڈیا   (Electronic & Print Midea)   کے ذریعے پھیلنے والے فحاشی و عریانی کے بُرے اَثرات میں   گرفتار تھے۔ دین اسلام کے زریں   اصولوں   اور


 

 



[1]    کنز الایمان مع خزائن العرفان،  پ۱۴،  الحجر: ۳۵ تا ۴۳



Total Pages: 157

Go To