Book Name:Ameer e Ahlesunnat Ki Deeni Khidmat

  (1)   اسلامی بہنوں   میں   مدنی انقلاب

حضرت سیدنا آدم عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پیدائش کے بعد نسلِ انسانی کی بڑھوتری کے لئے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سیدتنا حوا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو پیدا فرمایا۔ چنانچہ،  فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

یٰۤاَیُّهَا  النَّاسُ   اتَّقُوْا  رَبَّكُمُ  الَّذِیْ  خَلَقَكُمْ  مِّنْ  نَّفْسٍ  وَّاحِدَةٍ  وَّ  خَلَقَ  مِنْهَا  زَوْجَهَا  وَ  بَثَّ  مِنْهُمَا  رِجَالًا

  كَثِیْرًا  وَّ  نِسَآءًۚ-وَ  اتَّقُوا  اللّٰهَ  الَّذِیْ  تَسَآءَلُوْنَ  بِهٖ  وَ  الْاَرْحَامَؕ-اِنَّ  اللّٰهَ  كَانَ  عَلَیْكُمْ  رَقِیْبًا  (۱) 

ترجمۂ کنز الایمان: اے لوگو اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں   ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں   سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں   سے بہت سے مرد و عورت پھیلادیئے اور اللہ  سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں   کا لحاظ رکھو بے شک اللہ  ہر وقت تمہیں   دیکھ رہا ہے ۔   (پ۴،  النساء:۱) 

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! انسان نے تاریخ میں   مرورِ زمانہ   (گزرتے زمانہ)   کے ساتھ ساتھ بے شمار عروج و زوال کی داستانیں   رقم کیں  ،  کبھی اس کا شمار بابل و نینوا اور گندھارا جیسی متمدن قوموں   میں   ہوا تو کبھی تہذیب و تمدن سے عاری افریقہ کے وحشی و درندہ صفت لوگوں   میں  ۔ طاقتور ہمیشہ کمزور پر غلبہ پانے کی فکر میں   رہا کہ اچانک فاران کی چوٹیوں   سے آفتابِ عالم تاب انسانیت کے لیے تکریم،  وقار اور حقوق کے تحفظ کا پیغامِ جانفزا لے کر طلوع کیا ہوا اس کی کرنوں   نے نوعِ انسانی کو ایک نئے دور میں   داخل کر دیا۔ اسلام سے قبل معاشرے کا ہر کمزور طبقہ طاقتور کے زیرِ نگیں     (محکوم)   تھا۔ جن میں   عورتوں   کی حالت سب سے زیادہ ناگفتہ بہ   (نا قابلِ بیان)   تھی۔ مگر اسلام نے روزِ اوّل سے عورت کے مذہبی،  سماجی،  معاشرتی،  قانونی،  آئینی،  سیاسی اور انتظامی کردار کا نہ صرف اعتراف کیا بلکہ اس کے جملہ حقوق کی ضمانت بھی فراہم کی۔ چنانچہ،  

اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:

اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا  (۳۵) 

ترجمۂ کنز الایمان: بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں   اور ایمان والے اور ایمان والیاں   اور فرمانبردار اور فرمانبرداریں   اور سچّے اور سچّیاں   اور صبر والے اور صبر والیاں   اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں   اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں   اور روزے والے اور روزےوالیاں   اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں   اور اللہ  کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں   ان سب کے لئے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ۔   (پ۲۲،  الاحزاب: ۳۵) 

صدر الافاضل حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی   ’’ خزائن العرفان ‘‘  میں   اس آیتِ مبارکہ کا شانِ نزول بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں   کہ  ’’    (حضرت سیدتنا)   اسماء بنتِ عمیس   (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا جب اپنے شوہر   (حضرت سیدنا)   جعفر بن ابی طالب   (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ حبشہ سے واپس آئیں   تو ازواجِ نبی ٔ کریم   (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ سے مل کر انہوں   نے دریافت کیا کہ کیا عورتوں   کے باب میں   بھی کوئی آیت نازل ہوئی ہے؟  انہوں   نے فرمایا: نہیں   تو   (حضرت سیدتنا)   اسماء   (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  نے حضور سیدِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عرض کیا کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عورتیں   بڑے ٹوٹے   (خسارے)   میں   ہیں  ۔ فرمایا کیوں  ؟  عرض کیا کہ ان کا ذکر،  خیر کے ساتھ ہوتا ہی نہیں   جیسا کہ مَردوں   کا ہوتا ہے۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور ان کے دس مراتب مَردوں   کے ساتھ ذکر کئے گئے اور ان کے ساتھ ان کی مدح فرمائی گئی اور مراتب میں   سے پہلا مرتبہ اسلام ہے جو خدا اور رسول   (عَزَّ وَجَلَّ  وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی فرمانبرداری ہے،  دوسرا ایمان کہ وہ اعتقادِ صحیح اور ظاہر و باطن کا موافق ہونا ہے،  تیسرا مرتبہ قنوت یعنی طاعت ہے۔ چوتھا مرتبہ صدقِ نیّات و صدقِ اقوال و افعال ہے ،  اس کے بعد پانچویں   مرتبہ صبر کا بیان ہے کہ طاعتوں   کی پابندی کرنا اور ممنوعات سے احتراز رکھنا خواہ نفس پر کتنا ہی شاق اور گراں   ہو رضائے الٰہی کے لئے اختیار کیا جائے ،  اس کے بعد پھر چھٹے مرتبہ خشوع کا بیان ہے جو طاعتوں   اور عبادتوں   میں   قلوب و جوارح   (دل کے علاوہ دیگر جسمانی اعضاء)   کے ساتھ



Total Pages: 157

Go To