Book Name:Ameer e Ahlesunnat Ki Deeni Khidmat

حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نہ صرف خود زبردست عالِم تھے بلکہ علمِ دین اور علما کے قدر دان بھی تھے۔ چُنانچِہ فرماتے ہیں  :

اِنِ اسْتَطَعْتَ فَکُنْ عَالِمًا فَاِنْ لَّمْ تَسْتَطِعْ فَکُنْ مُتَعَلِّمًا فَاِنْ لَّمْ تَسْتَطِعْ فَاَحِبَّھُمْ فَاِنْ لَّمْ تَسْتَطِعْ فَلاَتَبْغُضْھُم

یعنی اگر تم سے ہو سکے تو عالم بنو،  یہ نہ ہو سکے تو مُتَعَلِّم بنو،  یہ بھی نہ ہو سکے تو علمائے کرام سے محبت رکھو اوریہ بھی نہ ہو سکے تو کم از کم ان سے بغض تو نہ رکھو۔ پھر فرمایا: جس نے اس نصیحت کو قبول کرلیا، اس کے لئے نجات کا کوئی راستہ نکل ہی آئے گا،  اِنْ شَآءَاللہ  عَزَّ  وَجَلَّ  ۔   ([1]

مجھ کو اے عطّارؔ سُنّی عالِموں   سے پیار ہے

                                                                    اِن شاء اللہ  دوجہاں   میں   میرا بیڑا پار ہے  ([2]

عالم کی تعظیم کاصِلہ:

 ایک شخص کو انتِقال کے بعد کسی نے خواب میں   دیکھ کر پوچھا : ما فَعَلَ اللہ  بِکَ؟  یعنی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نے آپ کے ساتھ کیا سُلوک فرمایا؟  جواب دیا ،  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے میری مغفِرت فرما دی۔ خواب دیکھنے والے نے پوچھا :کو ن سا عمل کام آگیا؟  جواب دیا: ایک بار حضرتِ سیِّدُنا امام احمد بن حَنبل عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْاَوّل دریا کے کَنارے وُضُو فرما رہے تھے اور وَہیں   میں   بُلندی کی طرف وُضُو کرنے بیٹھ گیا،  جب میری نظر امام صاحِب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پر پڑی تو تعظیماً نیچے کی جانب آگیا۔ بس یِہی عمل کام آ گیا اور میں   بخشا گیا۔   ([3]

اعلیٰ حضرت،  امام اہلسنت،  مجدد دین و ملت،  پروانۂ شمع رسالت،  مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَحْمٰن فرماتے ہیں  :عالِمِ دِین ہر مسلمان کے حق میں   عُمُوماً اور اُستادِ علم دین اپنے شاگرد کے حق میں   خُصُوصاً نائبِ حُضُور پُرنُور سیِّدعالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے۔   ([4]

فرامین امیراہلسنت:

٭اِسلام میں   عُلَمائے حق کی بَہُت زیادہ اَہمیت ہے کہ یہ اَنبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے علم کے وارِث اور جانشین ہیں  ،  یہی وجہ ہے کہ مَیں   نہ صرف خود علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کا اَدَب و اِحترام کرنے کی سعادت حاصل کرتا ہوں   بلکہ دوسروں   کو بھی اس کی تلقین کرتا ہوں  ۔

٭… اگر علمِ دِین کے مدارس و جامعات ختم کر دیئے جائیں   تو مسلمان کفریہ عقائد میں  مبتلا ہو جائیں   گے،  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی عبادت کا صحیح طریقہ جو سرکارِ مدینہ،  قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مسلمانوں   کو تعلیم فرمایا ہے وہ نہیں   جان پائیں   گے۔

٭… اس دِین کی اِشاعت و ترقّی کے لئے علمائے حق کا وُجُودِ مَسْعُود کس قدر ناگزیر ہے،  ان کے بغیر واللہ ! ہم کسی کام کے نہیں   اور ان کے قدموں   میں   پڑے رہیں   گے تو اِنْ شَآءَاللہ  عَزَّ  وَجَلَّ  نجات کی صورت نکل ہی آئے گی۔

٭علمائے اہلسنّت کو ہماری نہیں  ، ہمیں   علما کی ضرورت ہے ،  یہمَدَنی پھول ہر دعوتِ اسلامی والے کی نَس نَس میں   رچ بس جائے۔  ’’ علما کے قدموں   سے ہٹے تو بھٹک جاؤ گے۔ ‘‘

امیر اہلسنت کے عطا کردہ مدنی پھول:

شیخ طریقت،  امیر اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ایک مدنی مذاکرہ میں   علمائے کرام کے متعلق درج ذیل مدنی پھول عطا فرمائے:

٭دعوتِ اسلامی علمائے کرام کے قدموں   کی دُھول کی برکت ہے ۔

٭…  علمائے کرام کے بغیر میرا گزارا نہیں  ۔

٭… علمائے کرام میری برادری ہیں  ۔

 



[1]    سیرت عمر بن عبد العزیز لابن عبد الحکم،  ص۱۱۳

[2]    وسائل بخشش،  ص۶۴۶

[3]    وسائل بخشش،  ص۶۴۶

[4]    تذکرۃ الاولیاء،  ص ۱۹۶



Total Pages: 157

Go To