Book Name:Ameer e Ahlesunnat Ki Deeni Khidmat

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان کو ایسا طمانچہ مارا کہ ان کا چہرہ خون سے لہو لہان ہو گیا۔ بہن نے صاف صاف کہہ دیا کہ عمر! سن لو ، تم سے جو ہو سکے کر لو مگر اب اسلام دل سے نہیں   نکل سکتا۔ حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بہن کا خون آلودہ چہرہ دیکھا اور ان کا عزم و استقامت سے بھرا ہوا یہ جملہ سنا تو ان پر رقت طاری ہو گئی اور ایک دم دل نرم پڑ گیا۔ خاموش ہو کر بیٹھ گئے کہ اچانک ایک کونے میں   قرآنِ کریم کے چند اوراق پر نظر پڑی،  پوچھا: اچھا تم لوگ جو پڑھ رہے تھے مجھے بھی دکھاؤ۔ چونکہ حضرت عمر کا شمار عرب کے ان افراد میں   ہوتا تھا جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے،  مگر بہن نے ڈرتے ہوئے کہ کہیں   ضائع نہ کر دیں   قرآنِ کریم کے اوراق دینے سے انکار کر دیا تو آپ نے وعدہ فرمایا کہ میں   کچھ نہیں   کروں   گا بلکہ صرف دیکھنا چاہتا ہوں   کہ تم لوگ کیا پڑھ رہے تھے۔ بہن نے لہجے میں   نرمی پائی تو بولی: ان پاک اوراق کو چھونے سے پہلے غسل یا وضو کر لیں  ۔ چنانچہ حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے وضو کے بعد ان اوراق کو دیکھا تو اس آیتِ مبارکہ پر نظر پڑی:

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ  (۱)     (پ۲۷،  الحدید:۱) 

ترجمۂ کنز الایمان: اللہ  کی پاکی بولتا ہے جو کچھ آسمانوں   اور زمین میں   ہے اور وہی عزت وحکمت والا ہے۔اس آیت کا ایک ایک لفظ صداقت کی تاثیر کا تیر بن کر دل کی گہرائی میں   پیوست ہوتا چلا گیا اور جسم کا ایک ایک بال لرزہ براندام ہونے لگا۔ جب اس آیت پر پہنچے:   (اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ   ([1] تو بالکل ہی بے قابو ہو گئے اور بے اختیار پکار اٹھے:

اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہ  وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ ﷲ

یہ وہ وقت تھا کہ حضور اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت ارقم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے گھر تشریف فرما تھے،  حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بہن کے گھر سے نکلے اور سیدھے حضرت ارقم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مکان پر پہنچے تو دروازہ بند پایا،  کنڈی بجائی،  اندر کے لوگوں   نے دروازہ کی جھری سے جھانک کر دیکھا تو حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ننگی تلوار لئے کھڑے تھے۔ لوگ گھبرا گئے اور کسی میں   دروازہ کھولنے کی ہمت نہیں   ہوئی مگر حضرت حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بلند آواز سے فرمایا کہ دروازہ کھول دو اور اندر آنے دو اگر نیک نیتی کے ساتھ آیا ہے تو اس کا خیر مقدم کیا جائے گا ورنہ اسی کی تلوار سے اس کی گردن اڑا دی جائے گی۔

حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اندر قدم رکھا تو حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خود آگے بڑھ کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا بازو پکڑا اور فرمایا: اے     خطاب کے بیٹے! تو مسلمان ہو جا آخر تو کب تک مجھ سے لڑتا رہے گا؟  حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بہ آواز بلند کلمہ پڑھا ۔حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مارے خوشی کے نعرہ تکبیر بلند فرمایا اور تمام حاضرین نے اس زور سے ﷲ اکبر کا نعرہ لگایا کہ مکہ مکرمہ زَادَہَااللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًا کی پہاڑیاں   گونج اٹھیں  ۔ پھر حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کہنے لگے کہ یا رسول ﷲ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! یہ چھپ چھپ کر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کرنے کے کیا معنی؟  اٹھئے! ہم کعبہ میں   چل کر عَلَی الْاَعْلَان اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کریں   گے اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! میں   کفر کی حالت میں   جن جن مجلسوں   میں   بیٹھ کر اسلام کی مخالفت کرتا رہا ہوں  اب ان تمام مجالس میں   اپنے اسلام کا اعلان کروں   گا۔

پھر حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی جماعت کو لے کر دو قطاروں   میں   روانہ ہوئے۔ ایک صف کے آگے آگے حضرت حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ چل رہے تھے اور دوسری صف کے آگے آگے حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تھے۔ اس شان سے مسجد حرام میں   داخل ہوئے اور نماز ادا کی اور حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حرمِ کعبہ میں   مشرکین کے سامنے اپنے اسلام کا اعلان کیا۔ یہ سنتے ہی ہر طرف سے کفار دوڑ پڑے اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو مارنے لگے اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی ان لوگوں   سے لڑنے لگے۔ ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔

اتنے میں   حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ماموں   ابو جہل آ گیا۔ اس نے پوچھا کہ یہ ہنگامہ کیسا ہے؟  لوگوں   نے بتایا کہ حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مسلمان ہوگئے ہیں   اس لئے لوگ برہم ہو کر ان پر حملہ آور ہوئے ہیں  ۔ یہ سن کر ابو جہل نے حطیم کعبہ میں   کھڑے ہو کر اپنی آستین سے اشارہ کر کے اعلان



[1]    ترجمۂ کنز الایمان: اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔  (پ۲۷،  الحدید:۷)



Total Pages: 157

Go To