Book Name:Anokhi Kamae

{۱۱} گناہوں کے دلدل سے کیسے نکلی؟

          ایک اسلامی بہن کی تحریر کا خلاصہ ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مہکے مہکے مدنی ماحول سے وابستہ ہونے قبل میں فکرِ آخرت سے غافل ، فلموں ڈراموں کی طرف مائل، گانے باجوں سے گھایل تھی۔ اس گناہوں بھری زندگی سے نجات کی ترکیب یوں بنی کہ کسی نے شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت حضرت علاّمہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رَضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی مایہ ناز تالیف ’’ فیضانِ سنّت ‘‘  اور کچھ رسائلِ عطاریہ بطورتحفہ ہمارے گھر بھجوا دیے۔یوں علم و عرفان کے موتیوں سے لبریز تالیف ’’ فیضان سنّت ‘‘ پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ آسان و شائستہ الفاظ اور عشقِ رسول کی خوشبوؤں سے معطر ومعنبر اس تحریر نے گویا میرے اندر ایک نئی روح پھونک دی ۔جس کی برکت سے میرے اخلاق و کردار اور عمل میں دن بدن مثبت تبدیلیاں رونما ہونے لگیں۔مزید کرم یہ ہوا کہ کچھ اسلامی بہنوں کی انفرادی کوشش کی برکت سے مجھے دعوتِ اسلامی کا مشکبار مدنی ماحول میسر آگیا، جس کی برکت یہ ظاہر ہوئی کہ مجھے اپنی گناہوں بھری زندگی سے توبہ کی توفیق نصیب ہوگئی اور میں اپنی قبر وآخرت کی بہتری کے لیے سنّتوں بھری زندگی گزارنے میں مشغول ہو گئی۔ امیرِ اہلسنّت   دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے فیوض وبرکات حاصل کرنے لیے عطاریہ بن گئی۔ تادمِ تحریر علاقائی مشاورت کی ذمّہ دار کی حیثیّت سے حسبِ توفیق دینِ متین کی خدمت کر رہی ہوں۔

اسی ماحول نے ادنیٰ کو اعلیٰ کردیا دیکھو                           اندھیرا ہی اندھیرا تھا اُجالا کردیا دیکھو

اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو

صلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب!                   صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

 {۱۲}  بیماری سے شفا نصیب ہوگئی

           راولپنڈی (صوبہ پنجاب) کی ایک اسلامی بہن کا حلفیہ بیان ہے کہ مجھے دعوت ِاسلامی کے مدنی ماحول سے منسلک ہوئے تقریباً پانچ سال کا عرصہ ہو چکا ہے ۔اس سے پہلے میں 14 سال کی عمرسے ایک انتہائی تکلیف دہ مرض  میں مبتلا تھی۔ بہت علاج وغیرہ کروائے لیکن بیماری ختم ہونے کانام ہی نہیں لے رہی تھی۔ اور اسی بیماری میں تقریباً آٹھ سال کا طویل عرصہ گزر گیاتھااور حالت یہ ہو چکی تھی کہ چلنے پھرنے سے بھی قاصر ہوگئی تھی۔جس کی وجہ سے میری اور میرے گھر والوں کی پریشانی میں روز بروز اضافہ ہوتاجا رہا تھا، سب گھر والے میری صحت یابی سے مایوس ہوچکے تھے ۔ آخرکار اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل وکرم اور دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول کی برکت سے میری  اس پُر اسرار بیماری کا خاتمہ ہوگیا۔ہوا کچھ یوں کہ ایک مرتبہ جب ماہِ ربیع الاوّل شریف کا پیارا پیارا مہینہ تشریف لایا تو میں نے اپنی والدہ کے سہارے دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت حاصل کی ، سنّتوں بھرے اجتماع میں جب ذکرُ اللہ کے بعد رِقَّت انگیز  دعا کروائی گئی تو میں نے اور میری والدہ نے بھی دُعاکے لیے اپنے ہاتھوں کو اُٹھالیا اورخشوع وخضوع کے ساتھ اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں صحت یابی کی دعا کی۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِعَزَّوَجَلَّ سنّتوں بھرے اجتماع میں مانگی جانے والی دعا کی برکت ہاتھوں ہاتھ ظاہر ہوئی،  دعا کے بعد جب تمام اسلامی بہنیں صلوۃ وسلام کے لیے کھڑی ہوئیں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت پر بھروسا کرتے ہوئے میں نے ہمت باندھی اورحیرت انگیز طور پر اپنے پاؤںپربغیر کسی سہارے کے کھڑی ہوگئی اور اپنے آقا ومولیٰ صَلَّی اللہُ تَعالٰی عَلیہ واٰلہٖ و سلَّمپر صلوۃ وسلام پڑھنے لگی ۔اجتماع کے اختتام پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل وکرم سے  خود چل کر اپنے گھر واپس آئی ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی برکت سے مجھے بغیر کسی علاج کے شفا حاصل ہوگئی اور تادمِ تحریر دوبارہ تکلیف کا سامنا نہیں ہوا۔تادمِ تحریر میں نے خود کو دعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں کے لیے وقف کردیا ہے اور خوب خوب مدنی کاموں کی دھومیں مچانے میں مصروف ہوں۔

اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو

 



Total Pages: 11

Go To