Book Name:Anokhi Kamae

           بابُ المدینہ (کراچی) کے علاقے کچھی پاڑہ کی ایک اسلامی بہن کے بیان کا خلاصہ ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے قبل میں بھی عام لڑکیوں کی طرح فیشن کرنے، فلمیں ڈرامے دیکھنے کی دلدادہ ہونے کے ساتھ ساتھ بے پردگی کی آفت میں بھی گرفتار تھی۔ میری اصلاح کی صورت کچھ اس طرح بنی کہ ایک دن دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ایک اسلامی بہن سے ملاقات ہوگئی، دورانِ گفتگوانہوں نے دعوتِ اسلامی کے مشکبارمدنی ماحول کی برکتیں سنائیں تو مدنی ماحول کی اہمیت کا پتا چلا کہ دعوتِ اسلامی پراللہ عَزَّوَجَلَّ  کا کس قدرفضل و کرم ہے ۔ان اسلامی بہن نے انفرادی کوشش کے دوران کہا:  آپ اسلامی بہنوں کے سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کو اپنا معمول بنالیجئے پھر دیکھئے آپ کو کیسی برکتیں ملتی ہیں۔ ان کے ’’  میٹھے بول ‘‘  اس قدر متأثر کن تھے کہ ’’ جنّت میں لے جانے والے اعمال ‘‘  کرنے کی ہامی بھرلی۔  سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی تووہاں حیا کی فضاء دیکھ کر احساس ہوا کہ مسلمان عورت کو کیسا ہوناچاہیے؟  اجتماع میں ہونے والا پُر سوز بیان سن کر دل میں ’’ جہنم میں لے جانے والے اعمال  ‘‘  سے بچنے کی فکراجاگرہوگئی  میں خوفِ خدا سے کانپ اٹھی، مجھے اپنی سابقہ بداعمالیوں پر ندامت ہونے لگی، اجتماع کے آخرمیں ہونے والی رقت انگیز دعا نے سونے پر سہاگے کا کام کیا اور میں نے اپنے مہربان رب عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں گناہوں کی مغفرت طلب کی اور باپردہ زندگی گزارنے کی پاکیزہ سوچ کوعملی جامہ پہنانے کی نیّت سے مدنی ماحول اپنا لیا ۔اس کی برکتوں کاکچھ یوں ظہور ہونے لگا کہ فلمیں ڈرامے دیکھنے اورفیشن کرکے بے پردگی کرنے کے گناہ کبیرہ سے مجھے نفرت ہوگئی۔باپردہ رہنا میرا معمول بن گیا ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مدنی انعامات کی ذمہ دار کی حیثیت سے دعوتِ اسلامی کے مدنی کام کر رہی ہوں۔

صلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب!                   صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

{۴} میٹھے بول کی تاثیر

          بابُ المدینہ(کراچی)کی ایک اسلامی بہن کے بیان کا لُبِّ لُبَاب ہے : بدقسمتی سے مجھے دعوتِ اسلامی کا مدنی ماحول میسر نہ تھا اسی وجہ سے میں بے پردگی کی آفت میں گرفتار ، گانے باجے سننے پر نثارہونے کے ساتھ ساتھ مَعَاذَاللہ اپنے والدین کی نافرمان بھی تھی۔میری تاریک زندگی میں نیکیوں کی روشنی کچھ یوں نمودار ہوئی کہ ایک دن میری ملاقات دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ مبلغہ اسلامی بہن سے ہوگئی ، انھوں نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے اسلامی بہنوں کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت دی ، ان کا اندازِ گفتگو اور میٹھے بول  میرے دل کی گہرائیوں میں اُتر گئے۔ میں نے فوراً اجتماع میں شرکت کی نیّت کرلی۔یوں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل و کرم سے آئندہ ہفتے اسلامی بہنوں کے سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت نصیب ہو گئی ، اجتماع میں ہونے والے  سنّتوں بھرے بیان ، حلقۂ ذکرُاللہ اور اجتماعی دُعا نے میرے دل ودماغ پر گہرے نقوش چھوڑے ۔ مجھے اپنے گناہوں پرندامت اور توبہ کی توفیق نصیب ہو گئی ۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّوہ دن اورآج کا دن ! میں دعوتِ اسلامی کی ہو کر رہ گئی۔ تادمِ تحریرحلقہ سطح پر مدنی انعامات کی ذمّہ دار کی حیثیّت سے نیکی کی دعوتعام کر رہی ہوں۔

اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو

صلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب!                   صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

 {۵}  فیشن پرستی سے نجات مل گئی

           بابُ المدینہ (کراچی)کے علاقے میمن سوسائٹی میں مقیم اسلامی بہن کے تحریرکردہ بیان کا خلاصہ ہے: مدنی ماحول سے وابستگی سے قبل نت نئے فیشن اپنانا میرا محبوب مشغلہ تھا ، مَعَاذَاللہفلمیں ، ڈرامے دیکھنے، گانے باجے سننے کا بھی بے حد شوق تھا۔ نمازوں کی بھی پابندنہ تھی، غرض سرتاپا گناہوں کے سمندر



Total Pages: 11

Go To