Book Name:Madani Wasiyat Nama

10جمادی الاولی۱۴۳۴؁

2013-23-03

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!           صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

وصِیّت باعثِ مغفرت

فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:  ’’ جو وصیت کرنے کے بعد فوت ہواوہ سیدھے راستے اورسنت پر فوت ہوا اوراس کی موت تقویٰ اور شہادت پر ہوئی اوراس حالت میں مرا کہ اس کی مغفرت ہوگئی۔ ‘‘  (ابنِ ماجہ ج۳ص۳۰۴حدیث۲۷۰۱)

کفَن دفْن کاطریقہ

مَرْد کا مسنون کفَن

 (۱) لِفافہ   (۲) اِزار   (۳) قمیص

عورت کا مَسنون کفَن

مُنْدَرِجَہ بالا تین اور دو مزید  (۴) سِینہ بند  (۵) اَوڑھنی۔ خنثیٰ مشکل کو عورت کی طرح پانچ کپڑے دیے جائیں  مگر کسم یا زعفران کا رنگا ہوا اور ریشمی کفن اسے ناجائز ہے۔  (مُلَخَّص ازبہارِ شریعتج۱ ص۸۱۷، ۸۱۹، عالمگیر ی ج۱ ص۱۶۰، ۱۶۱)

کفَن کی تفصیل

 {۱} لِفافہ: یعنی چادرمیِّت کے قد سے اتنی بڑی ہوکہ دونوں  طرف باندھ سکیں   {۲}  اِزار:  (یعنی تَہبند ) چَوٹی  (یعنی سرکے سِرے) سے قدم تک یعنی لِفافے سے اِتنا چھوٹا جو بَندِش کے لئے زائد تھا  {۳} قمیص  (یعنی کَفنی)  گردن سے گُھٹنوں  کے نیچے تک اور یہ آگے اور پیچھے دونوں  طرف برابر ہو اِس میں  چاک اور آستینیں  نہ ہوں۔  مَرد کی کفن کندھوں  پر چیریں  اور عورت کے لئے سینے کی طرف {۴} سینہ بند: پستان سے ناف تک اور بہتر یہ ہے کہ ران تک ہو ۔  ([1])  (مُلَخَّص ازبہارِ شریعت ج۱ص۸۱۸ )

غُسلِ میِّت کا طریقہ

          اگر بتّیاں  یا لُوبان جلا کرتین،  پانچ یا سات بار غُسل کے تختے کو دُھونی دیں یعنی اتنی بار تختے کے گِرد پِھرائیں ، تختے پر میِّت کو اِس طرح لِٹائیں  جیسے قَبْر میں  لِٹاتے ہیں ،  ناف سے گُھٹنوں  سَمیت کپڑے سے چُھپادیں۔  (آج کل غُسل کے دَوران سفید کپڑا اُڑھاتے ہیں  اوراس پرپانی لگنے سے میِّت کے سَتْرکی  بے پردَگی ہوتی ہے لہٰذا کتَّھیٔ یا گہرے رنگ کااِتنا موٹا کپڑاہو کہ پانی پڑنے سے سَتْر نہ چمکے،  کپڑے کی دو تہیں کر لیں  تو زیادہ بہتر) اب نہلانے والا اپنے ہاتھ پر کپڑا لپیٹ کر پہلے دونوں  طرف اِستِنجاکروائے  (یعنی پانی سے دھوئے) پھر نَماز جیسا وُضو کروائیں یعنی تین بارمُنہ پھر کُہنیوں سَمیت دونوں  ہاتھ تین تین بار دُھلائیں  ،  پھر سَر کا مَسْحْ کریں ، پھر تین بار دونوں  پاؤں  دُھلائیں  ۔ میِّت کے وُضُو میں  پہلے گِٹّوں  تک ہاتھ دھونا، کُلّی کرنا اور ناک میں  پانی ڈالنا نہیں  ہے،  البتّہ کپڑے یا رُوئی کی پُھرَیْری بِھگو کر دانتوں  ،  مَسُوڑھوں ، ہونٹوں  اور نَتھنوں  پر پھَیر دیں۔  پھر سَریاداڑھی کے بال ہوں تو دھوئیں۔  اب بائیں   (یعنی اُلٹی) کَروٹ پر لِٹا کر بَیری کے پتّوں  کا جوش دیا ہوا  (جو اَب نیم گرم رہ گیا ہو) اور یہ نہ ہو تو خالِص پانی نیم گرم سَر سے پاؤں  تک بَہائیں  کہ تختے تک پَہُنچ جائے۔ پھر سِیدھی کروَٹ لِٹا کر بھی اِسی طرح کریں  پھر ٹَیک لگا کر بٹھائیں اور نرمی کے ساتھ پیٹ کے نِچلے حصّے پر ہاتھ پھَیریں  اور کچھ نکلے تو دھو ڈالیں۔ دوبارہ وُضُو اور غُسل کی حاجت نہیں  پھر آخِر میں  سَر سے پاؤں  تک تین بار کا فُور کا پانی بہائیں۔ پھر کسی پاک کپڑے سے بدن آہِستہ سے پُونچھ دیں۔



[1]      عُمُوماً تیار کفن خریدلیا جاتا ہے اسکا میِّت کے قد کے مطابق مسنون سائز کاہونا ضروری نہیں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اِتنازیادہ ہوکہ اسراف میں داخل ہوجائے ،لہٰذا احتیاط اسی میں ہے کہ تھان میں سے حسبِ ضرورت کپڑا کاٹاجائے۔



Total Pages: 7

Go To