Book Name:Faizan e Peer Meher Ali Shah

پابندی کیا کرتے تھے کیونکہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ  نے نہ صرف اُس عورت سے ہاتھ مِلانے سے گُریز فرمایا بلکہ نہایت احسن انداز میں شریعت کاحُکم بھی بیان فرمادیا۔واقعی پیر  کاعورَتوں سے ہاتھ چُموانا تو دُور رہا صِرف ان سے ہاتھ مِلائے تو اس کا عذاب بھی کم خوفناک نہیں ۔ چُنانچِہ حضرتِ فَقیہ ابو اللَّیث سَمرقندی رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہنَقل فرماتے ہیں :  دُنیا میں اَجْنَبِیَّہ عورت  سے ہاتھ مِلانے والا بَروزِ قِیامت اِس حال میں آئے گاکہ اُس کے ہاتھ اُس کی گردن میں آگ کی زنجیروں کے ساتھ بندھے ہو ں گے۔   ([1])

اچھے لباس کے لئے اچھی نیت

جب حضرت قبلہ عالم ، عارف کامل پیر سید مِہر علی شاہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ پاک پتن شرىف پہنچے اور دىوان سیدمحمد صاحب ([2])سے مُلاقات کى تو دىوان صاحب بىان کرتے ہیں کہ آپ کو دىکھ کر مىں تعظىماً اُٹھ کر ملا مگر مىرے دل مىں آپ کے مُتَعلِّق جوحسنِ ظن تھا وہ جاتا رہا کیونکہ مىرا خىال تھاکہ حضرت کے سر پر روئى کى ٹوپى ہوگى، کمر مىں نىلے ىا جو گىارنگ کا تہبند ہوگا، اور گلے مىں قدرے مىلا اور استعمال شدہ لمبا سا کرتا ہوگا، کىونکہ اس وقت تک اىک فقىر اور  و  لىُّ    اللہ کى حالت اور لباس کا ىہى نقشہ ہمارے ذہن مىں تھا مگر اُنہوں نے تو  مَاشَآءَاللہ  عَزَّ  وَجَلَّ               نہاىت خوبصورت گھنگھرىالى زلفىں، نفىس کُلاہ پر سفىد عمامہ، پارچاتِ مُصفّٰى (صاف ستھرا لباس) اورسفىد رنگ جس پر جُبّہ پہن رکھا تھا۔مىں نے سمجھا کہ دنىا دار ہىں اور اُٹھ کر ملنے پر دل ہى دل مىں افسوس بھى ہوا، لىکن حضرت نے مىرے خطرۂ دل (دل کے خیال) پر مطلع ہو کر مجلس مىں اپنے اىک عقیدت مند افسر سے مخاطب ہو کر درىافت فرماىا کہ جب آپ لوگ اپنے کسى افسر سے ملاقات کے لىے جاتے ہىں تو کىا اچھا لباس پہن کر جاتے ہىں ىا  مىلا کچىلا  اور  پھٹا پرانا ؟  اس نے عرض کىا کہ اگر ہم اچھا لباس پہن کر نہ جائىں تو افسران بُرا منائىں گے، اس پر حضرت نے فرماىا کہ جب دنىاوى افسروں کى حاضرى کے ىہ آداب ہىں تو جو دىنى پىشوا اور صاحب سجادہ ہو اس کے دربار مىں حاضرى کے آداب کا خودخیال کرلىں، نىز حدىث شرىف مىں ہے : خدا جمىل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے۔([3]) دىوان صاحب کہتے تھے کہ ىہ سُن کر مىں اپنے خطرۂ دل (دل کے خیال)  پر نادم اور پشىمان  ہوا، اور پھر عُمر بھر مىرے دل مىں حضرت کے مُتَعلِّق کبھى کسى قسم کا شک و شبہ پىدا نہىں ہوا۔([4])

دُنیا سے بے رَغبتی

آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ کی دُنىا سے بے رغبتی کا یہ عالم تھا کہ جب اپنے والدصاحب حضرت نذردین شاہ قادری رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہکے مزار پر تشریف لے جاتےتو  زائرىن کى طرف سے نذرانے اور ہداىا(تحائف) کا سلسلہ جارى رہتالىکن جب آپ اٹھ کر تشرىف لے جاتے تو اُدھر آنکھ اٹھا کر بھى نہ دىکھتے اور مىاں محمد صاحب ىا کوئى اور ان نذرانوں کو اٹھا کر غلام محمد صاحب لنگرى کو دے آتا (اور وہ لنگرِغوثیہ کے اخراجات میں انہیں صَرف کرتے)اسى طرح سفر مىں بعض اسٹىشنوں پر گاڑى رُکنے کے دوران بھی تحائف کی ىہی کىفىت ہوتى تھى مگر آپ کى طرف سے کوئى حساب ىا نگہداشت ان چىزوں کى نہىں ہوتى تھى جو کچھ اکٹھا ہوتا لنگر خانے کا انتظام کرنے والا اپنے پاس رکھتا اور لنگر وغىرہ پر خرچ کرتا رہتا۔([5])

دینی کاموں میں اہلیہ کا تعاوُن

حضرتِ قبلہ عالمقُدِّسَ  سِرُّہُ نے اىک مرتبہ اپنى اہلىہ محترمہ کے اوصافِ حمىدہ کا اظہار کرتے  ہوئےفرماىا کہ مجھے علم و فقر مىں جو کچھ حاصل ہوا ہے اُس کے اسباب میں اِس خاتون کے صبر و قناعت اور خُدا پرستى کا بڑا حصہ ہے، اس نے مجھے طلبِ مولىٰ کى راہ مىں آزاد چھوڑ دىا اورکبھى اپنے مطالبات سے مىرے راہ مىں حائل نہىں ہوئى، حضرت کے وسىع حلقہ ارادت کے مستورات مىں حضرت مائى صاحبہ کى بے نفسى خدا پرستى اور قبولىت دُعا کے تذکرے آج تک زبان زد خلق ہىں، وہ قبلہ عالم قُدِّسَ  سِرُّہُ کے وصال کے بعد تھوڑے عرصہ تک ہى زندہ رہىں مگر ان کى تربىت کا اثر اس گھرانے مىں ابھى تک جارى و سارى ہے۔([6])

اسلامی بہنوں کو چاہئے کہ بیان کردہ واقعے سے درس حاصل کرتے ہوئے نہ صرف خود دعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں میں حصہ لیں بلکہ اپنے بہن بھائیوں اور دیگر محرموں کو بھی مدنی کاموں کی رغبت دلائیں نیز خاص طور پر اپنے بچوں کے والد صاحب کے ساتھ مدنی کاموں میں ہرمُمکن تعاون فرمائیں۔

اساتذہ کا ادب واحترام

حضرت پیر سید مِہر علی شاہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہنے جہاں جہاں تعلىم حاصل کی وہاں  کے تمام لوگوں کا آپ بے حد احترام فرماتے تھے، اساتذہ کی اولاد کے احترام کى تو حد ہى نہ تھى، انگہ کے اُستاذحافظ سلطان محمود سیالویرَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ کے صاحبزادہ مولاناشمس الدىن صاحب کو آپ خود بخارى شرىف پڑھاىا کرتے اور جب ان کا انتقال ہوا تو ان کى تعزىت کے لىے انگہ تشرىف لے جا کر وہاں اپنے خرچ سے وسىع پىمانے پرکھانا پکوا کر تقسىم فرماىا، اس کے بعد پوری زندگی ان کے سارے کنبے کى خبر گىرى فرماتے رہے، انگہ کا کوئى آدمى ملنے آتا تو اس کا خاص خىال فرماتے بلکہ وادى سون کا پورا علاقہ حافظ سلطان محمودصاحب کى وجہ سےحضرت کے نزدىک قابل احترام ہوگىا تھا۔ ([7])

حضرت پیر سیّد مِہر علی شاہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّاور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکی بہت کرم نوازیاں تھیں یہی وجہ ہے کہ وقتاً فوقتاً خَلقِ خُدا آپ کے کمالات اور فُیوض و برکات سے مستفیض ہوتی رہی آئیے اپنے دل میں اولیاءُاللہ کی مَحبّت و عقیدت مزید بڑھانے کے لئے آپ کی کرم نوازیوں اور کرامات کے بارے میں چند واقعات مُلاحظہ کیجئے۔

(1)نسبت کی برکت

 



[1]       قُرّۃُ العیون مع روض الفائق ص ۳۸۹، مکتبۃ العربیہ کوئٹہ

[2]      حضرت سیِّدُنا فریدُ الدّین مسعود گنجِ شکر رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے سجّادہ نشین کو دیوان صاحب کہا جاتا ہے۔

[3]       مسلم، کتاب الایمان، باب تحریم الکبر وبیانه، ص۶۰، حدیث : ۱۴۷، دار ابن حزم

[4]        مِہر منیر، ص۲۹۱

[5]        مِہر منیر، ص۳۱۴

[6]         مِہر منیر، ص۳۱۵

[7]         مِہر منیر، ص۳۱۶



Total Pages: 8

Go To