Book Name:Fatawa Razawiyya jild 27

فصل اوّل

نافرّیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر بارہ دلیلیں۔

 

 رَدِّ اوّل:اقول:ابتداء اتنا ہی بس کہ نافریت بے دلیل ہے اور دعویٰ بے دلیل باطل و علیل اور پتھر کی مثال کا حال نمبر۴۔میں گزرا وہی اس کے حال کی کافی مثال ہے۔

 رَدِّ دوم:اقول:مرکز دائرہ سے محیط کے نقطہ پر خط قاطع اب کھینچو اور، ہ ب، کے دونوں طرف اس کے مساوی چھ خط جن میں، ح ہ، ء ہ، مماس ہوں اور، ر ہ ح ہ ط، ہ ی ہ، ان دونوں قائموں کی برابر تقسیم کرنے والے، اور سب کو، ا، سے ملادو۔ظاہر ہے کہ ان میں ہر خط اپنے نظیر کے مساوی ہوگا اور، ا ح سے ا ر، ار سے اح، ا ح سے ا ب، بڑا ہوگا۔یوں ہی، ای سے اط، اط سے اب،

اس لیے کہ مثلثات، ا ہ ح، ا ہ ر اہ ح، میں مشترک۔اور، ہ ح، ہ رہ، ہ ح، برابر ہیں۔اور ہ پر کا زاویہ بڑھتا گیا ہے کہ ہر پہلا دوسرے کا جز ہے لاجرم، ا ح، ار، اح، قاعدے بڑھتے جائیں گے(اقلیدس مقالہ شکل ۲۴)رہا، ا ب، ح ب، ملادیا تو مثلث متساوی الساقین ح ہ ب کے دونوں زاویہ ح ب مساوی ہوئے اور ظاہر ہے کہ مثلث ا ح ب میں زاویہ ح جس کا وتر اب ہے زاویہ ہ ح ب سے بڑا ہے۔تو ا ح کہ چھوٹے زاویہ کا وتر ہے اب سے چھوٹا ہے۔(شکل ۱۹)غرض ان میں سب سے زیادہ مرکز سے دوری ب کو ہے باقی جتنا مماس کی طرف آؤ مرکز سے قرب ہے کہ اب زمین نقطہ ہ پر تھی اور نافریت کے سبب اس نے مرکز سے دور ہونا چاہا واجب ہے کہ خط ہ ب پر ہٹے کہ اسی طرح مرکز سے بعد محض ہے اور سب بعد اضافی ہیں کہ ایك وجہ سے بعد ہیں تو دوسری وجہ سے قرب ہیں بعد محض چھوڑ کر ان میں سے کسی کو کیوں لیا یہ ترجیح مرجوح ہوئی پھر اس میں جس خط پر جائے دوسری طرف اس کا مساوی موجود ہے ادھر کیوں نہ گئی ترجیح بلا مرجح ہے اور دونوں باطل ہیں زمین


 

 



Total Pages: 682

Go To