Book Name:Fatawa Razawiyya jild 20

وظاھر ان البیع للقرب لیس من التمول فی شیئ فلا وجہ لمنعہ بل ہو قربۃ لکونہ فعل لا جل قربۃ، فیکون اقامۃ للمطلوب الشرعی لادخولا فی الوجہ المنھی، الا تری الی ماقال الامام العلامۃ فخر الدین الزیلعی فی تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق لو باعہا بالدراہم لیتصدق بہا جاز لانہ قربۃ کالتصدق [1]اھ فانما علل الجواز بکونہ قربۃ،ومانحن فیہ ایضا کذلک،فیکون مثلہ فی حکم الجواز بکونہ قربۃ،ومانحن فیہ ایضا کذلک،فیکون مثلہ فی حکم الجواز،ویالیت شعری من این یحکم بوجوب التصدق مع انہ لم یکن معینا فی القربان راسا ولا حدث اٰخر ما یوجبہ عینا بخلاف ما اذا باع بالدراہم لینفقہا علی نفسہ وعیالہ حیث یجب التصدق لحدوث التمول المنہی عنہ۔

اقول:والسرفی ذٰلك مایستفاد من کلمات العلماء الکرام ان اصل القربۃ فی الاضحیۃ انما تقوم باراقۃ الدم لوجہ اﷲ

وجہ المتول"ہے"یہی بات بنایہ وغیرہ کتب کبارمیں ہے۔تو ثابت ہو اکہ کھال کی وہی بیع منع ہے جو اپنی ذات کے نفع کے لئے دراہم یا برتنے سے ختم ہوجانے والی چیز کے بدلے میں ہو اور یہ امر بالکل ظاہر ہے کہ کار ثواب کے لئے بیچنے کا ا س سے کچھ علاقہ نہیں،توایسی بیع ممنوع ہونے کی کیا وجہ ہے بلکہ یہ تو اسی مقصد کے حصول کا ذریعہ ہے جس کے لئے قربانی ہوئی،تو اس کو بدرجہ اولٰی جائز ہونا چاہئے۔

علامہ فخر الدین زیلعی اپنی شرح کنز میں فرماتے ہیں:"اگر کھال کو صدقہ کرنے کی نیت سے بیچا تو جائز ہے۔کیونکہ یہ کار ثواب ہے۔جیسے گوشت ہی صدقہ کردیتا۔"امام زیلعی نے اپنے کلام میں بیع الدراہم کے جواز کی وجہ مطلقًا کارثواب بتایا،بیع مسئولہ بھی کار ثواب کے لئے ہی ہے،پھر اس کے نا جائز ہونے کی کیا وجہ ہے۔یہ بلاشبہ جائز ہے۔ایسے پیسوں کا صدقہ واجب قرار دینا بالکل بے اصل بات ہے۔جب خود قربانی کے گوشت اور کھال کا صدقہ کرنا واجب نہیں،تو اس کے دام کا صدقہ کس طرح واجب ہوگا،جبکہ صدقہ کو واجب کرنے والی کوئی نئی چیز پیدا بھی نہ ہوئی۔ہاں وہ بیع بالدراہم جو اپنی ذات کے

 


 

 



[1] تبیین الحقائق کتا ب الاضحیہ المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ بالاق مصر ۶/ ۹



Total Pages: 630

Go To