Book Name:Fatawa Razawiyya jild 20

الی اﷲ تعالٰی بالقرابین،نعم اذا باعہ بالدراہم لالمال یتمول او ربح یتحصل،بل لیصرفہ الی وجوہ القرب،ومرضات الرب،جازلہ ذالك وان لم یوجد تملیك ھنالک،فان المطلوب فی الاضاحی مطلق التقرب دون خصوص التملیك من الفقیر ولذا جازت الاباحۃ ولو لغنی۔

والمعنٰی المانع فی البیع انما ہو التصرف علی قصد التمول کما نص علیہ الائمۃ الاعلام،قال فی الہدایۃ لایشتری بہ مالا ینتفع بہ الاباستھلاکہ کالخل والابازیر اعتبارا بالبیع بالدراہم والمعنی فیہ انہ تصرف علی قصد التمول [1] اھ۔

وفی مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر لا یبیعہ بالدراہم لینفق الدراہم علی نفسہ وعیالہ والمعنی انہ لا یتصرف علی قصد التمول [2] اھ ومثلہ فی البنایۃ شرح الہدایۃ للعلامۃ البدر وغیرہ من اسفار العلماء، الغر،

 

جب تك لوگ خدا کے لئے قربانی کرتے رہیں،قربانی کی کھال کو تمول کی غرض سے نہ بیچاہو بلکہ کار ثواب میں صرف کرنے کی غرض سے بیچا ہو،تو یہ بھی جائزہے اور ان مصارف میں اس کا صرف کرنا بھی جائز ہے،اگر چہ وہاں فقیر کو مالك نہ بنایا گیا ہو،کیونکہ قربانی کا مقصد مطلق کا ر ثواب ہی ہے۔ فقیر کو مالك بنانا نہیں،اسی لئے قربانی کا گوشت وغیرہ مالدارکو دینا بھی جائز ہے۔

اصل میں قربانی کی کھال کی بیع اس وقت منع ہے جب اس کو اپنی ذات کے تمول کے لئے بیچا ہو،اسی کی علماء اعلام کے کلام میں تصریح ہے صاحب ہدایہ فرماتے ہیں:

مسئلہ کے جزئیات:"قربانی کی کھال سے ایسی چیز نہ خریدے جس کو فنا کئے بغیر اس سے فائدہ نہ اٹھایا جاسکے جیسے سرکہ یاغلہ سے بدلنا(کہ ان کو ختم کرکے ہی ان سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے)دراہم کے ساتھ بیع کرنے کی ممانعت کی وجہ بھی یہی ہے کہ ا س نے کارثواب کی چیز کو اپنی ذات کے نفع اور مالداری کے لئے برتا"۔

مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر میں ہے:"روپیہ کے بدلے بیچنا اس وقت منع ہے کہی وہ روپیہ اپنے اور بال بچوں پرصرف کرکے کہ یہی"تصرف علی

 


 

 



[1] الہدایہ کتاب الاضحیۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۴۸

[2] مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۵۲۱



Total Pages: 630

Go To