Book Name:Fatawa Razawiyya jild 20

المذکور کما افتی بہ الخیرالرملی والشیخ اسمعیل ویاتی مثلہ عن المعروضات [1]۔

یہ ہے کہ ہاں اس سے اس عمارت پر مبنی حق ختم ہوجائے گا، جیسا کہ خیرالدین رملی اور شیخ اسمعیل نے یہ فتوٰی دیاہے اور معروضات سے اس کی مثل آئیگا(ت)

اور اگر زمین مملوك ہے۔جیسے عام دیہات کی زمین کہ زمیندار کی ملك ہوتی ہے تو اس میں شرعا ہر گز کبھی کسی طرح کاشت کار کو حق قرار ثابت نہ ہوگا اگر چہ اس نے اس میں باغ بھی لگایا،عمارت بھی بنائی ہو،جب اجارہ یعنی اس کے پٹہ کی مدت ختم ہو گئی زمیندار کو اختیار ہوگا کہ زمین اس سے نکال لے اور اس کے درخت وعمارت کی نسبت اسے حکم دے کہ زمین خالی کردے اور درختوں کے کاٹنے عمارت کے کھودنے میں زمین کا زیادہ نقصان دیکھے تو کٹنے کھودنے کے بعد جو قیمت ان درختوں اور عمارت کی ہو اس سے کٹوانے کھدوانے کی اجرت مجرا کرکے کاشتکار کو دے دے،اور پیڑاو رعمارت خود لے لے،اور اگر کاشت کار سے کوئی مدت معین نہیں ٹھہری،یونہی سال بسال کاشت کرتا ہے تو ہر ختم سال پر زمیندار کو زمین خالی کرانے اور آئندہ اسے زراعت کی ممانعت کردینے کا اختیار ہوگا اگرچہ کاشت کرتے پچاس برس گزر گئے ہوں،عقود ریہ میں ہے:

قال فی التجنیس رجل اشتری من رجل سکنی لہ فی حانوت رجل اخرمرکبا بمال معلوم لصاحب الحانوت ان یکلف المشتری رفع السکنی وان کان علی المشتری ضررلانہ شغل مبلکہ [2]۔

تجنیس میں فرمایا کہ ایك شخص نے دوسرے شخص کی دکان میں رہائشی انتظام کررکھا تھا تو اس رہائشی شخص سے کسی تیسرے شخص نے اس کا وہ رہائشی انتظام خرید لیا کچھ مال کے بدلے قبضہ لیا تو دکان کے مالك کو حق ہے کہ وہ اس مشتری کو رہائش اٹھانے پر مجبور کردے اگر چہ مشتری کو ضرر بھی ہو کیونکہ مشتری نے اس کی ملکیت کو مشغول کررکھاہے۔ (ت)

اسی میں ہے:

لکن اذا کان ہذ الجدك المسمی بالمسکنے قائما فی ارض وقف،فہو من قبیل مسألۃ البناء اوالغرس فی الارض المحتکرۃ لصاحب الاستبقاء باجرۃ مثل الارض

لیکن یہ جدك جس کو سکنی کہتے ہیں اگر وقف زمین میں ہو تو ہو کرایہ کی زمین پر عمارت اور پودے لگانے کے مسئلہ کی طرح ہے ا سے اگر وقف زمیں کو ضرر نہ ہو تو اس کو مثلی اجرت کے ساتھ زمین

 


 

 



[1] العقود الدریۃ کتاب المساقات باب مشد المسکۃ ارگ بازار قندہار افغانستان ۲/ ۲۲۲

[2] العقود الدریۃ کتاب المساقات باب مشد المسکۃ ارگ بازار قندہار افغانستان ۲/۲۱۸



Total Pages: 630

Go To