Book Name:Fatawa Razawiyya jild 20

صارلہ فیہا حق القرار،وھو المسمی بالکردار،لہ الاستبقاء باجرالمثل [1]۔

پودے لگائے تو اس کو اس زمین میں برقرار رہنے کا حق ہوگا اور اس کو"کردار"کہتے ہیں اس کرایہ دار کو مثلی اجرت پر باقی رکھنے کا حق ہوگا۔(ت)

خیریہ میں ہے:

وقد صرح علمائنا بان لصاحب الکردار حق القرار، وھو ان یحدث المزارع والمستاجر فی الارض بناء، اوغرسا،اوکبسا بالتراب باذن الواقف او باذن الناظر،فتبقی فی یدہ [2]۔

اورہمارے علماء نے تصریح کی ہے کہ"کردار"والے کو برقرار رہنے کا حق ہے اور"کردار"یہ ہے کہ مزارع یا مستاجر زمین میں کوئی تعمیر کرے یا پودے لگائے یا مٹی بھرے،واقف یا متنظم کی اجازت سے ایسا کیا ہو تو اس کو قبضہ برقرار رکھنے کا حق ہے۔(ت)

عقود الدریہ میں ہے:

اذا کان لوقف جامع ارض سلیخۃ معطلۃ غیر صالحۃ للزارعۃ،فاذن متولی الوقف لزید،بحرثہا، و صلاحہا، وکبسہا،و زراعتہا لیدفع قسمہا لجہۃ الوقف ففعل زید ذٰلك کلہ ثبت لہ حق القرار،فیہا تبقی بیدہ باجر مثلہا،اوبان یؤدی قسمہا المتصارف لجہۃ الوقف المذکور [3]۔

اگر وقف زمین افتادہ معطل جو زراعت کے قابل نہ ہو تو وقف کے متولی نے زید کو آباد کرنے اور درست کرنے،مٹی ڈالنے اور کاشت کرنے کی اجازت دی کہ وہ وقف کی مدمیں حصہ دے تو زید نےیہ تمام کاروائی کردی تو اس کو زمین پر قرار کا حق حاصل ہوگا اور مثلی اجرت پر اسی کے قبضہ میں رہے گی،اور وہ متعارف حصہ وقف کی مد میں دیتارہے گا۔(ت)

ہاں اس کے سبب وقف پر اندیشہ ہو،یا اجرت نفس زمین کی بڑھ جائے،اور یہ اضافہ پر راضی نہ ہو،تو بیدخل کردیا جائے گا،یونہی اگر تین سال زمین معطل چھوڑ دے گا اس کا حق قرارجاتارہے گا، بیوع ردالمحتارمیں ہے:


 

 



[1] فتاوٰی خیریہ بحوالہ جامع الفصولین والقنیۃ والخلاصۃ وغیرہا کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۱۷۹

[2] فتاوٰی خیریہ بحوالہ جامع الفصولین والقنیۃ والخلاصۃ وغیرہا کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۱۷۹

[3] العقود الدریۃ کتاب المساقات باب مشد المسکۃ ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۲۲۲



Total Pages: 630

Go To