Book Name:Fatawa Razawiyya jild 20

مسئلہ ۴۵:                               از ریاست رامپور محلہ کنڈہ مسئولہ جناب محمد سعادت علی خان صاحب            ۲۶ شوال ۱۳۳۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ چند اشخاص چند گھروں کے جو ایك شہر میں ہیں بالاشتراك مالك ہیں،ایك حصہ دار ان گھروں میں سے اپنے حصہ کی تقسیم چاہتاہے۔ا ور وہ اپنے حصہ سے بعد علیحدہ ہونے کے بھی نفع اٹھا سکتاہے،اور وہ چاہتاہے کہ ہر گھر میں سے مجھ کو علیحدہ حصہ ملے،ایسی حالت میں ازروئے شرع شریف سب گھروں کی یکجائی تقسیم کی جائےگی یا ہر گھر کی جداگانہ تقسیم ہوگی؟ بینوا توجروا

الجواب:

اگر ہر مکان میں اس کا حصہ قابل اتنفاع ہے تو ہر مکان سے جدا جدا اسے حصہ دیا جائے گا،ہر گھر میں علیحدہ تقسیم ہوگا، درمختار میں ہے:

دورمشترکہ قسم کل وحدھا منفردۃ مطلقًا ولو متلازقۃ اوفی محلتین او مصرین[1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔

چند مشترکہ مکانات میں ہر ایك مکان کو جدا جدا تقسیم کیا جائے گا اگرچہ وہ آپس میں ملے ہوئے ہوں یا دو محلوں میں یا دو شہروں میں میں ہوں،واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)

______________________


 

 



[1] درمختار کتاب القسمۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۲۰



Total Pages: 630

Go To