Book Name:Fatawa Razawiyya jild 19

" وَمَنۡ تَطَوَّعَ خَیۡرًاۙ فَاِنَّ اللہَ شَاکِرٌ عَلِیۡمٌ﴿۱۵۸"[1]۔

جو شخص مفت میں بھلائی کرے تو الله تعالٰی قبول فرمانے ا ور جاننے والا ہے۔(ت)

مسئلہ ۲۸۰:            از سہسرام محلہ دائرہ ضلع آرہ مرسلہ حافظ عبدالجلیل                      ۱۶ شوال ۱۳۳۳ھ یوم شنبہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ زید ہندو کامال مسلمان زبردستی کھاسکتا ہے یانہیں؟

الجواب:

زبردستی مال کھانے والے ایك دن بڑا گھر دیکھتے ہیں۔والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۲۸۱ تا ۲۸۳:                از شہر کہنہ بریلی مسئولہ سید نور الله محرر دارالافتاء        بروز دوشنبہ بتاریخ ۹ ذی الحجہ ۱۳۳۳ھ

(۱)زید کا ایك بیٹا جواب بالغ ذی عقل صاحب نصیب تھا،وہ جب مرا تو تجارت بند ہوگئی اور کچھ جائداد دونوں کے کسب سے تھی اب باقی ہے۔زید کی اب دو زوجہ ہیں،ایك قدیم کفو کی،دوسری جدید غیر کفو کی،زید نے بعوض مہر دو مکان زوجہ کفو کے نام حسب قانون لکھے اور ایك مکان اپنے بیٹے بکر کے نام لکھے،لیکن کل جائداد پر قابض اور ماحصل سے تمتع زوجہ غیر کفو اور اس کی اولادرہی،جبر ا وقہرا،پس یہ قبضہ وتمتع شرعًا جائز ہے یا نہیں؟

(۲)زوجہ کفو کی دو لڑکیاں ہیں،پس اپنے نام کی جائداد برضائے زوج خود یعنی زیدکے،بذریعہ عدالت لڑکیوں کے نام کردی ہے،بذریعہ عدالت رجسٹری شدہ کاغذ موجود ہے۔اور یہ چاہتے ہیں کہ یہ قبضہ کرکے اس سے منتفع ہوں،لیکن زید اور اس کی زوجہ غیرکفو اور اس کی اولاد فسد پرآمادہ ہیں،اور قبضہ نہیں دیتے اور کسی کی نصیحت نہیں مانتے،پس یہ امران کو شرعاکیا زیبا ہے۔اوراس فعل کا کیاحکم ہے؟

(۳)کیا شرعا ان کو اس جائدادمیں کچھ حق ہے یا شرعا ول ظالم اور یہ فعل فسق ہے؟ فقط

الجواب:

(۱)مال غیر سے بے رضا غیر تمتع اور اس پر مخالفانہ قبضہ حرام وحرام خوری ہے۔

قال اﷲ تعالٰی " لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمْوٰلَکُمْ بَیۡنَکُمْ بِالْبٰطِلِ "[2]۔

الله تعالٰی نے فرمایا:آپس کا مال باطل طریقے سے نہ کھاؤ۔ (ت)

 


 

 



[1] القرآن الکریم ۲/ ۱۵۸

[2] القرآن الکریم ۲/ ۱۸۸



Total Pages: 692

Go To