Book Name:Fatawa Razawiyya jild 19

بائع کو اس کے فسخ کا اختیار ہے۔تخویف قتل تو اعلٰی درجہ کا اکراہ ہے بیع میں مجرد حبس مدید بھی ثبوت اکراہ کو بس ہے۔درمختار میں ہے:

لواکرہ بحبس اوقید مدیدین حتی باع اواشترٰی او اقر او اٰجر فسخ اوامضی لان اکراہ الملجی وغیر الملجی یعدمان الرضاء والرضأ شرط صحۃ ہذہ العقود والاقرار فلذا صار لہ حق الفسخ اوالامضاء[1]۔ باختصار۔

اگر کوئی لمبی قید اور یرغمالی کے ذریعہ بیع یا شراء یا اقرار یا اجارہ پر مجبور کرے اور اس نے کردی تو بعدمیں اسے اختیار ہے کہ فسخ کردے یا اس پر قائم رہے کیونکہ جان کے خطرے اور اس سے کم ہر طرح جبر رضا کو ختم کرتا ہے جبکہ ان عقوداور اقرار میں رضا شرط صحت ہے اس لئے اس کو فسخ کا اختیار ہے۔ باختصار۔(ت)

اسی میں ہے:

فی مجمع الفتاوٰی منع امراتہ المریضۃ عن المسیر الی ابویہا الاان تہبہ مہرھا فو ھبتہ بعض المہر فالہبۃ باطلۃ لانہا کالمکرھۃ ویوخذ منہ جواب حادثۃ الفتوی زوج بنتہ فلما ارادت الزفاف منعہا الاب الا ان یشہد علیہا انہا استوفت منہ میراث امہا فاقرت لایصح اقرارھا لکونہا فی معنی المکرھۃ وبہ افتی ابوالسعود مفتی الروم قالہ المصنف فی شرح منظومتہ تحفۃ الاقران [2]۔

 

مجمع الفتاوٰی میں ہے کسی نے اپنی بیو ی مریضہ کو اپنے والدین کے ہاں جانے سے روکا اور کہا تو مجھے مہر ہبہ کرے تو جانے دوں گا تو بیوی نے مہر ہبہ کردیا تو یہ ہبہ باطل ہے کیونکہ یہ مجبور کی طرح ہے اور اس سے ایك درپیش مسئلہ کا جواب معلوم ہوگیا کہ بیٹی کا نکاح کردیا جب بیٹی رخصتی کے لئے تیار ہوئی تو باپ نے روك لیا اور کہا تویہ گواہی بنادے کہ میں نے والد سے اپنی والدہ کی وراثت کا حصہ وصول کرلیا ہے۔بیٹی نے مجبورًا اپنے اقرار پر گواہ بنادئے تو بیٹی کایہ اقرار صحیح نہ ہوگا کیونکہ وہ مجبور کی طرح تھی،اور مفتی روم ابوسعود نے یہی فتوٰی دیا مصنف نے شرح منظومہ تحفۃ الاقران میں اس کو ذکر کیاہے۔ (ت)

 


 

 



[1] درمختار کتاب الاکراہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۹۵

[2] درمختار کتاب الاکراہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۹۷



Total Pages: 692

Go To