Book Name:Fatawa Razawiyya jild 19

تردید ذمہ مدعیہ،اور روبکار تنقیح مذکورہ میں یہ عبارت بھی درج ہے(مدعا علیہ بہ نسبت وصولیابی مبلغ(صہ عہ/)منجملہ زر رہن کے اقرار کاذبہ کرنا بیان کرتاہے اس کی نسبت مدعا علیہ چاہے تو مدعیہ سے حلف لے سکتاہے)سوال یہ ہے کہ بحالت مذکورہ مدعیہ پر شرعا حلف عائدہوسکتاہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔

الجواب:

ہاں ہوسکتاہے اب مدعا علیہ حقیقۃ مدعی اور مدعیہ مدعا علیہ ہے والیمین علی من انکر(قسم منکر پر ہے۔ت)درمختار میں ہے:

اقر ثم ادعی المقرانہ کاذب فی الاقرار یحلف المقرلہ ان المقرلم یکن کاذبا فی اقرارہ عند الثانی وبہ یفتی [1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔

اقرار کرنے کے بعد اپنے اقرار میں جھوٹا ہونے کا دعوٰی کرے تو مقرلہ سے قسم لی جائے کہ قرار کرنے والا اپنے اقرار میں جھوٹا نہیں ہے۔یہ حکم امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالٰی کے نزدیك ہے اور اسی پر فتوٰی ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)

___________________


 

 



[1] درمختار کتاب الاقرار مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۳۳



Total Pages: 692

Go To