Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

"لیں گے" صرف وعدہ ہے اور وعدہ کوئی عقد نہیں،نہ وفائے وعدہ پر خود وعدہ کرنے والے کو جبر کیا جاسکتا ہے۔

کما نص علیہ فی الہندیۃ [1]والخیریۃ وغیرہما من الکتب الفقہیۃ

(جیسا کہ ہندیہ اور خیریہ وغیرہ کتب فقہ میں اس پر نص کی گئی ہے۔ ت)

تواس کی موت کے بعد وارثوں پر کیا جبر ممکن ہے پس زید کو قبضہ کرنے کا اصلا اختیار نہیں وہ صرف ان روپوں کا مستحق رہا جو اس نے پیشگی دئے تھے ترکہ زینب سے قبل تقسیم ورثہ وصول کئے جائیں،والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۲۱: ۲۵ ربیع الآخر شریف ۱۳۱۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے اپناحق حقوق ۲بسوانسی کچھ کچوانسی بکر کے ہاتھ فروخت کیا مبلغ(ما سہ مہ۱۵۸)روپیہ کو اور بیع نامہ لکھ کر اپنے دستخط کئے اور بیعانہ لیا اور رجسٹری کرادینے کا معاہدہ کیا اور بعد کو خالد اپنے چچا زاد بھائی کو(سا مہ لعہ ۳۹۵)روپیہ کا بیعنامہ لکھ کر رجسٹری کرادی،اب بکر کہتا ہے کہ درحقیقت یہ بیعنامہ مصنوعی لکھا ہے شفیع کے ڈر سے اور یہ حقیقت اصل میں وہی(ما صہ مہ ۱۵۸)کو بموجب بیع بکر کے فروخت کی ہے،اور بکر یہ بھی کہتا ہے کہ میں اس میں شفیع ہوں کیونکہ میری پندرہ بستے ہیں،تو اس صورت میں بکر بموجب شرع شریف کے شفاعت سے اس حقیت کو اورنیز بموجب معاہدہ کے اس قیمت کوپاسکتا ہے یانہیں؟ فقط

الجواب:

بیع عقد لازم ہے بعدتمامی ہر گز بائع کو اختیار نہیں کہ دوسرے کے ہاتھ بیع کردے جب وہ بدست بکر بیچ چکا بیعنامہ لکھ دیا اس پر اپنے دستخط کردئے،تو تمامی عقد میں اصلا کوئی شبہ نہ رہا۔رجسٹری نہ شرعا ضروریہ نہ اسے تکمیل عقد میں اصلا کچھ دخل،بلکہ شرعا تو صرف ایجاب وقبول کانام بیع ہے اگرچہ بیعنامہ بھی نہ لکھا جائے تونہی تنہا بیعنامہ بطریق معروف ومعہود لکھ کر دسختط کرنا مشتری کا اسے قبول کرلینا بھی عقد تام وکافی ہے،اگرچہ زبانی الفاظ مقررہ خریدم و فروختم(میں نے خریدا،میں نے بیچا۔ت)کا ذکر نہ آیا ہو۔ اشباہ میں ہے:

الکتابۃ یصح البیع بہا قال فی الہدایۃ والکتاب کالخطاب [2]۔

تحریر سے بیع صحیح ہوجاتی ہے،ہدایہ میں ہے فرمایا تحریر کلام کی مثل ہے۔(ت)

ہدایہ میں ہے:

المعنی ھواالمعتبر فی ھذہ العقود ولہذا ینعقد بالتعاطی فی النفیس والخسیس ھوالصحیح لتحقق المراضاۃ [3]۔

ان عقود میں معنی کا اعتبار ہوتا ہے اسی لئے بڑھیا اور گٹھیا چیزوں میں بیع تعاطی منعقد ہوجاتی ہے اور یہی صحیح ہے کیونکہ باہمی رضامندی متحقق ہوتی ہے۔(ت)

غرض حقیقت مذکورہ ملك زید سے خارج ہوکر ملك بکر میں داخل ہوگئی،زید بکر سے صرف(ما سہ مہ۱۵۸)کا مطالبہ کرسکتا ہے بیع ثانی کہ بدست خالد کی،بے اجازت بکر مردود ہے،بکر کو اپنی ملك میں دعوٰی شفعہ کی کوئی حاجت نہیں،والله تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔

مسئلہ ۲۲:علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ زید کی دو زوجہ ہیں،اب زید اپنا حق حقوق ایك زوجہ کے نام بیع کرتا ہے،تو زید کو اپنی حیات میں بیع کرنے کا اختیار ہے یانہیں؟ بینوا توجروا

الجواب:

اگریہ بیع زیدسے قبل مرض موت کے بحالت صحت نفس وثبات عقل واقع ہوئی تو قطعا نافذ ہے والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۲۳:

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك زوجہ اور ایك ہمشیرہ اور ایك بھتیجا وارث اور تین بسوہ جائداد متروکہ چھوڑ کر انتقال کیا زوجہ نے وہ کل حقیت اپنی طرف سے بدست خالد فروخت کی مگر وہ بیعنامہ سب ورثاء کی اطلاع سے لکھا گیا اور وہ سب بالغ ہیں اور سب نے اپنی گواہیاں اس بیعنامہ پر لکھیں اوریہ کہہ دا کہ یہ بیع صحیح ہے اس میں کچھ دعوٰی مبیع نہیں ہے کل زرثمن مشتری نے اداکردیا اور سب ورثاء نے باہم تقسیم کرلیا،اب بعد نو دس برس کے ہمشیرہ زید مدعیہ ہے کہ یہ بیع میں نے نہیں کی فقط زوجہ زید نے بطور مالکانہ کل حقیت بیع کی حالانکہ وہ کل کی مستحق نہیں،اس صورت میں وہ بیع شرعا صحیح ونافذ،اور دعوٰی مدعیہ ناحق وباطل قرار پائے گا یانہیں؟ بینوا توجروا۔

الجواب:

صورت مستفسرہ میں وہ بیع صحیح ونافذ ہے اور دعوٰی مدعیہ محض ناحق وباطل کہ اگر چہ زوجہ زید کل حقیت کی مالك نہ تھی اور اس نے ساری جائداد اپنی طرف سے بیع کی مگر یہ جبکہ یہ امر باطلاع ورثاء دیگر واقع ہوا اور انھوں نے پسند رکھا اورانکارنہ کیا یہاں تك کہ زر ثمن سے حصہ لیا اور وہ سب بالغ تھے تو اب وہ بیع ایسے ہی قرار پائےگی کہ گویا ان سب نے خود اپنا اپنا حصہ بیع کیا او رثمن لیا اب کسی طرح سے انھیں محل دعوٰی واعتراض باقی نہیں

فی تنویر الابصار والدالمختار اخذ المالك الثمن اوطلبہ من المشتری اجازۃ [4] اھ ملخصا واما ماوقع فی البحر ثم الدر ر من البطلان ان باع الفضولی لنفسہ موہم مخالف للفروع المذھبیۃ ومضاد للظاہر الروایۃ کما حققہ المولی خیرالملۃ والدین الرملی ثم العلامۃ الشامی اٰفندی فلیتنبہ،واللہ تعالٰی اعلم۔

 



[1]                 فتاوٰی ہندیہ کتاب الاجارۃ الباب السابع فی اجارۃ المستاجر نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۴۲۷،العقود الدریۃ مسائل وفوائد شتی من الحظر والاباحۃ ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۳۵۳

[2]            الاشباہ والنظائر الفن الثالث احکام الکتابۃ ادارۃ القرآن کراچی ۲ /۱۹۶

[3]            الہدایہ کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۲۵۔۲۴

[4]            درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۲



Total Pages: 247

Go To