Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

ارسال خدمت کرکے گزارش ہےکہ جس قدرجلد ممکن ہو کمترین کو اس ضغطہ سے نجات دیجئے ؎

پناہ جوبدرت آمدم بعجز ونیاز                        کہ آستانِ توحاجت روائے من باشد

(پناہ ڈھونڈتے ہوئے عجزونیاز کے ساتھ تیرے دروازے پرآیاہوں تاکہ تیرا آستانہ میراحاجت روابن جائے۔(ت)

زیادہ بجزتمنائے حصول قدمبوسی کے کیاعرض کروں،عریضہ ادب کمترین فخرالحسن عفاعنہ ازخیرآباد ۱۹ شوال ۱۳۲۷ھ
(جواب علمائے ریاست رامپور)

الجواب:

واﷲ سبحٰنہ موفق للصدق والصواب(اﷲ سبحانہ،وتعالٰی سچائی اور درستگی توفیق عطا فرمانے والاہے۔ت)ایسی صورت میں زید کو بروئے ملت حنفیہ مشورہ بدری پرشاد عمل ناجائز وحرام ہے بیشك اس صورت میں علاوہ مواخذہ سوددینے سے مواخذہ سودخوری میں مبتلا ہوناہے،تفصیل یہ ہے کہ زید کا مبلغ(صمہ معہ ؎؎)بدری پرشاد کودے کے منوسنگھ کے قرضہ کی اترائی بدری پرشاد پر کردینے کے معنی بظاہر یہ ہیں کہ زید مبلغ(صمہ معہ ؎۰۴/)بدری پرشاد کو اس شرط پر قرض دے کہ وہ منوسنگھ والے قرض مبلغ(صمہ سالعہ لہ ۱/)ذمگی زید کو زید کی طرف سے اداکرکے دستاویز واپس لے لے اور منوسنگھ کے دین کو بدری پرشاد پر حوالہ کردے،

قال فی تنویر الابصار فی تفسیرالحوالۃ ھی نقل الدین من ذمۃ المحیل الٰی ذمۃ المحتال علیہ [1]انتھی۔

تنویرالابصار میں حوالہ کی تفسیر میں کہا کہ وہ دین کو محیل کے ذمہ سے محیل علیہ کے ذمہ کی طرف منتقل کرناہے انتہی۔ (ت)

توبدری پرشاد کا(صمہ معہ ؎۰۴/)لے کے اور(سامہ؎۰۱۲/)بڑھاکے(صمہ سالعہ لہ)اداکرنا زید کو(سا؎۰۱۲/)سوددینا ہے کیونکہ یہ(سامہ؎۰۱۲/)جو بدری پرشاد زید کی طرف سے منورسنگھ کواداکرے گا یہ رقم کسی مال کے عوض میں ثابت نہیں ہوئی توبالضرور زید کے(صمہ معہ ؎۰۴/)قرض دئے ہوئے روپوں کا نفع ہوگا،

وفی الاشباہ کل قرض جرنفعا حرام انتھی در مختار [2]،فی جواھر الفتاوی اذاکان مشروطاصار قرضا  فیہ منفعۃ

اشباہ میں ہے کہ جو قرض نفع کھینچے وہ سود ہے انتہی(درمختار) جواہرالفتاوٰی میں ہے کہ اگر وہ مشروط ہو تو ایساقرض ہوگا جس میں نفع ہو اور

 


 

 



[1] درمختار شرح تنویرالابصار کتاب الحوالہ مطبع مجتبائی دہلی ۶/ ۶۹

[2] درمختار شرح تنویرالابصار فصل فی القرض مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۴۵



Total Pages: 715

Go To