Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

آسکتاہے،

قال تعالٰی " وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی ؕ"[1]۔

اﷲ تعالٰی نے فرمایا:کوئی بوجھ اٹھانے والا نفس دوسرے کا بوجھ نہیں اُٹھائے گا۔(ت)

ہدایہ میں ہے:

انما المعصیۃ بفعل المستاجر وھو مختار فیہ فقطع نسبتہ عنہ[2]۔

بیشك گناہ تومستاجرکے فعل سے ہے اور وہ مختار ہے(مکروہ نہیں)لہٰذا اس کی نسبت مالك مکان سے منقطع ہوگئی۔(ت)

یوں ہی اگربعض قرض کے ساتھ ایسا کرسکے توبعض ہی سے سہی کہ جتنی معصیت سے بچے یاجتنا مال حرام میں دینے سے محفوظ رہ سکے اس قدر کی تدبیر واجب ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۲۹۲:             ازخیرآباد مقام مذکور مرسلہ مولوی سیدفخرالحسن صاحب                             ۱۹ شوال ۱۳۲۷ھ

شریعت بے استعدادی کومجبوری میں جائے پناہ اگرنظرآتی ہے تو صرف ذات بابرکات قدسی صفات عالی ہے لہٰذا باوجود وقوف عدم الفرصتی تکلیف دہی والا پرمجبور ہوکر نہایت ادب سے معافی کا مترصدہوں استفتاء منسلك عریضہ ہذاوالاحضوراقدس میں بھیجاتھا دیر رسی جواب کی وجہ سے اس کی نقل رامپور بھی بھیجی تھی پیش گاہ والا سے جو از صورت مسئولہ کاحکم پاکر سائل کوہدایت تدبیر فراہمی روپیہ کی گئی تھی کہ   ؎

قسمت کودیکھئے کہ کہاں ٹوٹی جاکمند

دوچارہاتھ جبکہ لبِ بام رہ گیا

پورے روپے کی تدبیر نہ ہونے پائی تھی کہ رامپور سے جواب خلاف حکم والاملا،یہ امرمیرے عرض کرنے کا محتاج نہیں ہے کہ امورخیرواصلاح کار میں بھی کچھ وساوس وابلیس آدم رو ومانع پیش آتے ہیں صاحب معاملہ کے خیالات وجوابات رامپور سے ایسے تبدیل کئے گئے کہ وہ کہتاہے کہ جب تك رامپور کی تردید میں براہین قاطعہ ودلائل مستحکم ازروئے ملت حنفیہ نہ دیکھوں گا کسی طرح جواز تحویل کو تسلیم نہیں کرسکتا مجھ ہیچمدان کو بجز اس کے کہ ذات بندگان عالی سے پناہ چاہوں کوئی چارہ کارنہیں ہے لہٰذا نقل جوابات مرسلہ علمائے رامپور


 

 



[1] القرآن الکریم ۶/ ۱۶۴

[2] الہدایۃ کتاب الکراہیۃ فصل فی البیع مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۷۰



Total Pages: 715

Go To