Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

بعدنہ زر نقد داخل کرنے کی ضرورت نہ جائداد کی ضروررت نہ ان کے ہونے سے ضمانت میں کوئی خلل کہ یہ ایك امر زائد غیر متعلق ہیں،ہندو مدعی نے سائل ایك مسلمان کوٹھہرایا اور اصلاپتہ نہ دیا کہ سوال اس مقدمہ سے متعلق ہے کہ سال گزشہ کی نسبت دارالافتاء سے فتوٰی جاچکا ہے نہ سوالات سابقہ وسوال مدعی میں مفصل صورت واقعہ یکساں بتائی گئی تھی جس سے دونوں کا خصومت واحدہ سے تعلق ظاہر ہوتا اور علمائے کرام نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جس عقد کا سوال ذکر ہو اسے صحت پر محمول کرکے جواب دیا جائے،وجیز امام کردری میں ہے:

لوسئل عن صحتہ یفتی بصحتہ حملا علی استیفاء الشرائط اذالمطلق یحمل علی الکمال الخالی عن موانع الصحۃ [1]۔

اگر کسی عقد کی صحت سے متعلق سوال کیا جائے تو تمام شرائط کے پائے جانے پرمحمول کرتے ہوئے اس کی صحت کافتوٰی دیا جائے گا کیونکہ مطلق کو ایسے کمال پر محمولکیا جاتاہے جو موانع صحت سے خالی ہو۔(ت)

دو سوالوں میں ایسا اختلاف ہونے سے جواب مختلف ہوجانا لازم ہے جس کی ذمہ داری اس پر ہے جس نے سوال مجمل یا غلط پیش کیا،فتاوٰی خیریہ میں ایسے ہی اختلاف سوال کے بارے میں کہ علامہ رملی سے ایك بار سوال ایك طور پر ہوا دوبارہ اس کے خلاف تھا ارشاد فرمایا:

لاشك فی ان المفتی انما یفتی بما الیہ السائل ینہٰی [2]۔

اس میں کوئی شك نہیں کہ مفتی اسی پر فتوٰی،دیتاہے جو خبر سائل اس کے پاس پہنچائے۔(ت)

نیز دوبارہ ایسے ہی واقعہ میں فرمایا:

السوال الاول لم یذکرلنا فیہ ان الاجارہ وقعت علی تناول الخراج ونحوہ من الاعیاب ومسئلتنا فیہ عن الاجارۃ مطلقًا فانصرفت الی تملك المنفعۃ وقسمنا الاحکام علی الصحیحۃ والفاسدۃ

پہلے سوال میں ہمارے لئے اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا تھا کہ اجارہ اخراج یا اس کی مثلی اعیان کے حصول پر موقوف ہے بلکہ اجارہ مطلقہ کے بارے میں سوال کیا تھا تو وہ تملك منفعت کی طرف لوٹا اور ہم نے احکام کودو قسموں یعنی صحیح اور فاسد پر تقسیم کیا۔

 

 



[1] فتاوٰی خیریہ بحوالہ البزازیہ کتاب الصلح دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۰۳،فتاوی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ کتاب الصلح الفصل السادس نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۵۲۔۵۱

[2] فتاوٰی خیریہ کتاب الوکالۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۳۹



Total Pages: 715

Go To