Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

جس چیز پر بھاؤ طے کرنے کے لئے قبضہ کیا جائے وہ قابل ضمان ہے،والله تعالٰی اعلم۔(ت)

مسئلہ ۱۸:

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی حیات میں کسی وارث کو بیعنامہ اپنی جائداد کا مثل باغ یا اراضی وتالاب وغیرہا کے لکھ دیا اس کی موت کے بعد دوسرا وارث اگر فسخ بیع چا ہے تو اسے شرعا اختیار ہے یانہیں؟ اور بائع کو بوجہ خیار عیب یا رؤیت اختیار فسخ حاصل ہے یانہیں؟ بینوا توجروا۔

الجواب:

صورت مستفسرہ میں بیع اگر مرض موت میں نہیں تو بعد لزوم وتکمیل بائع اور اس کے ورثاء کو کسی طرح اختیار فسخ نہیں اور خیار رؤیت خاص مشتری کے لئے ہے اور خیارعیب اگر بائع کو حاصل بھی ہے تو صرف بایں معنی کہ ثمن ناقص جید سے بدل سکتا ہے نہ یہ کہ اس کی وجہ سے فسخ بیع کرسکے،پس خیار رؤیت مطلقًا اورخیار عیب کہ سبب فسخ ہے مشتری کےلئے خاص ہیں بائع کو ہر گز حاصل نہیں،

فی الدرالمختار واذا وجدا لزم البیع بلاخیار الا لعیب اورؤیۃ [1]، فی الہدایۃ ومن باع مالم یرہ فلا خیار لہ و کان ابوحنیفۃ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ یقول اولا لہ الخیار اعتبارا بخیار العیب و خیار الشرط [2]،فی العنایۃ اعتبارا بخیار العیب فانہ لایختص بجانب المشتری بل اذا وجد البائع الثمن زیفا فھو بالخیار ان شاء جوز وان شاء ردہ کالمشتری اذا وجد المبیع معیبا لکن العقد لاینفسخ بردالثمن وینفسخ برد المبیع لانہ اصل دون الثمن[3] والعلم عند واھب العلوم عالم کل سر مکتوم۔

درمختار ہے جب ایجاب وقبول دونوں پائے گئے تو بیع بلاخیار لازم ہوگئی سوائے خیار عیب اور رؤیت کے،ہدایہ میں ہے جس نے ایسی چیز کو بیچا جسے اس نے دیکھا نہیں تو اسے خیار رؤیت نہیں،امام ابوحنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہپہلے کہاکرتے تھے کہ اسے خیار رؤیت ہے اور وہ اس کو خیار عیب اور خیار شرط پر قیاس کرتے تھے،عنایہ میں ہے کہ خیار عیب پر قیاس کرنا اس لئے درست ہے کہ وہ فقط مشتری کے ساتھ مختص نہیں بلکہ اگر بائع ثمنوں کو کھوٹا پایا تو اسے اختیار ہے چا ہے تو جائز قرار دے دے اور چا ہے تو رد کردے جیسا کہ مبیع کو معیوب پاکر مشتری کو اختیار ہوتا ہے لیکن ثمن کر رد کرنے سے عقد فسخ نہیں ہوتا اور مبیع کو رد کرنے سے عقد فسخ ہوجاتا ہے کیونکہ مبیع اصل ہے نہ کہ ثمن،اور علم درحقیقت علم عطا فرمانے والے کے پاس ہے جو ہر چھپے راز کو جاننے والا ہے۔ (ت)

مسئلہ ۱۹: ۱۱رجب ۱۳۰۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ معاہدہ مابین زید وعمر کے قرار پایا اور زید نے عمرو کو عہ/ بیس روپے بطور بیعانہ کے دئے اب زید اپنی بدنیتی سے بلا قصور عمر کے معاہدہ مذکورہ سے منحرف ہوگیا تو اس صورت میں زید واپسی زر مذکور کا مستحق ہے یانہیں؟ بینوا توجروا۔

الجواب:

بیشك واپس پائے گا،بیع نہ ہونے کی حالت میں بیعانہ ضبط کرلینا جیسا کہ جاہلوں میں رواج ہے ظلم صریح ہے،

قال اللہ تعالٰی " لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ "[4]۔

الله تعالٰی نے فرمایا:آپس میں ایك دوسرے کا مال ناحق مت کھاؤ،(ت)

ہاں اگر عقد بیع باہم تمام ہولیا تھا یعنی طرفین سے ایجاب وقبول واقع ہولیا اور کوئی موجب تنہا مشتری کے فسخ بیع کردینے کا نہ رہا،اب بلاوجہ شرعی زید مشتری عقد سے پھرتا ہے توبیشك عمرو کو روا ہے کہ اس کا پھر نانہ مانے او ر بیع تمام شدہ کو تمار ولازم جانے،اس کے یہ معنی ہوں گے کہ مبیع ملك زید اور ثمن حق عمرو،درمختار کے باب الاقالہ میں ہے:

من شرائطہا رضا المتعا قدین [5]۔

اقالہ کی شرطوں میں سے بائع ومشتری کا باہم رضامند ہونا ہے۔(ت)

یہ کبھی نہ ہوگا کہ بیع کو فسخ ہوجا مان کر مبیع زید کو نہ دے اور اس کے روپے اس جرم میں کہ تو کیوں پھر گیا ضبط کرے،ھل ھذا الا ظلم صریح(کیا یہ ظلم صریح نہیں ہے۔ت) والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۲۰: از پیلی بھیت ۵ذیقعدہ ۱۳۱۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور فضلائے شرع مبین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك عورت زینب کو بمواجہ چند عورات مستورات اور چند مرد مان کرکے کچھ روپیہ اس وعدہ پر دیا کہ ہم فلاں مکان یا زمین اسی عورت زینب کا اس قدر تعداد روپیہ لیں گے اور بقدر عہ /بیس روپیہ مثل بیعانہ دئے ہیں اور اس عورت زینب نے اس روپیہ کو لے کر صرف مایحتاج کرلیا اور سب گواہان کے سامنے اقرار کردیا بعداقرار کے کچھ دنوں بعد زینب فوت ہوگئی لہٰذا شرعا بیع ہوئی یانہیں؟ اور ازروئے شرع شریف کے زید اپنا قبضہ کرسکتا ہے یانہیں؟ فقط

الجواب:

 



[1]         درمختار کتاب البیوع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۵

[2]         الہدایہ کتاب البیوع باب خیارالرؤیۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۴۱۔۴۰

[3]         العنایہ علی ہامش فتح القدیر کتاب البیوع باب خیار الرؤیۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۵۳۳

[4]         القرآن الکریم ۴/ ۲۹

[5]         درمختار کتاب البیوع باب الاقالۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۳



Total Pages: 247

Go To