We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

اسی میں بنقل محیط فتاوٰی امام نسفی سے ہے:

من قال لغیرہ ان الدین الذی لك علی فلان انا ادفعہ الیك انا اسلمہ الیك انااقضیہ لایصیر کفیلا مالم یتکلم بلفظ یدل علی الالتزام نحو قولہ کفلت ضمنت علی الی وکان الشیخ الامام ظہیر الدین الحسن بن علی المرغینانی یقول اذا اتی بہذہ الالفاظ منجز الا یکون کفالۃ واذا اتی بہا معلقا بان قال ان لم یؤد فلان مالك علیہ فانا اودی فانا ادفع یصیر کفیلا [1]۔

کسی نے دوسرے سے کہا تیرا وہ قرض جو فلاں پر ہے وہ میں دوں گا میں تیرے سپرد کروں گا،میں ادا کروں گا،وہ کفیل نہیں بنے گا جب تك کوئی ایسا لفظ نہ کہے جو التزام پردلالت کرتا ہو مثلا میں کفیل ہوں میں ضامن ہوں،مجھ پر لازم ہے یا میرے ذمے ہے،امام ظہیر الدین حسن بن علی مرغینانی کہتے تھے اگر یہ الفاظ بطور تنجیر کہے تو کفیل نہ ہوگا اور اگر بطورتعلیق کہے مثلا یوں کہے کہ تیرا جو دین فلاں پر ہے اگر اس نے نہ دیا تو میں ادا کروں گا یا میں دوں گا،تو کفیل ہو جائے گا۔(ت)

ایسا ہی خزانۃ المفتین میں ہے اور اسی پربزازیہ میں جزم فرمایا:

قائلا لما علم ان المواعید باکتساء صورۃ التعلیق تکون لازمۃ [2] اھ ونقلہ فی الحامدیۃ واقرہ فی العقود الدریۃ۔

یہ کہتے ہوئے،یہ بات معلوم ہے کہ وعدے جب تعلیق کی صورت اختیار کریں تو ان کو پوراکرنا لازم ہوتاہے اھ اس کو حامدیہ میں نقل کیا اور عقود دریہ میں برقرار رکھا۔(ت)

ہاں اگر زید نے یہ کہا کہ یہ نہ دے تو میں اد اکروں گا تو بلاشبہ بکر اس قدر روپیہ کا زید سے مطالبہ کرسکتاہے اور بکر کا عمرو کو مطالبہ سے بری کردینا زید کو بری نہ کردے گا اگر البتہ عمرو کو قرضہ سے بری کردیتا تو زید پر بھی مطالبہ نہ رہتا۔

فی الدرالمختار من القنیۃ طالب الدائن الکفیل فقال لہ اصبر حتی یجیئ الاصیل فقال لاتعلق

درمختارمیں قنیہ سے منقول ہے کہ قرض دہندہ نے کفیل سے قرض کا مطالبہ کیا تو اس نے کہا کہ صبر کرو تاکہ اصیل آجائے اس پر قرض دہندہ نے

 


 

 



[1] فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکفالۃ الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۲۵۷

[2] فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوی ہندیہ کتاب الکفالۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۳



Total Pages: 715

Go To