Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

الجواب:

جائداد مبیعہ کی توفیر لینی تو صریح ناجائز جس سے ہندہ خود انکار کرتی ہے اور بطور خدمت اگر دینا واقعی ہو لینا جائز،اوراس کی واقعیت کی یہ نشانی ہے کہ زید اس سے پہلے بھی ہندہ کی اس قدر خدمت کرتاہویا اب ہندہ اپنا روپیہ واپس لے لے تو بھی بدستور خدمت کرتا رہے اور اگر ایسا نہ ہو تو اس کا یہ کہنا بطور خدمت دیتاہوں زبانی کہناہے بلکہ اس صورت میں ہندہ کاخیال صحیح ہے کہ وہ اسی غرض سے دیتاہے کہ ہندہ اپنی یہ رقم کثیرنہ مانگے اور تاحیات ہندہ اسی ماہوار پر ٹالے،اس نیت سے دینا دینے والے کو تو صریح ناجائز،اور ہندہ اسے اگر اپنے زرامانت میں مجرا کرکے لیتی رہے تو مضائقہ نہیں ورنہ اس کالینا بھی روانہیں واﷲ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۲۷۶:                            مرسلہ مولوی احسان صاحب از مسجد جامع                    ۹ رجب ۱۳۱۶ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس صورت میں کہ ایك تاجر کتب فروش نے دوسرے تاجر مشتری کو بقلم خود یہ عبارت تحریر کی کہ قرآن مجید مرتضوی مترجم کی اگر آپ سو جلد طلب فرمائیں گے تو بارہ آنے فی جلد کے حساب سے دیا جائے گا اور قرآن شریف مرتضوی کا نرخ تاجرانہ خاص آپ کو لکھا گیا ہے انتہی عبارتہ اور اس کا رڈ پر اپنے دستخط کئے علاوہ اس کے اور کارڈوں پر بھی ان کے دستخط موجود ہیں،جب ان سے جلدیں قرآن شریف کی حسب التحریر ان کے طلب کیں تو اپنی تحریر سے صاف انکار کرگئے کہ نہ میں نے لکھا اور نہ دستخط کئے توآ یا شرع شریف میں ایسے شخص کے واسطے کیا حکم ہے،اور ایفائے وعدہ واجب اور لازم ہے یانہیں ؟اور معہود کو حق مطالبہ پہنچ سکتاہے یانہیں ؟ اور فیما بین تجاروں کے ہزاروں روپیہ کا تبادلہ ہوا کرتا ہے اور اس سے کوئی منحرف نہیں ہوتا اور یہ فیما بین تجار کے قرارداد واثق ہوتاہے،بینوا توجروا

الجواب:

اگر واقع میں اس نے لکھا اور دستخط کئے تھے تو انکار کرنے سے جھوٹ بولنے کا گنہگار ہوا مگر وفائے وعدہ پر جبری مطالبہ نہیں پہنچتا،فتاوٰی خانیہ وفتاوٰی ظہیریہ وفتاوٰی عالمگیریہ وغیرہا میں ہے:

ان انجز وعدہ کان حسنا والا فلا یلزم الوفاء بالمواعید [1]،واﷲ تعالٰی اعلم۔

اور اگر وعدہ کو پورا کرے تو بہتر ہے ورنہ وعدوں کو پورا کرنا اس پر لازم نہیں۔اور اﷲ تعالٰی بہتر جانتاہے۔(ت)

 


 

 



[1] فتاوٰی ہندیہ کتاب الاجارۃ الباب السابع نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۴۲۵



Total Pages: 715

Go To