Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

(۳)کیا بیع خیار میں شیئ مبیعہ پر فورا قبضہ ہونا چاہئے؟

(۴)اگر شیئ مبیعہ پر قبضہ نہ ہوا تو بیع خیار قائم رہی یا نہیں؟

(۵)اگر شے پر قبضہ تو نہیں ہوا بلکہ روپیہ کا منافع جس حساب سے باہمی ٹھہراتھا وہ ملا کیا تو بیع خیار قائم رہی یانہیں ؟

(۶)اگر بعد میعاد گزرجانے کے یہی مشتری بیع خیار طے شدہ منافع اپنا لیتا رہا جائداد پر قبضہ نہیں کیا تو یہ منافع سود ہوا یا نہیں،جاء ز ہے یا ناجائز؟

(۷)کیا بائع اندر میعاد بیع خیار جائداد کو اسی شخص یا کسی غیر شخص سے بیع کرکے روپیہ واپس کرکے جائداد واپس لے سکتا ہے؟

(۸)کیا بعوض روپیہ واپس کرنے کے ایك جُزو اسی جائداد کا مشتری بیع خیار کو بیع قطع کرکے بقیہ اپنی جائداد واپس کرسکتا ہے؟

(۹)کیا مشتری بیع خیاربخوشی خاطر ایك جزو جائداد کا بائع کوواپس کرکے بقیہ جائداد کو بیع قطعی کرتا ہے تو اس صورت میں کوئی ملزم شرعی ہوگا؟

(۱۰)اگر بعد انقضائے میعاد متعینہ بیع خیار کوئی کاروائی فیما بین بائع ومشتری نہیں ہوئی بلکہ تین سال اور زائد تك وہی عملدرآمد یعنی وہی طے شدہ منافع اسی روپیہ کا لیتا رہا تو اس صورت میں یہ رقم وصول شدہ مشتری سود ہے اور مشتری سود خور ہوا یا نہیں اس کا استقرار تاریخ تحریر دستاویز سے ہوگا یا انقضائے میعاد کے بعد سے؟

(۱۱)اس قسم کی دستاویز مع خیار جس کا شیئ مبیعہ پر قبضہ نہیں ہوا صرف روپیہ کا منافع طے شدہ ملتارہا،بعد ختم میعاد بھی کوئی کاروائی نہیں ہوئی تو اس شکل میں دستاویز بیع قطع لکھانا بہتر ہے یا بدستور وہی دستاویز بیع خیار قائم رکھنا؟

الجواب:

بیع خیار شرع میں تو اسے کہتے ہیں کہ بائع ایك چیز اس شرط پر بیچے یا مشتری اس شرط پر خریدے کہ مجھے تین دن تك اختیار ہےکہ بیع قائم رکھوں یا نہیں خواہ دونوں اپنے لئے تین دن اختیار ہونے کی قید لگالیں،یہ اختیار تین دن سے زیادہ کانہیں لگاسکتے اور کم میں ایك دین یا ایك گھنٹہ جو چاہیں مقرر کریں،اس مدت کے اندر ایك یا دونوں جس کا خیار شرط کیا گیا ہے اسے اختیار ہوگا کہ بیع نامنظور کردے وہ فسخ ہوجائےگی اور اگر مدت مقرر کردہ گزر گئی تو بیع لازم ہوجائے گی مگر سائل نے بیع بالوفاء کو بیع بالخیار کہا ہے،اس کی صورت یہ ہوئی کہ زید نے ایك چیز عمرو کے ہاتھ بیچی اور سال دوسال یا کم بیش باہم ایك مدت طے کرلی کہ اس مدت میں زید زرثمن نہ دے گا تو بیع قطعی ہوجائے گی اس صورت میں اکثر تو یہ کرتے ہیں کہ وہ چیز قبضہ مشتری میں دے دیتے ہیں مشتری اس سے نفع حاصل کرتا رہتا ہے بذریعہ سکونت یا کرایہ یا زراعت وغیرہ یہ حرام ہے کہ صحیح ومعتمد مذہب میں بیع وفاء بیع نہیں رہن ہےمشتری مرتہن کو رہن سے نفع حاصل کرنا حرام ہے،حدیث میں ہے:

کل قرض جرمنفعۃ ھو ربٰو [1]۔

جو بھی قرض نفع دے وہ سود ہے(ت)

اور پورے بیباك یہ کرتے ہیں کہ چیز بھی بائع کے قبضہ میں رہتت ہے اور اس سے اپنے روپیہ کا نفع اٹھایا جاتا ہے یہ رہن بھی نہ ہوا کہ رہن بے قبضہ باطل ہے۔

قال اللہ تعالٰی " فَرِهٰنٌ مَّقْبُوْضَةٌؕ "[2] (الله تعالٰی نے فرمایا تو رہن ہو قبضہ میں دیا ہوا۔ت)یہ نفع جو اس پر ٹھہرا کھلا سود اورنرا حرام ومردود ہے۔

بالجملہ یہ بیع کسی صورت میں نہیں ہے،مشتری کا قبضہ نہ ہوا،جب تو اسے جائداد سے کوئی تعلق ہی نہیں،جتنا روپیہ دےا ہے جب چا ہے واپس لے سکتا ہے میعاد گزری ہو یانہیں کہ بوجہ عدم رہن سادہ قرض رہ گیا اور قرض کے لئے شرعا کوئی میعاد نہیں،اگر مقرربھی کی ہے اس کی پابندی نہیں اس دئے ہوئے روپیہ سے ایك حبہ زائد اس کو حرام ہے،نہ میعاد گزرنے پر اس جائداد میں اس کا کوئی حق ہے،اور اگر مشتری کا قبضہ ہوگیا ہے تو وہ رہن ہے مشتری کو اس سے نفع لینا حرام ہے،اور بائع ہر وقت روپیہ دے کر جائداد واپس لے سکتا ہے اگرچہ میعاد گزرگئی ہو،اور یہ بھی کرسکتا ہے کہ اسی جائداد کا کوئی حصہ باہمی رضامندی سے مشتری کے ہاتھ بیع قطعی بعوض دین کر دے اور باقی جائداد واپس لے لے،رہا بائع یا مشتری کا دوسرا کے ہاتھ جائداد کا کل یا بعض بیچنا،اگرقبضہ مشتری نہیں ہوا ہے جب تو بائع کو اس کا اختیار کامل ہے کہ وہ اس کی ملك خالص ہے،اور مشتری کو اصلا اختیار نہیں کہ اسے جائداد سے کوئی تعلق نہیں،اوراگر قبضہ مشتری ہوگیا ہے تو اگر بائع بیچے تو یہ بیع مشتری کی اجازت پر موقوف ر ہے گی کما ھو حکم بیع المرھون(جیسا کہ مرہون کی بیع کاحکم ہے۔ت)

سوال اخیر کا جواب یہ ہے کہ اس صورت میں نہ بیع ہے نہ رہن ہے قائم کس چیز کو رکھا جائے اور بیع قطعی کرنا نہ کرنا بائع کو اختیار ہے مشتری کو اپنے روپیہ کے سوا کوئی دعوٰی ا س پر نہیں۔واللہ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۱۷: از شہر محلہ سبزی منڈی بازار مرسلہ ولایت حسین صاحب مورخہ ۱۸ ربیع الاول ۱۳۳۷ھ

زید بکر کے پاس آیا اور یہ کہا کہ ایك صاحب کو کپڑا کی ضرورت ہے اور اس کو کچھ کپڑا سلوانا بھی ہے،بکر سلائی کا کام بھی کرتا ہے،بکر نے تین دکانات پر سے مختلف قسم کے پارچہ مالکان مال سے ان کی قیمت طے کرکے زید کے ساتھ صاحب کے یہاں چلا گیا،زید نے یہ کہا کہ میں ان صاحب کو کپڑا دکھانے جاتاہوں اور وہ کپڑے کو لے کر چلا گیا،بکر نہ وہ شخص ملانہ کپڑا ملا،اب مالکان مال کو شرعا بکر سے اس پارچہ کی قیمت لینے کا حق ہے یانہیں؟ فقط

الجواب:

بیچنے والے اپنے کپڑوں کا تاوان بکر سے لے سکتے ہیں،

لان المقبوض علی سوم الشراء مضمون،واللہ تعالٰی اعلم

 



[1]         کنزالعمال فصل فی لواحق کتاب الدین حدیث ۱۵۵۱۶ مؤسستہ الرسالہ بیروت ۶/ ۲۳۸

[2]         القرآن الکریم ۲ /۲۸۳



Total Pages: 247

Go To