Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

___________________

باب المرابحۃ

(بیع مرابحہ کا بیان)

مسئلہ ۱۰۳: ۱۰ جمادی الاولٰی ۱۳۱۹ھ

زید نے عمرو سے کہا کہ تم عہ/ روپیہ کا مال اپنے روپے سے خرید لو بعد خریدنے تمھارے کے میں تم سے عہ اِ ایك روپیہ آنہ دے کر خرید لوں گا اور ایك ماہ میں دوں لگا کیونکہ میرے پاس روپیہ نہیں تو اس صورت میں نفع جائز ہے یانہیں ؟ بینوا توجروا

الجواب:

جائزہے مگر یہ ثمن کی زیادتی اگر معمولی نرخ سے اس بناء پر بڑھائی گئی کہ زید قرض خریدتاہے تو بہتر نہیں

لما فیہ من الاعراض عن مبرۃ الاقراض کما افادہ فی الفتح وردالمحتار وغیرھما من الاسفار،واللہ تعالٰی اعلم۔

کیونکہ اس میں قرض دینے کی نیکی اور مروت سے اعراض ہے جیسا کہ اس کا فائدہ فتح اور ردالمحتاروغیرہ کتابوں نے دیا ہے۔والله تعالٰی اعلم۔(ت)

مسئلہ ۱۰۴: از کاٹھیا وارر دھوراجی محلہ سیاہی گراں مسئولہ حاجی عیسٰی خاں محمد صاحب ۸ جمادی الاولٰی ۱۳۳۰ھ

نوٹ کی بیع مرابحہ یعنی نوٹ بیچا اور کہا کہ فی روپیہ ایك آنہ لکھی ہوئی رقم سے زیادہ لوں گاجائز ہے یانہیں ؟

الجواب:

یہ مسئلہ تنقیح طلب ہے ہم اولا: عبارات کتب ذکر کریں پھر بتوفیق الله تعالٰی اپنے تحقیق پھر صورت مسئولہ کاحکم وبالله التوفیق،فاعلم ان ائمتنا رحمہم اللہ تعالٰی عرفوا المرابحۃ فی المتون بانہا نقل مامبلکہ بالعقد الاول بالثمن الاول مع زیادۃ ربح کما فی الھدایۃ[1]۔واختصرہ فی الکنز فقال بیع بثمن سابق وزیادۃ [2] وکلام عامتہم تدور حول ذٰلك واعترضہم الشراح بانہ منتقض طردا وعکسا واطالوا فیہ بما افادوا احکام فروع وقد اجبیب عن اکثر الایرادات بما یتم اولا کما بسطہ فی العنایۃ والفتح وغیرھا ولما کان منشأ اکثرھا العقد والثمن ترکہما فی الدرر وقال بیع مامبلکہ بمثل ماقام علیہ بزیادۃ،[3] ولا یسلم ایضا من بعض النقوض،ولسنا ھھنا بصدد سردہا مع مالہا وعلیہ، وقام  العلامۃ البحر فی البحرالرائق لیأتی بحد جامع مانع لا یرد علیہ شیئ اصلا فاطال بالاستیعاب شروط الجواز ولم یتم ایضا کما ستعرفہ ان شاء اللہ تعالٰی ووقع ھھنا فی نسختہ المطبوعۃ نقل ما مبلکہ بغیر عقد الصلح والہبۃ بشرط عوض بما یتعین بعین ماقام علیہ اوبمثلہ اوبرقمہ [4] الخ،قال محشیہ العلامۃ الشامی فی المنحۃ قولہ بما یتعین متعلق بما مبلکہ [5] اھ وھذا یفید انہ کذٰلك بالباء فی نسختہ وقد یجنح الی تاییدہ قول البحر تحت قول الماتن شرطہما(ای التولیۃ و المرابحۃ کون الثمن الاول مثلیا مانصہ عبارۃ المجمع اولی وھی ولایصح ذٰلك حتی یکون العوض مثلیا اومملوکا للمشتری، قال ولکن لابد من التقیید بالمعین للاحتراز عن الصرف فانہ لایجوز ان فیہما [6] اھ فانہ ھھنا فی بیان العوض فاوھم اشتراط ان یکون مبلکہ بما یتعین۔

تو جان لے کہ ہمارے ائمہ کرام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ مْ نے متون میں مرابحہ کی تعریف یوں کی ہےکہ مرابحہ وہ بیع ہے کہ عقد اول کے ساتھ جس چیز کا مالك ہواہے اس کو ثمن اول مع کچھ نفع کی زیادتی کے دوسرےکو منتقل کرنا،جیساکہ ہدایہ میں ہے،کنز میں اس کو مختصر کرکے کہا کہ ثمن اول اور کچھ اضافے کے ساتھ فروخت کرنا،عام فقہاء کا کلام اسی تعریف کے گرد گھومتا ہے،شارحین نے اس پر اعتراض کیا کہ یہ تعریف جامع اور مانع نہیں انھوں نے اس میں طویل کلام کیاجو کئی فروعی حکام کا مفید ہے،اور تحقیق ان میں سے اکثر اعتراضوں کے تام یا غیرتام جوابات دئے گئے،جیسا کہ عنایہ اور فتح وغیرہ میں اس کی تفصیل مذکور ہے،چونکہ اکثر اعتراضات کامنشا لفظ عقدا ور لفظ ثمن ہے،چنانچہ درر میں ان دونوں کو چھوڑ کر یوں کہا جس چیز کا مالك ہوا ہے وہ چیز جتنے میں اس کو پڑی ہے اس کی مثل اور کچھ زیادہ کے ساتھ اس کو منتقل کرنا،یہ تعریف بھی بعض اعتراضات سے محفوظ نہیں اور ہم ان اعتراضات کی تفصیل ان کے مالہ،اور ماعلیہ کے درپے نہیں ہیں،علامہ صاحب البحر اس بات پر کمربستہ ہوئے کہ وہ بحرالرائق میں ایسی جامع مانع تعریف لائیں گے جس پر کوئی اعتراض وارد نہ ہوتاہو،چنانچہ انھوں نے شروط جواز کا احاطہ کرنے پر طویل کلام کیا مگر وہ بھی تام نہیں جیساکہ ان شاء الله تعالٰی عنقریب تو جان لے گا،یہاں پر نسخہ مطبوعہ میں یوں واقع ہے کہ عقد صلح اورہبہ بشرط عوض کے بغیر جس چیز کا متعین ثمن کے بدلے میں مالك ہواہے اس کو بعینہٖ اس ثمن کے بدلے میں جس میں اس کوپڑی یا اس کی مثل کے بدلے میں یا اس پرلکھی ہوئی قیمت کے بدلے میں منتقل کرنا الخ اس کے محشی علامہ شامی نے منحہ میں فرمایا صاحب بحر کا قول"بمایتعین"اس کے قول "ما ملکہ"سے متعلق ہے اھ اور یہ اس امر کا مفید ہے کہ محشی کے پیش نسخہ میں بھی عبارت اس طرح ہے یعنی"بما"پر باء کے ساتھ،اور اس کی تائید کی طرف مائل ہے،ماتن کے قول "تولیہ ومرابحہ دونوں کے لئے ثمن اول کا مثلی ہونا شرط ہے" کے تحت وارد ہونے والا بحر کا قول جس میں اس نے نص کی کہ مجمع کی عبارت اولٰی ہے جویہ ہے کہ تولیہ ومرابحہ صحیح نہیں ہوتا جب تك عوض مثلی یا مشتری کی ملکیت میں نہ ہو،صاحب بحر نے کہا کہ لیکن عبارت مجمع کے لئے معین کی قید ضروری ہے تاکہ بیع صرف سے احتراز ہوجائے کیونکہ تولیہ ومرابحہ دونوں دراہم و دنانیر میں جائز نہیں اھ،کیونکہ اس عبارت میں یہ قید بیان عوض میں ہے لہٰذا اس سے وہم ہوتاہے کہ وہ معین ثمن کے عوض مالك بنا ہو،

 



[1]     الہدایہ کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ مطبع یوسفتی لکھنؤ ۳ /۷۳

[2]      کنز الدقائق باب التولیۃ والمرابحۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۳۲

[3]      الدررالحکام فی شرح غررالاحکام باب المرابحۃ والتولیۃ میر محمد کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۸۰

[4]      بحرالرائق کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶/ ۱۰۷

[5]      منحۃ الخالق علی البحرالرائق باب المرابحۃ والتولیۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶/ ۱۰۷

[6]      بحرالرائق کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶/ ۱۰۸



Total Pages: 247

Go To