Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

(لہ) ای لللمشتری (ان یردہ اذا راٰہ) الا اذا حملہ البائع لبیت المشتری فلا یردہ اذا راٰہ الا اذا اعادہ الی البائع اشباہ (ویثبت الخیار)للرؤیۃ(مطلقًا غیر موقت) بمدۃ ھو الاصح،عنایۃ،لاطلاق النص مالم یوجد مبطلہ و ھو مبطل خیار الشرط مطلقًا ومفید الرضا بعد الرؤیۃ لاقبلھا،درر،[1] اھ مختصرا۔واللہ تعالٰی اعلم۔

اس کو یعنی مشتری کو اختیار ہے کہ بیع کو رد کردے جب مبیع کو دیکھے مگر جب بائع مبیع کو مشتری کے گھر اٹھالایا ہو تو اب مشتری نے اسے دیکھنے پر رد نہ کیا ہو،ہاں اگر مشتری نے مبیع کو بائع کی طرف لوٹا دیا تو رد ہوجائے گا __(اشباہ)اور خیار رؤیت مطلقًا ثابت ہوتا ہے کسی مدت کے ساتھ مقید نہیں ہوتا یہی زیادہ صحیح ہے(عنایہ)کیونکہ نص میں اطلاق ہے جب تك مبطل خیار رؤیت نہ پایا جائے اور اس کا مبطل وہی ہے جو خیار شرط کا مبطل ہے مطلقًا یعنی قولی ہویا فعلی،اور وہ فعل یا قول بھی مبطل ہے جو مفید رضا ہوجبکہ وہ رؤیت کے بعد پایا جائے نہ کہ رؤیت سے پہلے،درر اھ(مختصرًا)والله تعالٰی اعلم۔(ت)

مسئلہ ۴:مسئولہ عظیم الدین افسر مدرس مدرسہ مسعودیہ درگاہ شریف حضرت سید مسعود غازی صاحب سالار،بروز شنبہ،۱۰ ربیع الثانی ۱۳۳۴ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کسی اراضی کا بیع کامل کب ہوسکتا ہے جبکہ مشتری پورا زر ثمن اداکردے اگر مشتری پورانہ اداکرے تو تا ادائے زرثمن کے اس ارارضی کا حاصلات مشتری کو حلال اور مباح ہے یانہیں۔اس صورت میں کہ اس نے زر ثمن پورا ادا نہیں کیا بائع سے کچھ روپیہ زر سود کا مشتری نے زرثمن مجرالیا ہے کچھ روپیہ مشتری بائع کو زائد زرثمن دینا ظاہر کرتا ہے حالانکہ بائع کہتا ہے کہ یہ روپیہ بوجہ اقراری مجھے دیا گیا ہے یا بطور خیرات،پس یہ روپیہ زر سود میں جو مشتری نے بائع سے لیا ہے وضع ہوسکتا ہے یانہیں؟فقط۔

الجواب:

بیع ایجاب وقبول سے تمام ہوجاتی ہے،چیز بائع کے ملك سے نکل کر مشتری کی ملك میں داخل ہوجاتی ہے ہاں پہلے مشتری کو چاہئے کہ ثمن اداکرے،بائع کو اختیار ہے کہ جب تك ثمن نہ لے مبیع سپرد نہ کرے لیکن اگر اس نے بعض یا کل ثمن لینے سے پہلے مبیع اس کے قبضہ میں دے دی تو اس سے جو کچھ منافع حاصل ہوں ملك مشتر ی ہیں مشتری کے لئے حلال ہیں مشتری نے بائع سے جو سود لیا وہ حرا م قطعی ہے،اور بداقراری کے معاوضہ میں کچھ روپیہ جرمانہ لینا بائع کو حرام ہے لیکن بائع یہ روپیہ اس سود میں مجرا لے سکتا ہے جو مشتر ی نے اس سے لیا تھا جبکہ اس کی مقدار سے زائد نہ ہو،والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ۵: از شہر گونڈہ انجمن اسلامیہ مرسلہ جناب مرزا محمود بیگ صاحب وکیل وسکریٹری انجمن اسلامیہ گونڈہ ۳ رمضان ۱۳۳۲ھ

خدمت مبارك میں نقل دستاویزات مؤرخہ ۶ فروری۱۹۰۸ء و ۱۲ جنوری ۱۹۰۹ءبھیج کر مستدعی ہوں کہ براہ مہربانی مطلع فرمائیے کہ آیا دستاویزات جائز ہے بموجب دستاویزات مذکور الصدر کے انجمن اسلامیہ گونڈہ نے مکانات سید مقبول احمد وسید منظور احمد بیع بالخیار لئے ہیں اور قبضہ انجمن کا اس طورپر ہے کہ علیحدہ سرخط کرایہ نامہ لکھا لیا ہے اور کرایہ مبلغ(عہ/عہ ماہ بماہ)انجمن وصول کرتی آئی ہے جوکرایہ وصول ہوتا ہے ہو مصارف انجمن پر خرچ ہوتا ہے،آیا یہ رقم کرایہ شرعا جائز ہے اور انجمن اس کو جائز طورپر صرف کرسکتی ہے ؟

الجواب:

دونوں دستاویزیں ملاحظہ ہوئیں دونوں باطم محض ہیں،دو برس کےلئے بیع بالخیار شریعت مطہر میں کہیں نہیں،کرایہ کہ الٹامالکان مکان سے غیر مالکوں نے لیا سب حیلہ باطلہ اور نرا سود ہے انجمن پر فرض ہے کہ جتنا کرایہ اس وقت تك وصول کیا ہو مالکوں کو واپس دے یا اپنے دئے ہوئے قرض میں مجرا کرکے اتنی رسید مالکوں کو دے دے،حدیث شریف میں رسول الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں:

کل قرض جرمنفعۃ فھو ربٰو [2]۔

ہر قرض جو منفعت کو کھینچے وہ سود ہے۔(ت)

یہ صورت حقیقۃً رہن کی ہے خود بائعوں نے دوسری دستاویز میں اُسے جائداد مستفرقہ کہا اور میعاد دوسال اسے مکفول لکھا بس حقیقت اس قدر ہے باقی بیع کا بے معنی نام محض حیلہ خام ہے اور رہن بے قبضہ باطل ہے، قال اللہ تعالٰی"فَرِهٰنٌ مَّقْبُوْضَةٌؕ "[3]

(الله تعالٰی نے فرمایا:تو رہن ہو قبضہ میں دیا ہوا۔ت)

نیز مالکوں کا اپنی ملك غیر مالکوں سے کرایہ پر لینا شدید باطل ہے تو اس ماہورا کی اصل حقیقت سود ہے اور بنام اجارہ باطلہ لینا اتنا بھی اثر نہ دے گا جو سود مردود کی ملك خبیث سے ہوتا بلکہ مالکوں کو تمام وکمال واپس دینا فرض ہے لعدم الملك فکان غصبا فوجب الرد و الضمان ھالکا (ملك نہ ہونے کی وجہ سےلہٰذا وہ غصب ہوگا تو اس کا لوٹانا اور ہلاکت کی صورت میں ضمان واجب ہوگا۔ت)والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۶ تا ۱۶:ازقصبہ رسیون محلہ میرزاد گان بمقام مسجد میرزادگان ضلع اناؤ مرسلہ قادرعلی صاحب ۱۶جمادی الآخر ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسائل میں:

(۱)بیع خیار کی تعریف کیا ہے؟

(۲)کیا شرائط اس میں ضروری ہیں اور انتہائے مدت اس کی کیا ہے؟

 



[1]          الدارالمختار کتاب البیوع باب خیار الرؤیۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۴

[2]          کنز العمال حدیث ۱۵۵۱۶ موسستہ الرسالہ بیروت ۶ /۲۳۸

[3]          القرآن الکریم ۲ /۲۸۳



Total Pages: 247

Go To