Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

لازم ہوگئی،فرق کیا گیا ہے درمیان مذکورہ صورت کے اور درمیان اس کے کہ زندہ دنبہ کی چکی،کجھور میں موجود گٹھلی زیتون میں موجودروغن،گندم میں موجود آتا،تربوز میں موجود بیچ اور اس طرح کی دیگر اشیاء فروخت کی جائیں کیونکہ ان میں سرے سے بیع منعقد ہی نہیں ہوتی یہاں تك اگر بائع مبیع کو مشتری کے حوالے بھی کردے تب بھی جائز نہ ہوگی اور اصل محفوظ یہ ہے کہ اگر

اتصال ثابت باصل الخلقۃ فبیعہ باطل وما لایمکن تسلیمہ الا بضرر یرجع الی قطع اتصال عارض فبیعہ فاسد الا ان یقطع باختیارہ ویسلم فیجوز ولقیاس علی ھذا الاصل ان یجوز بیع الصوف علی ظھرالغنم لانہ یمکن تسلیمہ من غیر ضرر یلزمہ بالحز الاانہم استحسنوا عدم الجواز للنص وھو ماروی عن ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما عن رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ولان الجزء من اصلہ لایخلو عن الاضرار بالحیوان وموضع الجز فیما فوق ذٰلك غیر معلوم فتجری فیہ النازعۃ فلایجوز [1] اھ ملتقطا اقول:فکان ھذا من باب عدم ارتفاع المفسد وقولہ"جذ عالہ فی مقف اواٰجر لہ فی حائط"یحتمل المعین فلا فساد الامن جہۃ لزوم الضرر۔

تسلیم مبیع بائع کو ایسا ضرر پہنچے بغیر ممکن نہ ہو جو ضرر اصل خلقت سے ثابت شدہ اتصال کے قطع کی طرف لوٹتاہے تو بیع باطل ہوگی اور اگر تسلیم مبیع ایسے ضرر کے بغیر ممکن نہ ہوجو اتصال عارضی کے قطع کی طرف لوٹتا ہے تو بیع فاسد ہو گی مگر جب بائع اپنے اختیار سے قطع کرکے تسلیم مبیع کردے توبیع جائز ہوجائیگی۔او راس اصل پر قیاس کا تقاضا ہے کہ بکریوں کی پشت پر اگی ہوئی اون کی بیع جائز ہو کیونکر اس میں تسلیم ممکن ہے بائع کو ضرور لاحق ہوئے بغیر جو بسبب اون کاٹنے کے لازم آتاہے مگر فقہاء نے اس کے جائز نہ ہونے کو مستحسن قرار دیا اس نص کی وجہ سے جس کو سیدنا حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما نے رسول الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے روایت فرمایا اور اس وجہ سے کہ اون کو جڑ سے کاٹنا حیوان کو ضرر پہنچانے سے خالی نہیں اور جڑکے اوپر سے کاٹیں تو کاٹنے کی جگہ متعین نہیں لہٰذا س میں جھگڑا پیدا ہوگا اس لئے ناجائز ہے الخ پس میں کہتاہوں کہ یہ مفسد کے دور نہ ہونے کے باب سے ہوگیا اور صاحب بدائع کا قول کہ"بائع نے چھت میں لگی شہتیر یا دیوار میں لگی ہوئی اینٹیں فروخت کیں"تو اس میں احتمال ہے کہ وہ شہتیر اور اینٹیں معین ہوں تو اس میں سوائے لزوم ضرر کے کسی اورجہت سے فساد نہ ہوگا۔(ت)

بلکہ درمختارمیں ہے:

(فسد)بیع(جذع)معین(فی سقف)اما غیر المعین فلا ینقلب صحیحا ابن کمال(وزراع من ثوب یضرہ التبعیض)فلو قطع وسلم قبل فسخ المشتری عاد صحیحا ولو لم یضرہ القطع ککر باس جاز لانتفاء المانع [2]۔

چھت میں لگی ہوئی معین شہتیر کی بیع فاسد ہے رہی غیر معین تو اس کی بیع نہیں ہوسکتی(ابن کمال)اور جس کپڑے کو تبعیض نقصان دے اس میں سے ایك گز کی بیع فاسد ہے پھر اگر مشتری کے بیع کو فسخ کرنے سے قبل بائع نے اس کپڑے کو کاٹ کر مشتری کے سپرد کردیا تو بیع جائز ہوگئی اور اگر کاٹنا اس کو نقصان نہیں پہنچاتا تو مانع کے نہ ہونے کی وجہ سے بیع جائز ہے۔(ت)

مگر ردالمحتار میں ہے:

وھو ضعیف لانہ فی غیر المعین معلل بلزوم الضرر الجہالۃ فاذا تحمل البائع الضرر وسلمہ زال المفسد وارتفعت الجہالۃ ایضا ومن ثم جزم فی الفتح بانہ یعود صحیحا [3] عــــــہ 

اور وہ ضعیف ہے کیونکہ غیر معین میں فساد بیع کی علت لزوم ضرر اور جہالت کو قرار دیا گیا تو جب بائع نے ضررکو برداشت کرلیا اور مبیع مشتری کے سپرد کردیا تو مفسد زائل ہوگیا اور جہالت بھی جاتی رہی،یہی وجہ ہے کہ فتح میں اس پر جز م کیا گیا کہ بیع صحت کی طرف پلٹ آئے گی۔(ت)

 

عــــــہ:جواب ناتمام ملا۔

_______________________

باب البیع المکروہ
(بیع مکروہ کا بیان)

مسئلہ ۸۹: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ غلہ کوروك کر بیچنا جائزہے یانہیں ؟ بینوا توجروا

الجواب:

غلہ کو اس نظر سے روکنا کہ گرانی کے وقت بیچیں گے بشرطیکہ اسی جگہ یا اس کے قریب سے خریدا اور اس کانہ بیچنا لوگوں کو مضر ہو مکروہ وممنوع ہے،اوراگر غلہ دور سے خرید کر لائے اور باتنظار گرانی نہ بیچے یانہ بیچنا اس کا خلق کو مضرنہ ہو تو کچھ مضائقہ نہیں،

فی العالمگیریۃ الاحتکار مکروہ وذٰلك ان یشتری ذٰلك یضر بالناس کذا فی الحاوی وان اشتری فی ذٰلك المصر وحبسہ ولایضر باھل المصر لاباس بہ کذا فی التتارخانیۃ ناقلاعن التجنیس واذا اشتری من مکان قریب من المصرفحمل طعاما الی المصر وحبسہ و ذٰلك یضر باھلہ فہو مکروہ ھذا قول محمد وھو احدی الروایتین عن ابی یوسف وھو المختار ھکذافی الغیاثیۃ وھو الصحیح ھکذا فی جواہر الاخلاطی،وفی الجامع الجوامع فان جلب من کان بعید واحتکر لم یمنع کذا فی التاتارخانیۃ [4]۔

 عالمگیریہ میں ہے احتکار مکروہ ہے اس کی صورت یہ ہے کہ شہر میں غلہ خرید لے اور اس کو فروخت کرنے سے روك رکھے اوریہ روکنا لوگوں کے لئے نقصان دہ ہو یہ حاوی میں ہے اور شہر میں خرید کر اس کے بیچنے سے روکا مگر اس سے لوگوں کو ضرر نہیں پہنچتا تو کوئی حرج نہیں یونہی تاتارخانیہ میں تجنیس سے نقل کیا گیا ہے،اور اگر شہرکے قریب سے خریدا اور شہر



[1]         بدائع الصنائع کتاب البیوع فصل واماشرائط الصحۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۱۶۷

[2]          درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴

[3]          ردالمحتار کتاب البیوع باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۹۔۱۰۸

[4]                      فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع فصل فی الاحتکار نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۲۱۳



Total Pages: 247

Go To