Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

 

 

 

 

 

 

بابُ الرّبٰو
(سُود کابیان)

مسئلہ۱۲۹:کیافر ماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جس چیز کی جنس اور تول دونوں ایك نہ ہوں اس کو باختیار اپنے خلاف بازار نرخ کرنا اور وعدہ پر بیچنا درست ہے یانہیں ؟ مثلًا چاندی سونا عوض سونے کے یا چونے یا غلے کے عوض بیچے تو اس میں ادھار دینا اور تھوڑے مال کو بہت کے عوض میں بیچنا درست ہے یانہیں ؟ اور اگر وعدہ پر بیچے تو کس قدر مدت کا وعدہ شرعًا جائز ہے؟ بینواتوجروا

الجواب:

اندازہ شرعی جو دربارہ ربوٰ معتبر ہے دو قسم ہے:کیل یعنی ناپ اور وزن بمعنی تول،اور حلت وحرمت کا قاعدہ کلیہ یہاں چار صورت میں بیان ہوتا ہے:

صورت اولٰی:جو دو چیزیں اندازہ میں مشترك ہیں یعنی ایك ہی قسم کے اندازہ سے ان کی تقدیر کی جاتی ہے مثلًادونوں وزنی ہیں یا دونوں کیلی،اور دونوں ہیں بھی ایك جنس کے،مثلًا گیہوں گیہوں یا لوہا لوہا،تو ایسی دو۲ چیزوں کی آپس میں بیع اسی وقت صحیح ہے جب دونوں اپنے اسی اندازہ میں جو شرعًا یا عرفًا ان کا مقرر ہے بالکل برابر ہوں اور ان میں کوئی ادھار بھی نہ ہو،اور اگر ایسی دو چیزیں ایك یا دونوں ادھار ہوں یا اپنے اس اندازہ مقرر میں برابر نہ کی گئیں،اب خواہ سرے سے اندازہ ہی نہ کیا گیا یا اندازہ کیا مگر کمی بیشی رہی یا برابری تو کی مگر دوسری قسم کے اندازہ سے کی مثلًا جو تول کی چیز تھی اسے ناپ کے برابر کیا 


 

 



Total Pages: 715

Go To