Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

مسئلہ ۵۱:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آجکل دکاندار عموما ہر چیز کی قیمت بڑھاکر کہتے ہیں اور پھر اس سے کم پر بیچ ڈالتے ہیں یہ شرعا جائز ہے یا نہیں ؟ ہر ایك کا چار پیسے کی چیز کا دگنی یاتین گنی قیمت پر فروخت کرناجائز ہے ؟ بینوا توجروا

الجواب:

دونو ں باتیں جائز ہیں جبکہ جھوٹ نہ بولے،فریب نہ دے،مثلاکہا یہ چیز تین یا چار پیسے کی میری خرید ہے،اور خرید پونے چار کو تھی،یاکہا خرچ وغیرہ ملاکر مجھے سوا چار میں پڑی ہے اور پڑی تھی پونے چارکو،یاخریر وغیرہ ٹھیك بتائے مگر مال بدل دیا یہ دھوکا ہے،یہ صورتیں حرام ہیں اورنہ چیز ں کے مول لگانے میں کمی بیشی حرج نہیں رکھتی،والله تعالٰی اعلم۔

___________________

باب البیع الفاسد والباطل

(باطل اور فاسد بیع کا بیان)

مسئلہ ۵۲: عــــــہ

الجواب:

جائز ہے قال اللہ تعالٰی " وَاَحَلَّ اللہُ الْبَیۡعَ الله تعالٰی کا ارشاد ہے:اور الله تعالٰی نے بیع کو حلال فرمایا۔ت)بیع کا ناجائز و ممنوع ہونا تین صورتو ں میں منحصر ہے،باطل وفاسد ومکروہ تحریمی،بحرالرائق میں ہے:

البیع النہی عنہ ثلثۃ باطل وفاسد ومکروہ تحریما [1] الخ،اقول: والمراد صورۃ البیع الحاصلۃ جس بیع سے روکا گیا ہے وہ تین قسم پر ہے باطل،فاسد اور مکروہ تحریمی الخ،اقول:(میں کہتاہو ں)اس بیع سے مراد بیع کی وہ صورت ہے

 

عــــــہ: اصل میں سوال درج نہیں۔

من بعت واشتریب اعم من ان تحقق معناہ الشرعی اولا وذٰلك لان الباطل لیس بیعا منہا عنہ عندنا لان الباطل لیس بیعا اصلا فکیف یکون بیعا منہا عنہ وقد تقرران النھی یقرر المشروعیۃ و بہ ذھبوا الی تقسیمہم البیع الی باطل وفاسد وصحیح ان لم یکن تقسیم البیع الصوری ففیہ مسامحۃ ظاہرۃ۔

جویہ کہنے سے حاصل ہوتی ہے کہ میں نے بیچا اور میں نے خریدا عام ازیں کہ بیع کاشرعی معنی متحقق ہو یانہ ہو،اوریہ توجیہ اس لئے کی گئی کہ بیع باطل ہمارے نزدیك ممنوع بیع نہیں کیونکہ وہ سرے سے بیع ہی نہیں تو وہ ممنوع بیع کیسے ہوسکتی ہے،اور تحقیق سے ثابت ہوچکا ہے کہ نہی مشروعیت کو ثابت کرتی ہے اس لئے فقہاء نے بیع کو باطل،فاسد اور صحیح کی طرف تقسیم کیا اگر اس سے مراد بیع صوری کی تقسیم نہ ہو تویہ کھلی چشم پوشی ہے(ت)

باطل وہ ہے جس کے نفس عقد یا محل میں خلل ہو خلل عقد،مثل بیع وشراء مجنون کہ اس کاقول شرعا لاقول ہے تو اس کا بعت یا اشتریت نہ ایجاب ہوسکے نہ قبول،اور خلل محل مثل بیع بالمیتہ کہ میتہ مال نہیں، درمختارمیں ہے:

کل ما اورث خللا فی رکن البیع فہو مبطل [2]۔

اور جو چیز بیع کے رکن میں خلل پیداکرے وہ بیع کو باطل کرنے والی ہے۔(ت)

ردالمحتارمیں ہے:

ھوالایجاب والقبول بان کان من مجنون اوصبی لایعقل وکان علیہ ان یزید اوفی محلہ اعنی المبیع فان الخلل فیہ مبطل بان کان المبیع میتۃ اودما اوحرا اوخمرا کما فی ط عن البدائع [3]اھ اقول: الایجاب حدث لابدل من محل

 وہ(رکن)ایجاب وقبول ہے بایں طور کہ مجنون کی طرف سے ہو یا نہ سمجھ بچے کی طرف سے ہو،اور ماتن پر لازم تھاکہ وہ محل یعنی مبیع میں خلل کے ذکر کا اضافہ کرتے کیونکہ مبیع میں خلل بھی مبطل بیع ہے بایں طور کہ مبیع مردار،خون،حر یا شراب ہو جیسا کہ ط میں بحوالہ بدائع ہے الخ اقول:(میں کہتا ہو ں)کہ ایجاب حدث ہے جس کے وجو د کےلئے محل کا

کالضرب لاوجودلہ یدون مضروب فاذا العدم المحل بتطرق الخلل وجب انعدام الرکنین لانعدام ما یتعلقان بہ الاتری ان من قال بعتك نجوم السماء وامواج الھواء واشعۃ الضیاء وقال الاخر اشتریت لم یفہم ھذا ایجاب ولا قبولا فی الشرع فکذ ا قول القائل بعتك ھذا لحراواشتریت بھذ الدم اذا لا فاصل بعد انعدام المالیۃ والحاصل ان خلل المحل یوجب خلل الرکن فکان فیہ معنی من ذکرہ نعم لو ذکر لکان اظہر واوضح۔

موجود ہونا ضروری ہے جیساکہ ضرب کا وجود مضروب کے بغیر نہیں ہوسکتا،چنانچہ جب خلل کے پائے جانے کی وجہ سے محل معدوم ہونا واجب ہے بسبب ان کے متعلق کے معدوم ہونے کے،کیا نہیں دیکھتاہے تو کہ جس شخص نے کہا میں نے تجھ پرآسمان کے ستارے،ہوا کی موجیں اور روشنی کی شعاعیں فروخت کیں،دوسرے نے کہا میں نے خریدیں،تواس کی شرعا ایجاب وقبول نہیں سمجھا گیا اور یونہی ہے کسی کا یہ کہنا کہ میں نے تجھ پر یہ آزاد شخص فروخت کیا اور دوسرے کاکہنا کہ میں نے اس کو خون کے بدلے میں خریدا کیونکہ مالیت کے منعدم ہونے اور محل کے منعدم ہونے میں کوئی فرق نہیں، خلاصہ یہ کہ محل کا خلل لازم کرتاہے رکن خلل کو۔تو گویا خلل رکن کے ذکر میں معنی کے اعتبار سے خلل مبیع بھی مذکور ہوا،ہا ں اگر ماتن علیہ الرحمۃاس کا ذکر کردیتے تو زیادہ ظاہر اور زیادہ واضح ہوجاتا(ت)

 



[1]                      البحرالرائق کتاب البیوع باب البیع الفاسد ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶/ ۶۸

[2]         درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳

[3]         ردالمحتار کتاب البیوع باب البیع الفاسد دارحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۰۰



Total Pages: 247

Go To