We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

 

 

 

 

باب التصرف فی المبیع والثمن

(مبیع اورثمن میں تصرف کرنے کا بیان)

 

 

مسئلہ ۱۰۵:                              از بڑودہ پائگاہ قام حالہ مرسلہ سیدہ میاں حالہ                               ۱۹ ربیع الاخر شریف ۱۳۱۰ھ

قدوۃ العلماء عمدۃ الفضلاء اس مسئلہ کبیر میں کیا ارشاد فرماتے ہیں ایك شخص نے ایك عورت سے نکاح کیا۔چند روز کے بعد عورت نے اپنا مہر طلب کیا،خاوند اس کا کہنے لگا کچھ روپیہ اس وقت نقد مجھ سے وصول کرلے باقی روپیہ جو رہا مکان اور زمین نرخ بازار سے خرید لے اور جو اس سے بھی باقی رہے قسط بقسط ماہ بماہ دیتارہوں گا تیرا مہر بہرحال ادا کردوں گا۔عورت اس بات پر راضی ہوئی،شرع شریف میں یہ جائز ہے یا ناجائز ہے؟ مع مہر،سند کتاب عبارت عربی وترجمہ اردو خلاصہ تحریر فرمائے گا اس کا صلہ آپ کو اﷲ تعالٰی جل شانہ،عطا کرے گا فقط۔                          راقم سید ومیاں حالہ از بڑودہ۔

الجواب:

یہاں تین باتیں ہیں :۱بعض مہر کا بالفعل زر نقد سے ادا کرنا۔۲بعض کے عوض مکان وزمین نرخ بازار پر دینا۔باقی ماندہ کی قسط بندی ہونا،یہ تینوں امر شرعا جائز ہیں۔۱اول تو خود ظاہر ہے اگرچہ شرعاخواہ عرفا مہرمؤجل عدت وطلاق یا ایسی اجل پر موعود ہو جو ہنوز نہ آئی مثلا دس برس بعد دینا ٹھہرا تھا اس نے کُل یا بعض ابھی دے دیا عورت کو جبرا لینا ہوگا کہ اجل حق مدیون ہے۔ اور اسے


 

 



Total Pages: 715

Go To