Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

مسئلہ ۲۹۳ تا۲۹۷: ازکاٹھیاواڑ مسئولہ حاجی عیسٰی خان محمدصاحب ۸جمادی الاولٰی ۱۳۳۰ھ

(۱)زید نے عمروسے کہا میرے بکرپر روپے آتے ہیں تم وصول کرکے اپنے پاس جمع اور تصرف کاتمہیں اس میں اختیارہے جب مجھے ضرورت ہوگی لے لوں گا،یہ جائزہے یانہیں؟

(۲)زید نے عمرو کے ہاتھ ہزارکانوٹ بارہ سو کو چارمہینے کے وعدہ پربیچا اور تمسك لکھا لیاپھرزید نے بکر سے گیارہ سوکانوٹ بارہ سو کوخریدا اور کہہ دیا کہ عمرو پرمیرے بارہ سو آتے ہیں وصول کرلو اور اطمینان کے لئے وہ تمسك کہ عمرو نے لکھاتھا بکرکودے دیا، یہ جائزہے یانہیں؟

(۳)زید نے ہزارکانوٹ گیارہ سو کو عمرو کے ہاتھ وعدہ پربیچا اور یہ شرط کرلی کہ سوروپے نقدابھی لوں گا اور باقی ہزار روپے میعاد پراور ہزار کاتمسك لکھالیا پھرزید نے بکر سے ہزار کانوٹ ساڑھے دس سوکو خریدا اور پچاس فوراً اداکردئیے اور ہزار کاعمرو پرحوالہ کردیا اور اطمینان کے لئے وہی عمرو کا لکھاہواتمسك بکرکودے دیا،یہ جائزہے یانہیں؟

(۴)ہنڈی کی کیاتعریف ہے؟

(۵)جبکہ ہنڈی حرام ہے تو کوئی صورت شرعاً ایسی ممکن ہے کہ جائزطورپرہنڈی کامطلب اس سے حاصل ہوجائے۔

الجواب:

(۱)جائزہے فانہ توکیل بالقبض وتسویغ للقرض(کیونکہ یہ قبض کے لئے وکیل بنانا اور قرض دیناہے۔ت)واللہ تعالٰی اعلم۔

(۲)جائزہے،لانہ حوالۃ ومقابلۃ الاجل بقسط من الثمن والکل یجوز کمافی فتح القدیر۔واللہ تعالٰی اعلم۔

کیونکہ یہ حوالہ ہے اور اجل کے مقابلہ میں ثمن کاکچھ حصہ ہے اور یہ سب جائزہے جیسا کہ فتح القدیر میں ہے۔(ت)واللہ تعالٰی اعلم

(۳)جائزہے،یہ وہی صورت سابقہ ہے فقط اتنافرق ہے کہ اس میں بعض ثمن معجل اور باقی مؤجل ہے اور اس میں کل مؤجل اور بحال اختلاف جنس وقدریہ سب جائزہے۔واللہ تعالٰی اعلم

(۴)زیدعمروکے پاس کچھ روپیہ بطورقرض اس شرط پرجمع کرے کہ یہ روپیہ فلاں شہرمیں فلاں شخص کواداکیاجائے یایہ کہ میں خود فلاں شہر میں پاؤں،اس کانام ہنڈی ہے،یہ ناجائزوگناہ ہے اور اس پرجوبعض وقت کمی بیشی ہوتی ہے جسے متی کہتے ہیں وہ نِراسود حرام قطعی ہے اور بطورقرض دینے سے یہ مرادنہیں کہ قرض کہہ کردے بلکہ جب معاملہ یوں ہوا کہ اگریہ روپیہ عمر کے پاس سے بے اس کے قصور کے گم جائے چوری ہوجائے کسی طرح جاتارہے جب بھی زیداپناروپیہ اس سے بھروالے تو اسی کانام قرض ہے اگرچہ دیتے وقت قرض کالفظ نہ کہا ہو جمع کرنا کہا ہو جو امانت کوبھی شامل ہے اور یہاں عام طور پر یہی ہے کہ عمرو کو ہرطرح اس روپے کادیندار جانیں گے اور کسی طرح ضائع ہو بے تاوان لئے نہ مانیں گے تومعلوم ہوا کہ امانت نہیں بلکہ قرض ہے امانت ہوتی تو بے اس کے قصور کے اگرروپیہ جاتارہتا تو اس سے کچھ نہ لیاجاتا معہذا یہاں جمع کرنا اور دوسری جگہ اس کا عوض لینایہ خود ہی حاصل قرض ہے امانت توبعینہا واپس لی جاتی ہے نہ اس کا عوض،اور جب یہ قرض دینا ہوا اور زید اس میں یہ فائدہ پاتاہے کہ اگر روپیہ کسی کے ہاتھ اس شہر کوبھیجتا یا اپنے ساتھ لے جاتا تو راستے میں جاتے رہنے کااندیشہ تھا عمرو کوبطور قرض دینے سے یہ اندیشہ جاتارہا تویہ ایك نفع ہے کہ زید نے قرض دے کر حاصل کیا اور قرض دینے والے کو قرض پرجو نفع جوفائدہ حاصل ہو وہ سب سود اورنراحرام ہے۔حدیث میں ہے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں:

کل قرض جرمنفعۃ فھوربا[1]۔ قرض سے جوفائدہ حاصل کیاجائے وہ سودہے۔

لہٰذا ہنڈی ناجائزہوئی۔ردالمحتار میں ہے:

صورتھا ان یفع الی تاجر مالاقرضا لیدفعہ الی دیقہ و انما یدفعہ قرضا لاامانۃ لیستفیدبہ سقوط خطر الطریق وقیل ھی ان یقرض انسانا لیقضیہ المستقرض فی بلد یریدہ المقرض لیستفیدبہ سقوط خطر الطریق کفایۃ[2]۔

اس کی صورت یہ ہے کہ کوئی شخص تاجر کو کچھ مال قرض دے تاکہ وہی اس کے دوست کو دے دے تو بلاشبہ یہ مال اس کو بطورامانت نہیں بلکہ بطورقرض دیتاہے اور اس سے راستہ کے خطرہ کے سقوط کافائدہ اٹھاتاہے،اور ایك قول میں اس کی صورت یہ ہے کہ کسی کو قرض دے تاکہ مقروض وہی قرض اس شہر میں قرض دہندہ کو واپس کرے جس شہر میں وہ لینا چاہتاہے تو اس سے وہ راستہ کے خطرہ کے سقوط کافائدہ اٹھاتا ہے۔(کفایہ)۔(ت)

(۵)ہاں ممکن ہے روپیہ نہ دے بلکہ نوٹ اور قرض نہ دے بلکہ بیع کرے اس شرط پرکہ کہ خریدار اس کی قیمت کا حوالہ فلاں شہر کے فلاں تاجر پرکردے کہ ہم خود یا اپنے کسی وکیل کے ذریعہ سے وہاں وصول کرلیں یہ جائزہے اورمطلب پوراحاصل ہے اور اب کمی بیشی بھی رواہے سوکانوٹ ننانوے کو بیچیں خواہ ایك سو ایك کو۔کما حققناہ فی کفل الفقیہ(جیسا کہ اس کی تحقیق ہم نے کفل الفقیہ میں کردی ہے۔ت)درمختار میں ہے:

باع بشرط ان یحیل علی المشتری بالثمن غریمالہ ای للبائع بطل ولو باع بشرط ان یحتال بالثمن صح لانہ شرط ملائم کشرط الجودۃ بخلاف الاول[3]۔

اگرکسی نے کوئی چیز اس شرط پرفروخت کی ثمن کے بدلے میں بائع اپنے کسی قرضخواہ کاحوالہ مشتری پرکرے گا توبیع باطل ہے اور اگر اس شرط پربیع کی مشتری ثمن کاحوالہ کسی اور شخص پرکرے گا توجائزہے کیونکہ یہ شرط عقد کے مناسب و ملائم ہے جیسے کہ جودت کی شرط بخلاف پہلی صورت کے۔ (ت)

ردالمحتارمیں ہے:

قولہ لانہ شرط ملائم لانہ یؤکد موجب العقد اذا الحوالۃ فی العادۃ تکون علی الاملاء والاحسن قضاء فصار کشرط الجودۃ درر[4]۔

 



[1]          کنزالعمال حدیث ۱۵۵۱۶ فصل فی لواحق کتاب الدین موسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۲۳۸

[2]          ردالمحتار کتاب الحوالہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۲۹۵

[3]          درمختار کتاب الحوالہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۷۰

[4]          ردالمحتار کتاب الحوالہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۹۵۔۲۹۴



Total Pages: 247

Go To