Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

ہواکہ اس کی غلط بیانی ہے یہاں صورت واقعہ کفالت بالمال نہ تھی جسے شرع میں کفالت بالمال کہتے ہیں اور اس سے جو معنی خادمان شرع سمجھتے ہیں کہ مامکفول بہ ہو یعنی وہ چیز جس کا مطالبہ کفیل نےاپنے ذمہ لیا بلکہ یہاں کفالت المال باضافت الی الفاعلی تھی یعنی خود مال وجائداد کسی مطالبہ کی کفیل ہو یہ قطعا باطل ہے او ر وہ قطعا صحیح،لاجرم فتوٰی کہ مدعی نے غلط بیانیوں سے حاصل کیا ہر گز متعلق مقدمہ نہیں،متعلق مقدمہ وہی فتاوٰی سابقہ مدخلہ مدعا علیہ ہیں اور عذر مدعی باطل محض اور عذر مدعاعلیہ صحیح وواجب القبول۔واللہ تعالٰی اعلم۔

_____________________

کتاب الحوالہ
(حوالہ کا بیان)

 

مسئلہ ۲۹۱:از خیر آباد ضلع سیتا پور محلہ میانسرائے مدرسہ عربی قدیم مرسلہ سید فخر الحسن صاحب اوائل رمضان المبارك ۱۳۲۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمی زید سنی وحنفی المذہب ہے اور نسبت حرام وناجائز ہونے لین دین سودی وجملہ کاروائی متعلقہ معاملہ سود کے اپنے ملت کے موافق عقیدہ رکھتاہے کہ اتفاق زمانہ سے ایك ضرورت نے زید کو ایسا مجبور کیاکہ باوجود عقیدت وحرمت معاملہ سودی مبلغ پانچ ہزار روپیہ بحساب ۱۲ فیصدی ماہواری سود زید نے مسمی منوسنگھ مہاجن سے قرض لئے بوجہ حاجتمندی زید کے مہاجن مذکو ر نے دستاویز میں یہ شرط تحریر کرائی کہ ڈیڑھ سال کے وعدہ پر روپیہ دیا جاتاہے ششماہی وار سود ادا کرنا ہوگا بصورت عدم ادائے ششماہی وہ زر سود شامل اصل ہوکر سود در سود دینا پڑے گا اگر زید اندر ڈیڑھ سال زراصل دینا چاہے گا تو سود پورے ڈیڑھ سلا کا لیا جاوے گاتحریر دستاویز کے ایك ماہ بعد زید کو اس قدر روپیہ مل گیا کہ پانچ ہزار روپیہ زراصل وچھ سونواسی روپیہ ایك آنہ زر سود ڈیڑھ سال جملہ(صمہ سمالعہ لہ /)اصل وسود دے کرمنوسنگھ مہاجن سے دستاویز واپس لے لے مگر زید کویہ پریشانی لاحق ہے کہ مہاجن کا روپیہ صرف ایك ماہ میرے پاس رہا ہے جس کا سود صرف(مہ سہ۴./)ہوتے ہیں بجائے اس کے(سما لعہ لہ۱/)دے کر(سما مہ ۱۲./)کا تاوان اٹھانا پڑتاہے زید نے اپنی پریشانی کی کیفیت مسمیان محمود قوم سیدوبدری پرشاد کھتری مہاجن سے بیان کی،مسمی محمود نے یہ صلاح دی کہ بالفعل اس روپیہ سے ٹھیکہ داری یاتجارت کی جائے اور بعد انقضائے ایك سال وپانچ ماہ بقیہ مدت مندرجہ دستاویز سلسلہ ٹھیکہ داری وغیرہ منقطع کرکے اور منوسنگھ مہاجن کا قرضہ ادا کرکے دستاویز واپس کرلی جائے امید ہے کہ ٹھیکہ داری یاتجارت کے ذریعہ سے مقدارتاوان(سما ؎۰۱۲)سے زائد منفعت حاصل ہوجائے گی مسمی بدری پرشاد مہاجن یہ مشورہ دیتاہے کہ سلسلہ ٹھیکہ داری یاتجارت قائم کرنے میں احتمال نفع ونقصان دونوں قسم کا ہے نقصان کی صورت میں جائداد موجود کے جو ظاہری ذریعہ ہے تلف ہوجانے کا اندیشہ ہے پس اگر شریعت اجازت دے تومبلغ پانچ ہزار زراصل اور(معہ ؎۰۴/)زرسودیکماہہ جملہ(صمہ معہ ؎۰/)جواس وقت آپ کے واجب الادا ہیں مجھ کو دے کر قرضہ کی اتروائی مجھ پر کرادیجئے اب منوسنگھ میرے ذمہ عائد ہوجائے گا میں شخص مہاجنی پیشہ ہوں مبلغ(صمہ معہ ؎۰۴/)جو آپ سے ملیں گے اس کو سودی قرضہ میں لگاکر تھوڑے عرصہ میں کل روپیہ(صمہ سما لعہ ؎)پوراکرکے اور منوسنگھ کو دے کر دستاویز واپس کرلوں گا یہ یہ ایسی تدبیر ہے جس سے آپ کو قرضہ سے سبکدوشی بھی ہوجائے گی اور جائداد موجودہ کا بھی کچھ نقصان نہ ہوگا بلکہ اس حیلہ میں یہ نفع ہوگا کہ آپ جس قدر دینے(سما ؎۰۱۲/)زرسود کے مواخذہ میں مبتلا ہوتے اس سے محفوظ رہیں گے بظاہر مشورت مسمی بدری پرشاد مناسب اور موجب منفعت دینی و دنیوی معلوم ہوتی ہے لہذا استصواب ہے کہ مسمی زید کو بروئے ملت حنفیہ وشریعت غرامشورہ بدری پرشاد پرعمل کرناجائز ہے یا اس صورت میں علاوہ مواخذہ سوددینے کے مواخذہ سودخوری مبتلا ہوناہوگا،جواب تفصیلی بحوالہ کتب ملت حنفیہ بہت جلد ارقام فرمایاجائے کہ اس مسئلہ کے دریافت ہونے کی سخت ضرورت درپیش ہے نیز یہ بھی ہدایت فرمایاجائے کہ اگرزید کوصرف دوہزار روپیہ مل جائے اور موافق مشورہ بدری پرشاد کے بقدرمبلغ دوہزار روپیہ کے قرضہ کی اُترائی بدری پرشاد پر کردی جائے تو اس صورت میں وہی حکم ہوگا جو کل قرضہ کہ اُترائی میں ہوگا یا اس کے علاوہ کچھ دوسراحکم ہوگا؟

الجواب:

قرض تحویل کرادینے کی رائے بالکل خیرہے زید اس دوسرے ہندو کو پانچ ہزار اڑتیس خالص قرض کی نیت سے دے پانچ ہزار سے جتنا زیادہ دیتاہے اس میں پہلے ہندو کے سود کی نیت نہ کرے پھر پہلے ہندو سے کہہ کر اس کا قرضہ دوسرے پر اتروادے اور اس میں قانونی احتیاط کرلے کہ دھوکانہ پائے یوں بالکل سوددینے سے زید بچ جائے گا چالیس بچاس روپیہ جوزیادہ جائے گا وہ یوں ہوگا کہ قرض دیاتھا اور ماراگیا یاقرض دار پرچھوڑدیاسوددینے میں محسوب نہ ہوگا۔رہا یہ کہ وہ دوسراہندو اس روپے کو سود پر چلائے گا یہ اس کا فعل ہے بلکہ تنہا اس کا بھی فعل نہیں جب تك اسے کوئی قرض لینے والا نہ لے تو اس کا الزام زید پر نہیں آسکتاہے،

قال تعالٰی " وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۚ "[1]۔

اللہ تعالٰی نے فرمایا:کوئی بوجھ اٹھانے والا نفس دوسرے کا بوجھ نہیں اُٹھائے گا۔(ت)

ہدایہ میں ہے:

انما المعصیۃ بفعل المستاجر وھو مختار فیہ فقطع نسبتہ عنہ[2]۔

بیشك گناہ تومستاجرکے فعل سے ہے اور وہ مختار ہے(مکروہ نہیں)لہٰذا اس کی نسبت مالك مکان سے منقطع ہوگئی۔(ت)

یوں ہی اگربعض قرض کے ساتھ ایسا کرسکے توبعض ہی سے سہی کہ جتنی معصیت سے بچے یاجتنا مال حرام میں دینے سے محفوظ رہ سکے اس قدر کی تدبیر واجب ہے۔واللہ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۲۹۲: ازخیرآباد مقام مذکور مرسلہ مولوی سیدفخرالحسن صاحب ۱۹ شوال ۱۳۲۷ھ

 



[1]         القرآن الکریم ۶/ ۱۶۴

[2]          الہدایۃ کتاب الکراہیۃ فصل فی البیع مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۷۰



Total Pages: 247

Go To