Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

حاصل کلام خالد صرف اس قدرہوا کہ وہ ۱۸ تك شہر سے بھاگ گئے تو مدعیہ کے لئے ان سے طلب وتقاضے کا میں ذمہ دار ہوں اسے کفالت مال سے کچھ تعلق نہیں بلکہ صرف تقاضے کا وعدہ ہے خالدکو چاہئے زید سے تقاضا کرے نہ یہ کہ زید سے نہ ملے تو خالداپنے پاس سے دے

 فی الہندیۃ عن المحیط نوادر ابن سماعۃ عن الامام محمد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ رجل لہ علی رجل

ہندیہ میں محیط کے حوالہ سے نوادرابن سماعہ میں منقول اما م محمد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا یہ قول مذکور ہے کہ ایك شخص کا دوسرے کے ذمے کچھ مال

مال فقال رجل للطالب ضمنت لك ماعلی فلان انا اقبضہ منہ وادفعہ الیك قال لیس علی ہذا ضمان المال ان یدفعہ من عندہ انما ہذا علی ان یتقاضاہ و یدفعہ الیہ وعلی ہذا معانی کلام الناس [1] اھ ونحوہ فی الخلاصۃ وغیرہا۔

قرض تھا،ایك تیسرے شخص نے طالب قرض سے کہا جو تمھارا فلاں پر قرض ہے میں تیرے لئے اس کا ضامن ہوں،میں اس سے وصول کروں گا اور تجھے دے دوں گا،امام محمد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا اس پرمال کاضمان لازم نہ ہوگا کہ اپنے پاس سے دے بلکہ یہ مدیون سے طلب کرکے طالب کو دے گا اورانہی معانی پر لوگوں کاکلام جاری ہے اھ اور خلاصہ وغیرہ میں اسی کی مثل ہے۔ (ت)

امام شمس الائمہ کردری وجیز میں فرماتے ہیں:

قال للطالب ضمنت لك ماعلی فلان ان اقبضہ منہ وادفعہ الیك لیس بکفالۃ ومعناہ ان یتقاضاہ لہ ویدفع الیہ اذا قبضہ منہ علی ہذا معانی کلام الناس [2]۔اھ

کسی شخص نے طالب دین سے کہا جو تیرا فلاں پر قرض ہے میں تیرے لئے اس کا ضامن ہوں کہ اس سے وصول کرکے تجھے دوں گا تویہ کفالہ نہیں بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ مدیون سے مطالبہ کرے گا اور جب اس سے وصول کرلے گا تو طالب قرض کو دے دیگا اوریہی مطلب ہوتاہے لوگوں کے کلام کا اھ (ت)

نیز اس میں اور فتاوی انقرویہ وغیرہ میں ہے:

قال رجل لصاحب المال من ضمان کردم و پذیرفتم کہ باغ ویرافروشم وایں مال بتودہم اوقال ضمنت ان اخذا لمال من ترکتہ واوفیك لا تصح الکفالۃ وان ضمن علی ان یبیع مال نفسہ ویوفیہ ھذا المقدار صح ویجبر علی البیع وقضاء المقدار [3]۔

کسی شخص نے صاحب مال سے کہا میں ضامن ہوں اور میں اس بات کو قبول کرتاہوں کہ میں مدیون کے باغ کو فروخت کروں گا اوریہ مال تجھے دوں گا،یا یوں کہا کہ میں اس کے ترکہ سے مال لے کر تجھ کو دوں گا،توکفالہ صحیح نہیں او راگر وہ ضامن بنااس طورپر کہ اپنا مال بیچ کر قرض کی مقدار طالب قرض کو دے گا تو کفالہ صحیح ہے چنانچہ اس کو مال بیچنے اور قرض کی مقدار طالب کو دینے پر مجبور کیا جائے گا۔(ت)

وجہ دوم:اگر بالفرض حکم متفق علیہ خواہی نخواہی معنی مجازہی پر حمل کیجئے تو یہ کفالت بالمال ۱۸ تك بھاگنے پر معلق تھی جب اس مدت میں فرار ثابت نہیں تو لزوم مال کی کوئی صورت نہیں کہ تعلیق کفالت کی ایسی شرط پر صحیح ہے اور اذا فات الشرط فات المشروط اصل کلی صریح(جب شرط فوت ہوجائے تو مشروط بھی فوت ہوجاتاہے،یہ واضح کلیہ ہے۔ت)

وجہ سوم:یہ بھی فرض کیجئے کہ مطالبہ سے مراد مال ہی تھا اور فرار ۱۸ سے پہلے ہی ہوا تو مدعیہ خود اپنے بیان وتسلیم سے کفالت بالمال کو باطل محض مان رہی ہے اسے اپنی ہی قرار دادہ باتوں سے مطالبہ مال کا کوئی استحقاق نہیں اس کی جانب سے یہاں عمل ظاہر الروایۃپر زور دیا جاتاہے اور ۱۸ سے پہلے فرار ظاہر کیا گیا جمہور ائمہ کرام کے نزدیك ظاہر الروایۃ کے یہ معنی ہیں کہ جب ابتدائے مدت مذکور نہ ہو صرف انتہا کا ذکرآئے تو کفالت اس وقت کے بعد محقق ہوکر تاحصول برأت ہمیشہ رہے گی اور روز اقرار سے اس وقت تك اصلا کفالت نہ ہوگی بالجملہ ظاہر الروایۃ میں ایسی جگہ(تک)بمعنی بعد کے ہے ۱۸ فروری تك ضامن ہوں یعنی ۱۸ کے بعد ضمانت شروع ہوگی، فتاوٰی خانیہ وظہیریہ وخزانۃ المفتین میں ہے:

الکفالۃ متی جعلت الی اجل فانما یصیر کفیلا بعد انقضاء الاجل [4]۔

کفالت جب کسی مدت تك ٹھہرائی جائے تو اس مدت کے گزرنے کے بعد کفیل بنے گا۔(ت)

سراجیہ میں ہے:

کفل بنفسہ الی شھر یصیر کفیلا بعد شھر ھو الاصح[5]۔

اگر ایك ماہ تك کسی کا کفیلِ نفس بنا تو ماہ کے گزرنے کے بعد کفیل بنے گا اور وہی صحیح ہے(ت)۔

خانیہ میں ہے:

رجل کفل بنفس رجل الی ثلثۃ ایام ذکرفی الاصل انہ یصیر کفیلا بعد الایام الثلثۃ وقال الفقیہ ابو جعفر یصیر کفیلا فی الحال قال وذکر الایام الثلثۃ لتاخیر المطالبۃ الی ثلثۃ ایام،

ایك شخص دوسرے کے نفس کاتین دن تك ضامن ہوا تو اصل میں مذکور ہے کہ تین دن گزرنے کے بعد کفیل بنے گا،اور فقیہ ابوجعفر نے کہا کہ فی الحال کفیل بن جائے گا اور ایام ثلثہ کاذکر تین دن تك مطالبہ کی تاخیر کے لئے ہے اور فقیہ ابوجعفر کے

وغیرہ من المشائخ اخذوابظاہر الکتاب وقالوا لا یصیر کفیلا فی الحال واذا مضت الایام الثلثۃ قبل تسلیم النفس یصیر کفیلا ابدالا یخرج عن الکفالۃ مالم یسلم[6]اھ مختصرا علاوہ بعض دوسرے مشائخ نے ظاہر کتاب کو اختیار کیا اور کہا فی الحال کفیل نہیں بنے گا پھر جب تین دن گزرگئے اور وہ مکفول لہ کے حوالے اس شخص کونہ کرسکا جسکا ضامن بنا تھا تو اب ہمیشہ کے لئے کفیل بن جائے گااور جب تك اس شخص کو مکفول لہ کے حوالہ نہ کرے گا کفالت سے خارج نہ ہوگا اھ مختصرا(ت)

 



[1]           فتاوٰی ہندیہ کتاب الکفالۃالباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۲۵۷

[2]           فتاوٰی بزازیۃ علی ہامش ہندیۃ کتاب الکفالۃ الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۸

[3]           فتاوٰی بزازیۃ علی ہامش ہندیۃ کتاب الکفالۃ الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۱۵۔۱۴

[4]           خزانۃ المفتین کتاب الکفالۃ الباب الثانی قلمی نسخہ ۲/ ۵۹

[5]           فتاوٰی سراجیہ کتاب الکفالۃ الباب الثانی نولکشور لکھنو، ص۱۲۹

[6]          فتاوٰی قاضیخاں کتاب الکفالۃ نولکشورلکھنؤ ۳ /۵۸۳



Total Pages: 247

Go To