Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

شریف میں ایسے شخص کے واسطے کیا حکم ہے،اور ایفائے وعدہ واجب اور لازم ہے یانہیں ؟اور معہود کو حق مطالبہ پہنچ سکتاہے یانہیں ؟ اور فیما بین تجاروں کے ہزاروں روپیہ کا تبادلہ ہوا کرتا ہے اور اس سے کوئی منحرف نہیں ہوتا اور یہ فیما بین تجار کے قرارداد واثق ہوتاہے،بینوا توجروا

الجواب:

اگر واقع میں اس نے لکھا اور دستخط کئے تھے تو انکار کرنے سے جھوٹ بولنے کا گنہگار ہوا مگر وفائے وعدہ پر جبری مطالبہ نہیں پہنچتا،فتاوٰی خانیہ وفتاوٰی ظہیریہ وفتاوٰی عالمگیریہ وغیرہا میں ہے:

ان انجز وعدہ کان حسنا والا فلا یلزم الوفاء بالمواعید [1]،واللہ تعالٰی اعلم۔

اور اگر وعدہ کو پورا کرے تو بہتر ہے ورنہ وعدوں کو پورا کرنا اس پر لازم نہیں۔اور اللہ تعالٰی بہتر جانتاہے۔(ت)

مسئلہ ۲۷۷: از سرنیاں ضلع بریلی مرسلہ امیر علی صاحب قادری ۲ رجب ۱۳۳۱ھ

اکثر لوگ ترکاری خریدنے کے بعد جھگڑا کرکے زیادہ لیتے ہیں ۔

الجواب:

جھگڑا کی اجازت نہیں،اور زیادہ مانگنا بھی سوال میں داخل ہے،ہاں بطور خوداپنی خوشی سے زیادہ دے دے تو حرج نہیں۔واللہ تعالٰی اعلم

_________________

کتاب الکفالۃ
(ضامن بننے کا بیان)

 

مسئلہ ۲۷۸:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی قدر قرض بکر کا ذمہ عمرو کے ہے،زید نے کہا اسے میں ادا کردوں گا،عمرونے بھی اسے قبول کرلیا،بکر نے کہا عمرو میرے مطالبہ سے بری ہوا میں تجھ سے لوں گا،اس صورت میں بکر کو زید سے اس قرضہ کے مطالبہ کااختیار ہے یانہیں ؟ بینوا توجروا

الجواب:

صورت مستفسرہ میں زید اس قرضہ بکر کا جس کے ادا کا اس نے وعدہ کیا اگر لفظ صرف اس قدر تھے کفیل نہ ہوا کہ یہ مجرد وعدہ ہے اور وعدہ بے تعلیق بشرط لازم نہیں ہوتا،اور بکر کا اس سے کہنا کہ عمرو میرے مطالبہ سے بری ہوا میں تجھ سے لوں گا اور زید کا اس پر سکوت کرنا اول تو سکوت قول نہیں اور ہو بھی تو اس کی غایت اس قدر کہ زید نے قول بکر قبول کیا گویا اس نے کہا تو مجھ سے لینا یہ بھی ایك امر ہے جس کا حاصل وعدہ ہے کہ میں دوں گا اور اس قدر سے کفالت ثابت نہیں ہوتی۔عالمگیری میں محیط سے ہے:

اذا قال انچہ ترابر فلان ست من بدہم فہذا وعد لا کفالۃ [2]۔

اگر کہا جو کچھ تمہارا فلاں پر لاز م ہے وہ میں دوں گا تو یہ وعدہ ہے کفالہ نہیں۔(ت)

اسی میں بنقل محیط فتاوٰی امام نسفی سے ہے:

من قال لغیرہ ان الدین الذی لك علی فلان انا ادفعہ الیك انا اسلمہ الیك انااقضیہ لایصیر کفیلا مالم یتکلم بلفظ یدل علی الالتزام نحو قولہ کفلت ضمنت علی الی وکان الشیخ الامام ظہیر الدین الحسن بن علی المرغینانی یقول اذا اتی بہذہ الالفاظ منجز الا یکون کفالۃ واذا اتی بہا معلقا بان قال ان لم یؤد فلان مالك علیہ فانا اودی فانا ادفع یصیر کفیلا [3]۔

کسی نے دوسرے سے کہا تیرا وہ قرض جو فلاں پر ہے وہ میں دوں گا میں تیرے سپرد کروں گا،میں ادا کروں گا،وہ کفیل نہیں بنے گا جب تك کوئی ایسا لفظ نہ کہے جو التزام پردلالت کرتا ہو مثلا میں کفیل ہوں میں ضامن ہوں،مجھ پر لازم ہے یا میرے ذمے ہے،امام ظہیر الدین حسن بن علی مرغینانی کہتے تھے اگر یہ الفاظ بطور تنجیر کہے تو کفیل نہ ہوگا اور اگر بطورتعلیق کہے مثلا یوں کہے کہ تیرا جو دین فلاں پر ہے اگر اس نے نہ دیا تو میں ادا کروں گا یا میں دوں گا،تو کفیل ہو جائے گا۔(ت)

ایسا ہی خزانۃ المفتین میں ہے اور اسی پربزازیہ میں جزم فرمایا:

قائلا لما علم ان المواعید باکتساء صورۃ التعلیق تکون لازمۃ [4] اھ ونقلہ فی الحامدیۃ واقرہ فی العقود الدریۃ۔ یہ کہتے ہوئے،یہ بات معلوم ہے کہ وعدے جب تعلیق کی صورت اختیار کریں تو ان کو پوراکرنا لازم ہوتاہے اھ اس کو حامدیہ میں نقل کیا اور عقود دریہ میں برقرار رکھا۔(ت)

ہاں اگر زید نے یہ کہا کہ یہ نہ دے تو میں اد اکروں گا تو بلاشبہ بکر اس قدر روپیہ کا زید سے مطالبہ کرسکتاہے اور بکر کا عمرو کو مطالبہ سے بری کردینا زید کو بری نہ کردے گا اگر البتہ عمرو کو قرضہ سے بری کردیتا تو زید پر بھی مطالبہ نہ رہتا۔

فی الدرالمختار من القنیۃ طالب الدائن الکفیل فقال لہ اصبر حتی یجیئ الاصیل فقال لاتعلق

درمختارمیں قنیہ سے منقول ہے کہ قرض دہندہ نے کفیل سے قرض کا مطالبہ کیا تو اس نے کہا کہ صبر کرو تاکہ اصیل آجائے اس پر قرض دہندہ نے

 



[1]          فتاوٰی ہندیہ کتاب الاجارۃ الباب السابع نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۴۲۵

[2]          فتاوٰی ہندیہ کتاب الکفالۃ الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۲۵۶

[3]           فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکفالۃ الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۲۵۷

[4]           فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوی ہندیہ کتاب الکفالۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۳



Total Pages: 247

Go To