Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

کیونکہ یہ بیع منعقد عاقدین کی اجازت پر موقوف ہے او رموقوف میں قبضہ سے ملکیت حاصل نہیں ہوسکتی جیسا کہ ہم نے ردالمحتار پر اپنی تعلیق میں اس کی تحقیق کردی ہے، اوراللہ سبحانہ وتعالٰی بہتر جانتاہے۔(ت)

____________________

 

باب بیع الوفاء
(بیع وفاء کا بیان)

مسئلہ ۲۷۱:از ریاست رامپور بزریہ ملاظریف بنگلہ متصل مسجد مرسلہ مولوی محمد علیم الدین صاحب اسلام آبادی ۱۸ جمادی الآخر ۱۳۱۴ھ

ما قولکم رحمکم اللہ ربکم فی جواز بیع الوفاء و الانتفاع بہ ھل ھو جائز اما لا،بینوا بادلۃ الکتاب توجروا من الوہاب فی یوم الحساب آپ کا کیا ارشاد ہے اللہ تعالٰی آپ پر رحم فرمائے بیع الوفاء کے جواز اور اس سے نفع حاصل کرنے کے بارے میں کیا یہ جائز ہے یانہیں ؟ کتابوں کے حوالہ سے مدلل بیان فرمائیں، حساب والے دن بہت عطا فرمانے والے اللہ تعالٰی سے اجر دئے جاؤ گے۔(ت)

الجواب:

المسئلۃ طویلۃ الاذیال کثیرۃ الاقوال وسیعۃ المجال بعیدۃ المنال وقد فصلنا ھا بتوفیق اللہ تعالٰی فی بعض تحریر اتنا والذی تقررو یہ مسئلہ لمبے دامنوں والا،بہت زیادہ اقوال والا اور وسیع مباحث والا ہے،اور ہم نے اللہ تعالٰی کی توفیق سے اپنی بعض تحریروں میں اس کی تفصیل بیان کردی ہے اور وہ بات جو اس میں ثابت و تحرر ان بیع الوفاء رھن لایزید علیہ بشیئ ولا یخالفہ فی شیئ قال العلامۃ خیر الدین رملی فی فتاواہ الذی علیہ الاکثر انہ رھن لا یفترق عن الرھن فی حکم من الاحکام قال السید الامام قلت للامام الحسن الماتریدی قد فشا ھذا البیع بین الناس وفیہ مفسدۃ عظیمۃ و فتواك انہ رھن وانا ایضا علی ذٰلك فالصواب ان نجمع الائمۃ ونتفق علی ھذا و نظہرہ بین الناس فقال المعتبر الیوم فتوٰنا وقد ظہر بین الناس ذٰلك فمن خالفنا فلیبرز نفسہ ولیقم دلیلہ وفیہ اقوال ثمانیۃ وعلی کونہ رھنا اکثر الناس [1]اھ وفیھا اٰیضا بیع الوفاء رھن [2] الخ،وفی العقود الدریۃ من کتاب النکاح باب الولی بیع الوفاء، منزل منزلۃ الرھن [3]الخ وفیہا من الرھن بیع الوفاء منزل منزلۃ الرھن کما صرحوا بہ [4]ثم ذکر نصوصا تدل علیہ فاذن لا یجوز لہذا الذی

 ثابت شدہ ہے یہ ہے کہ بیع الوفاء رہن ہے نہ اس سے کچھ زائد اورنہ ہی کسی شیئ میں اس کے مخالف ہے،علامہ خیرالدین رملی نے اپنے فتاوٰی میں فرمایا کہ اکثر فقہاء اسی پر ہیں کہ یہ رہن ہے اور کسی حکم میں رہن سے جدا نہیں ہے سیدامام کا قول ہے کہ میں نے امام ابوالحسن ماتریدی سے کہا کہ یہ بیع لوگوں میں پھیل گئی اوراس میں فساد عظٖیم ہے جبکہ آپ کا فتوٰی ہے کہ یہ رہن ہے اورمیں بھی اسی کا قائل ہوں تو بہتر ہے کہ ہم ائمہ کوجمع کرکے اس پر متفق کریں اور اس کو لوگوں میں ظاہر کریں تو انہوں نے فرمایا کہ آج ہمارا فتوٰی معتبر اور لوگوں میں ظاہر ہے لہذا جو ہماری مخالفت کرے اس کو چاہئے کہ وہ خود کو سامنے لائے اور دلیل قائم کرے بیع الوفاء میں آٹھ اقوال ہیں اور اس کے رہن ہونے پر لوگوں کی اکثریت متفق ہے اھ اور یہ بھی اسی میں ہے کہ بیع الوفاء رہن ہے الخ، عقودالدریۃ کتاب النکاح کے باب الولی میں ہے کہ بیع الوفاء بمنزلہ رہن کے ہے الخ اور اسی میں ہے کہ بیع الوفاء رہن کے بمنزلہ ہے جیسا کہ فقہاء نے اس کی تصریح کی ہے پھر اس میں ایسی نصوص ذکر کی گئی ہیں جو اس کے رہن ہونے پر دلالت کرتی ہیں تو ایسی صورت میں اس ھو مشتر صورۃ مرتہن معنی الانتفاع بمشریہ المرھون مطلقًا علی ما ھو الفتوی الاٰن للعلم بمقاصد اھل الزمان وقد علم شرعا ان المعہود عرفا کالمعہود شرطا کما افادہ ھٰھنا العلامۃ السید الطحطاوی ثم العلامۃ السید الشامی فی حواشی الدروقد افتیت بہ و ھو الحق الواضح جہارا،واللہ تعالٰی اعلم۔

اس شخص کے لئے جو بظاہر مشتری اور درحقیقت مرتہن ہے بالکل جائز نہیں کہ وہ اس خریدی ہوئی مرتہن شے سے نفع حاصل کرے اور اب اہل زمانہ کے مقاصد کو جانتے ہوئے اسی پر فتوی ہے،اور تحقیق یہ بات شرعا معلوم ہے کہ جو چیز عرف میں طے شدہ ہو وہ ایسے ہی ہوتی ہے جیسے اس کی شرط لگائی گئی ہو جیسا کہ اس مقام پر علامہ سید طحطاوی نے پھر علامہ شامی نے در کے حواشی میں اس کا فائدہ دیا اور بیشك میں نے اسی پر فتوی دیا اور یہی واضح اورکھلا حق ہے،اوراللہ تعالٰی بہتر جانتاہے۔(ت)

مسئلہ ۲۷۲: ازقصبہ منڈوا ضلع فتحپور مرسلہ حافظ محی الدین صاحب ۱۰ جمادی الاولٰی ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نےعمرو کی کچھ جائداد اس طرح پر لیا کہ عمروجب روپیہ زید کاادا کر دے تو اپنی جائداد واپس لے اور جب تك روپیہ ادا نہ ہو تب تك زید اس جائداد کا لگان گورنمنٹی اسی جائداد سے ادا کرے اور جو روپیہ اس جائداد کا لگان گورنمنٹی سے بڑھے وہ روپیہ زید اپنے تصرف میں لاکر یا کرے تو روپیہ بڑھتی کا زید کو لینا جائز ہے یانہیں ؟ سود ہوگا یانہیں ؟ اگر سود ہوگا تو ان لوگوں کی نماز جو سود لیتے نہیں ہیں صرف مہاجنوں کو سود دیتے ہیں زید کے پیچھے ہوگی یانہیں ؟

الجواب:

یہ صورت بیع بالوفاء کی ہے او ر اس کاحکم مثل رہن کے ہے اور اس سے جو منفعت حاصل ہو حرام ہے،حدیث میں فرمایا:

کل قرض جرمنفعۃ فہو ربٰو [5]۔

 



[1]          فتاوٰی خیریہ کتاب البیوع دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۶۔۲۲۵

[2]          فتاوٰی خیریہ کتاب البیوع دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۲۶

[3]          العقود الدریۃ کتاب النکاح ارگ بازار قندہارافغانستان ۱ /۱۸

[4]          العقود الدریۃ کتاب الرہن ارگ بازار قندہارافغانستان ۲/ ۲۵۴

[5]          کنزا لعمال حدیث ۱۵۵۱۶ مؤسستہ الرسالہ بیروت ۶ /۲۳۸



Total Pages: 247

Go To