Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

الجواب:

بیع سلم میں حکم ہے کہ جنس قرار یافتہ لے یا جتنا روپیہ دیا تھا واپس لے دوسری چیز عوض میں لینا حرام ہے ہاں اگر بائع کے پاس گیہوں نہیں اورمشتری اپنے پاس سے گیہوں ثالث کو ہبہ کردے پھر بائع اسی ثالث سے خرید کر مشتری کے مطالبہ میں دے تو جائز ہے والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۲۴۱:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك کھنڈ ساری نے ایك موضع کا رس وہاں کے اسامیوں سے ۲۵ روپیہ کے نرخ سے خریدا اور روپیہ دے دیا پھر اس کھنڈ ساری نے اپنے رس خریدے ہوئے کو وہاں کے زمیندار کے ہاتھ فروخت کردیا ۲۵ روپیہ کے حساب سے،اور کچھ نفع یا نقصان نہیں ہوا،پھر زمیندار نے کوشش کی کہ میرا رس کوئی شخص خریدلے اور دوسرے کھنڈساریوں نے ۲۸ روپے تك لگائے جب زمیندار نے دیکھاکہ مجھ کو ۲۸ روپیہ سے زائد نہیں ملتا تو اس نے اپنے اسامیوں سے کہا کہ تم لوگ اپنے اپنے رس کا گڑ بنالو میرا روپیہ ۳۰ روپیہ کے نرخ حساب سے مجھ کو ادا کردینا پہلے بائع کو معلوم ہے کہ اس میں اختلاف ہے مگر یہ معاہدہ زمیندار کا اسامیوں سے کہ ۳۰ روپیہ کے حساب سے ادا کردینا جائز ہے یانہیں ؟ بینوا بالدلیل توجروا عندالجلیل(دلیل کے ساتھ بیان کریں جلال والے الله تعالٰی کے ہاں اجر دئے جاؤ گے۔ت)

الجواب:

پہلی دوسری تیسری یہ سب بیعیں ناجائز وحرام ہوئیں جبکہ رس موجود ہونے سے پہلے عمل میں آئیں جیسا کہ یہاں دستور ہے،حدیث میں ہے:

نھی رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ عن بیع مالیس عندہ [1] اما ما رخص فی السلم فلہ شرائط منہا عدم انقطاع المسلم فیہ یوم العقد الی یوم الوعد رسول الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس چیز کی بیع سے منع فرمایاجو بائع کے پاس موجود نہ ہوں،بیع سلم میں جو رخصت دی گئی ہے تو اس کے لئے کچھ شرطیں ہیں جن میں سے ایك یہ ہے کہ مسلم فیہ عقد والے دن سے لے کر وعدہ والے دن تك بازار سے منقطع نہ ہو۔(ت)

اور خاص تیسری بیع اگر رس کے باوجود پر بھی ہوئی تو ناجائز ہے۔

لان المشتری فاسد الایملك قبل القبض وبعدہ ایضا لایرتفع الاثم۔واللہ تعالٰی اعلم۔ کیونکہ بیع فاسد کے ساتھ خریدی ہوئی چیز مملوك نہیں بنتی قبضہ سے اور بعد بھی اس کا گناہ مرتفع نہیں ہوتا۔والله تعالٰی اعلم۔(ت)

مسئلہ ۲۴۲: از پیلی بھیت محلہ شیرمحمدمرسلہ شیخ نادر حسین صاحب ۲۳ جمادی الآخر ۱۳۱۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرعی مبین اس مسئلہ میں کہ فی زمانہ جیسا رواج رس نیشکر کے فروخت کاہےکہ ادھر کھیت میں درخت نمود ہوئے ادھر اس وقت کے نرخ بموجب پیشگی روپیہ دے دیا آیا کسی حیلہ شرعی سے یہ بات جائز ہے یانہیں؟ اور اگر وقت تیار ہونے نیشکر کے اس وقت کے نرخ بموجب رس خریدا جائے تو بھی جائز ہے یانہیں؟ اوراگر جائز نہیں ہے توضرورت کے لئے کوئی حیلہ شرعی بھی ہے یانہیں کیونکہ زمانہ کا رواج بہت مجبور کررہاہے۔ بینوا توجروا

الجواب:

نہ درختوں کے نمود پر جائز نہ نیشکر کی تیاری پر جائز نہ یہ جائز کہ جب رس موجودہوجائے اور بکنے لگے اس آئندہ سال کے رس کی بیع کرلیں کہ بیع سلم میں شرط ہے کہ وہ شے عقد سے وقت قرار داد تك کس وقت بازار سے منقطع نہ ہو پہلی دو صورتوں میں تو اس وقت عقد منقطع تھاگنے کی تیاری سے رس بازار میں تو نہ آگیا جو شرط جواز متحقق ہو اور پچھلی صورت میں اگرچہ رس وقت عقد موجود ہے مگر وقت قرارداد یعنی آئندہ سال تك موجود نہ رہے گا چند روز بعد بازار سے ختم ہوجائے گا ہمارے تمام ائمہ مذہب کا ان سب صورتوں کے ناجائز وحرام ہونے پر اجماع ہے متون وشروح وفتاوٰی ان کی تحریر سے مالا مال ہیں ہمیں خلاف مذہب فتوٰی دینے کی کسی طرح اجازت نہیں،ہاں اگر رس کہیں تیار ہوگیاکہیں ابھی ایکھ کھڑی ہے ایسے زمانہ میں جن کے یہاں ہنوز رس نہیں ان سے رس کی بیع سلم کرلینا بلا شہبہ جائز ہے جبکہ وعدہ اتنی قریب مدت تك کا کیا جائے جس میں اس سال کا رس بازار میں سے ختم نہ ہونے پائے،بحرالرائق ودرمختار میں ہے:

مایکتب فی وثیقۃ السلم من قولہ جدید عامہ مفسد لہ ای قبل وجود الجدید اما بعد فیصح کما لا یخفی[2]۔

وہ جو عقد سلم کے وثیقہ میں لکھا جاتاہے کہ اس سال کی جدید(گندم)تو یہ جدید کے موجود ہونے سے مفسد عقد ہے لیکن اس کے موجود ہونے کے بعد صحیح ہے۔(ت)

اور اس تیاری وغیر تیاری میں کچھ گاؤں یا پرگنہ یا ضلع کااتحاد بھی شرط نہیں بلکہ اگر اس ضلع بھرمیں ابھی کہیں رس بلکہ گنا بھی تیار نہیں اوردوسرے ضلع میں رس بکنے لگا ہے تو جہاں ہنوز معدوم ہے وہاں والے بھی بیع سلم کرسکتے ہیں جبکہ ان دونوں ضلعوں میں اتنابعد عظیم نہ ہو کہ ان کے یہاں کی ایکھ ماری جائے یا رس پرکوئی افت آئے تو وہاں سے رس منگا کر دینے میں سخت شدید مشقت ہو جیسے ہندوستان میں ابھی مفقود ہے اور مثلا مصر یا برہما میں تیار ہوگیا تو ایسی تیاری پر ہندوستان میں اس کی بیع سلم حلال نہیں، درمختارمیں ہے:

لوانقطع فی اقلیم دون آخر لم یجز فی المنقطع [3]۔

اگر ایك ملك میں مسلم فیہ نایاب ہے دوسرے میں نہیں ہے تو جہاں نایاب ہے وہاں سلم جائز نہیں۔(ت)

ردالمحتارمیں ہے:

ای المنقطع فیہ لانہ لایمکن احضارہ الابمشقۃ عظیمۃ فیعجز عن التسلیم،بحر [4]۔

 



[1]          درمختار باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴

[2]          درمختار کتاب البیوع باب السلم مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۸،بحرالرائق کتاب البیع باب السلم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ /۱۶۰

[3]          درمختار کتاب البیوع باب السلم مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۷

[4]          ردالمحتار کتاب البیوع باب السلم داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۰۵



Total Pages: 247

Go To