Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

مسئلہ ۲۳۷ و ۲۳۹: از کچھوچھہ شریف مرسلہ مولانامولوی سید محمد صاحب سلمہ ۹صفر ۱۳۳۶ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسائل ذیل میں:

(۱)زید نے بکر کو ایك من گیہوں وایك آنہ پیسہ دے کر کہا کہ ایك من گیہوں تم کو بلا معاوضہ چیز ےدیتاہوں اورایك آنہ پیسہ کے عوض فلاں مہینہ میں گیہوں اوسط درجہ کا یا کہا کہ عمدہ ایك من بیس ثاءلوں گا۔

(۲)زید نے بکر کو ایك گنی دے کر کہاں کہ فلاں مہینہ میں دو نوٹ دس دس روپے کا لوں گا یا بیس روپیہ کے پیسے لوں گا۔

(۳)زید نے بکر کو دس روپیہ قرض دیاکہ بعد ایك سال کے اداکردے اور ایك آنہ پیسہ دیا کہ کہ اس کے عوض بعد ایك سال کے دو روپیہ دے،یہ تینوں صورتیں شرعا جائز ہیں یانہیں ؟ بینوا توجروا

الجواب:

(۱)ایك من گیہوں دینا نہ دینا کچھ ضرور نہین جملہ شرائط بیع کا تحقق ضرور ہے جن کی تفصیل توتمثیل ہمارے فتوٰی میں ہے ان میں سے ایك بھی کم ہے تو حرام ہے۔

لان بیع معدوم لم یرد الشرع بجوازہ وقد نہی رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ عن بیع مالیس عندہ [1]۔ کیونکہ یہ معدوم کی بیع ہے جس کے جواز پر شرع وارد نہیں ہوئی اور تحقیق رسول الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس چیز کی بیع سے منع فرمایا جوبائع کے پاس موجود نہ ہو۔(ت)

اوراگرشرائط مجتمع ہوں تو جائز ہے اگرچہ ایك پیسہ کو ہزار من گیہوں خریدے

قال اللہ عزوجل" اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ- "[2]، وقال رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اذا اختلف النوعان فبیعوا کیف شئتم [3]۔

الله تعالٰی نے ارشاد فرمایا مگر یہ کہ ہو تمہارے درمیان تجارت باہمی رضامندی سے اور رسول الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا جب بدلین مختلف نوعوں کے ہوں تو جیسے چاہو بیچو۔(ت)

ردالمحتار میں ہے:

فی الذخیرۃ اذا اخذ الخبز مفرقا ینبغی ان یبیع صاحب الحنطۃ خاتما اوسکینا من الخبازبالف من الخبز [4]۔

 ذخیرہ میں ہے کہ اگر کوئی شخص(گندم(اکٹھی دے کر اس کے بدلے میں)روٹیاں متفرق طور پر لینا چاہے تو گندم والے کو چاہئے کہ وہ انگوٹھی یا چھری ہزار روٹیوں کے بدلے میں روٹیاں پکانے والے کے ہاتھ فروخت کرے(پھر روٹیوں والا گندم والے کے ہاتھ انگوٹھی یا چھری گندم کی مطلوبہ مقدار کے عوض بیچ کو گندم لے لے)۔(ت)غمزالعیون والبصائر میں ہے:

جواز بیع المقرض من المستقرض مما یساوی طسو جابعشرۃ دنانیر فانہ علی وفاق الدلیل لانہ بیع موجود مملوك لہ بالقاضی [5]۔ قرض دینے والے کو قرض مانگنے والے کے ہاتھ دورتی برابر کوئی چیز دس دینا رکے عوض فروخت کرنےکا جواز دلیل کے موافق ہے کیونکہ یہ اپنی موجود ملکیت کا قاضی کے حکم سے سودا ہے۔(ت)

یہ سب اس حالت میں ہے کہ بیع ہو"بعت اشتریت فروختم خریدم"(میں نے بیچا میں نے خریدا۔ت)کہیں،لوں گا دوں گا عقد نہیں وعدہ ہے اوراس کے لئے کوئی اثر نہیں کما بیناہ فی فتاوٰنا(جیسا کہ ہم نے اسے اپنے فتاوٰی میں بیان کردیا ہے۔ ت)والله تعالٰی اعلم۔

(۲)نوٹ ہوں یا پیسے دونوں کی بیع سلم جائز ہے کہ ثمن اصطلاحی ہیں نہ خلقی،تنویر الابصار و درمختارباب السلم میں ہے:

(یصح فیما امکن ضبط صفتہ ومعرفۃ قدرہ کمکیل وموزون)خرج بقولہ(مثمن)الدراھم والدنانیر لانہا اثمان فلم یجز فیہا السلم(وعددی متقارب کجوزوبیض وفلس [6] عقد سلم اس چیز میں صحیح ہے جس کی صفت کو ضبط کرنا اور اس کی مقدار کو پہچاننا ممکن ہو جیسے کیلی چیزاور ایسی وزنی چیز جو مثمن یعنی مبیع بنے،اس قید سے دراہم ودنانیر خارج ہوگئے کیونکہ وہ ثمن ہیں جن میں بیع سلم جائز نہیں،اور ایسی چیز جو عددی متقارب ہو جیسے اخروٹ،انڈے،اور پیسے(ت)

شرائط بیع سلم موجود ہوں اور ایجاب وقبول ہو لوں گا دوں گا کوئی چیز نہیں والله تعالٰی اعلم۔

(۳)ایسی بیع حرام ہے کہ یہ روپے کی بیع سلم ہوگی اور وہ جائز نہیں کما تقدم انفا عن الدرالمختار(جیسا کہ ابھی درمختار کے حوالہ سے گزرا ہے۔ت)والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۳۴۰: از کرتولی ضلع بدایوں مرسلہ جناب مولوی محمدرضاخاں صاحب ۲۰ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ

بیع سلم بحساب فی روپیہ ۱۲ سیر ربیع گزشتہ میں ولید سے کہ کافر ہے قرار پائی اب خریف موجودہ ہیں عمرو کو جس کا روپیہ تھا وہ جنس طے شدہ نہیں دیتا عمرو اگر یہ کرے کہ جس قدر گیہوں ولید کافر اور زید مسلمان کے ذمہ چاہئے ہیں کسی دوسرے شخص کو اپنی ملکیت کے ہبہ کردے اور وہ شخص جس پر واجب الادا ہے عمرو کو خرید کر شخص موہوب لہ کو دے دے یہ جائز ہوگا یانہیں ؟

 



[1]          درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴

[2]          القرآن الکریم ۴ /۲۹

[3]          نصب الرایہ کتاب البیوع المکتبۃ الاسلامیہ الریاض ۴/۴

[4]          ردالمحتار باب الربٰو داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۸۶

[5]          غمزالعیون البصائر الفن الاول بیان ان المعتبر العرف العام لا الخاص ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۱۳۵

[6]          درمختار شرح تنویر الابصار کتاب البیوع باب السلم مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۷



Total Pages: 247

Go To