Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

مگریہاں یہ صورت نہیں مبیع بتمامہ قبضہ میں رہ کر پیمائش میں کم نہ آئی بلکہ مبیع سے ایك قطعہ ملك ریاست قرار پاکر قبضہ سے نکل گیا،یہ صورت استحقاق کی ہے اور استحقاق میں ضرور مشتری کو اتنے کی قیمت بائع سے واپس لینے کا اختیار ہوتاہےجتنا مستحق کے دعوے پر اس کے قبضہ سے نکل گیا اور اس میں مثلی وقیمی مذروع ومعدود وغیرہا سب برابرہیں،عالمگیری میں ہے:

اذا کان المشتری شیئا واحدا کالثوب الواحد والعبد فاستحق بعضہ قبل القبض اوبعدہ فللمشتری الخیار فی الباق ان شاء اخذہ بالحصۃ وان اء ترك [1] الخ وعزاہ للمحیط وظاہر ان الثوب قیمی مذروع قال فی ردالمحتار وان بع المذروع کثوب وارض درمنتقی [2] اھ وقد حکم فی استحقاق بعضہ باخذ الباقی بالحصہ۔

جب خریدی ہوئی چیزایك ہو جیسے ایك کپڑا یاغلام،پھر قبضہ سے پہلے یا بعد اس کے بعض میں استحقاق ثابت ہوگیا تومشتری کو اختیار ہے چاہے تو باقی کو اس کے حصہ کی قیمت کے بدلے میں لے لے اور اگر چاہے تو چھوڑدے الخ اور اس کومحیط کی طرف منسوب کیا ہے اور ظاہر ہے کہ کپڑا قیمتی مذروع ہے،ردالمحتارمیں کہا کہ اگرمذروع کوبیچا جیسے کپڑا اور زمین درمنتقی اھ،بے شك اسکے بعض میں استحقاق ثابت ہونے کی صورت میں باقی کو اس کے حصے کی قیمت کے بدلے میں لنے کا حکم کیا گیا ہے۔(ت)

جامع الفصولین میں ہے:

استحق بعض المبیع فلم لو یمیز الابضرر کدار او کرم الارض وزوجی خف ومصراعی باب

بعض مبیع میں استحقاق ثابت ہوگیا تو(دیکھیں گے کہ)اگر وہ بلانقصان جدا نہیں ہوسکتا جیسے مکان،انگورکی بیل،زمین، موزوں کا جوڑا اور ایك

وفق یتخیر المشتری والا فلا،ثم لواورث الاستحقاق عیبا فیما بقی یخیر المشتری کما مرولولم یورث عیبا کثوبین استحق احدھما فالمشتری یاخذ الباقی بحصتہ بالاخیار [3]۔ملتقطا

دروازے کے دوپٹ تو اس صورت میں مشتری کو اختیار ملے گاورنہ نہیں،پھر اگر استحقاق باقی مبیع میں عیب پیدا کردے تو مشتری کو اختیار ملے گاجیسا کہ گزر چکا ہے اور اگر وہ عیب پیدا نہ کرے جیسے دوکپڑوں میں سے ایك میں استحقاق ثابت ہوجائے تو مشتری باقی کو اس کے حصے کی قیمت کے بدلے میں لے گا اس صورت میں اس کو اختیار نہیں ملے گا۔ملتقطا۔ (ت)

پس صورت مستفسرہ میں زید بکر سے ثمن کے ۱۴/۹۷ یعنی ستاون روپے پونے بارہ آنے واپس لے سکتاہے ایك خفیف مقدار کم جس کی مقدار نصف پائی تك بھی نہیں یعنی ۴۵/۵۷ پائی،یہ سوال کا جواب تھا مگر ملاحطہ بیعنامہ سے واضح ہوا کہ یہ بیع فاسدہ واقع ہوئی کہ اس کے آخر میں شرائط فاسد مذکور ہیں مثلا یہ کہ اگر جز کل اراضی قبضہ مشتریان سے نکل جائے تو اس کا بارہرجہ وخردچہ ذمہ بایعان ہے اور جو درخت اراضی میں کھڑے ہیں ان کو آخر سال ۱۳۱۸؁ف تك قطع کرکے اراضی مکشوف کردیں گے ورنہ درخت بھی قیمت مذکورہ بالا میں بیع متصور ہوں گے اس کے دعوی چوب درختان نہ رہے گا،بعینامہ میں شرط فاسد کے ذکر سے بیع پرحکم فساد ہوگا،درمختارمیں ہے:

لوکتب فی الصك فما اتفق المشتری فیہا من نفقۃ اورم فیہا من مرمۃ فعلی البائع یفسد البیع [4]۔

اگر بیعنامہ میں لکھا گیا کہ جو کچھ مشتری مبیع پر خرچ کرے گا یا اس میں حرمت کرے گا وہ بائع کے ذمے ہوگا تو بیع فاسد ہو جائی گی۔(ت)

تو بائع ومشتری دونوں پر واجب ہے کہ توبہ کریں اوراگر موانع فسخ سے کوئی مانع نہ پایا گیا ہو تو واجب ہے کہ بیع فسخ کردیں،زید زمین واپس دے اور بکر پوری قیمت پھیردے،اگروہ دونوں نہ مانیں حاکم جبرا فسخ کردے۔درمختارمیں ہے:

یجب علی کل واحد منہما فسخہ فسادکوختم کرنے کے لئےقبضہ سے پہلے یا قبضہ

قبل القبض اوبعدہ مادام المبیع بحالہ فی ید المشتری اعداما للفساد لانہ معصیۃ فیجب رفعہا بحر،و اذا اصر احدھما علی امساکہ وعلم بہ القاضی فلہ فسخہ جبرا علیہما حقاللشرع،بزازیۃ [5]۔ کے بعد جب تك مبیع مشتری کے پاس اپنے حال میں موجود ہے بیع فاسد کوفسخ کرنا بائع اورمشتری میں سے ہر ایك پر واجب ہے کیونکہ یہ معصیت ہے اس لئے اس کو دور کرنا واجب ہے بحر،اور اگرا ن میں سے کوئی ایك اس کو برقرار رکھنے پر اصرار کرے اور قاضی کو اس کا علم ہو تو وہ حق شرع کے لئے ان دونوں پر جبر کرتے ہوئے فسخ کرسکتاہے، بزازیہ۔ (ت)

اس کے بع پھر چاہیں تو آپس میں صحیح بیع کرلیں جتنے ثمن پر تراضی ہو۔والله تعالٰی اعلم۔

___________________

باب البیع السلم

(بیع سلم کا بیان)

 

مسئلہ ۲۲۳:از فیروز پور ۲۹جمادی الآخرہ۱۳۰۶ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کٹوتی کا روپیہ پیشگی دے دیا اور ناج فصل پرلینا ٹھہرا کن کن شرطوں سے جائز ہے۔ بینوا توجروا

الجواب:

 



[1]         فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب الخامس عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۶۶

[2]         ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۳۱

[3]         جامع الفصولین الفصل السادس عشر اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۰۔۲۱۹

[4]         درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۴۶

[5]         درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۸



Total Pages: 247

Go To