Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

برکات دلکشا اس کے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے کرم جانفزا نے اپنے گدائے بیقدر پر یہ فیضان کئے ہیں ورنہ کہاں یہ عاجز اورکہاں ڈیڑھ دن سے کم میں یہ رسالہ تصنیف کردینا،پھر اس کے شہر کریم کے اکابر علمائے کرام نے اس درجہ پسند فرمایا یہ بفضلہٖ عزوجل سب آثارقبول ہیں اوراگر شاید یہاں علم الہٰی میں کوئی دقیقہ ایسا ہے جس تك نہ میری نظر پہنچی نہ ان علمائے کرام بلداللہ الحرام کی تو میں اپنے رب عزوجل کی طرف انابت کرتااور ہر مسئلہ میں اس پر اعتقاد رکھتا ہوں جو اس کے نزدیك حق ہے اور وہ کہتاہوں جو میرے امام اعظم حضور سیدنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:

فان یك صوابا فمن اللہ تعالٰی وان یك خطأ فمنی ومن الشیطان واللہ ورسولہ برئیان [1]۔ واقول:کما قال ابونا اٰدم علی نبینا

 اگریہ درست ہے تو اللہ تعالٰی کی طرف سے اوراگر غلط ہے تو میری طرف سے اور شیطان کی طرف سے ہے،اللہ تعالٰی اوراس کا رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اس سے بری ہیں۔ (ت)

اور میں کہتاہوں جیسے ہمارے باپ آدم نے کہا

الکریم وعلیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم اللہم انك تعلم سری وعلانیتی فاقبل معذرتی وتعلم حاجتی فاعطنی سؤلی وتعلم مافی نفسی فاغفرلی ذنوبی وصلی اللہ تعالٰی علی سیدنا محمد واٰلہ وصحبہ وابنہ وحزبہ وبارك وسلم ابدا ابدا واٰخردعوٰنا ان الحمدﷲ رب العلمین سبحنك اللہم وبحمدك اشہدان لاالہ الا انت استغفرك واتوب الیك قال الفقیر احمد رضا القادری البرکاتی البریلوی غفراللہ تعالٰی لہ وحقق املہ واصلح عملہ والحمدﷲ والصلوٰۃ والسلام علی مصطفاہ اٰخرکل کلام واولہ اٰمین۔

(اللہ تعالٰی ہمارے نبی کریم اور حضرت آدم پر بہترین درود و سلام نازل فرمائے)اے اللہ! تو میرے ظاہر وباطن کو جانتا ہے پس میری معذرت قبول فرما،اور تومیری حاجت کو جانتا ہے پس میری مراد مجھے عطا فرما،اور تو اس کو جانتاہے جو میرے دل میں ہے پس میرے گناہ معاف فرما۔اور اللہ تعالٰی ہمارے سردار اورآقا محمد مصطفی،آپ کی آل،اصحاب، اولاد اور جماعت پر ہمیشہ ہمیشہ درود،برکت اورسلام نازل فرمائے،اورہماری دعا کا خاتمہ یہ ہے کہ تمام تعریفیں اللہ تعالٰی کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے تو پاك ہے اے اللہ!اور تیری حمد کے ساتھ میں گواہی دیتاہوں کہ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں،میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتاہوں یہ بات فقیر احمد رضا قادری برکاتی بریلوی نے کہی،اللہ تعالٰی اس کی مغفرت فرمائے اور اس کی امید کو پورا فرمائے اور اس کے عمل کو درست رکھے،اور تمام تعریفیں اللہ تعالٰی کے لئے ہیں اور درود وسلام ہو اس کے منتخب نبی،(محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ )پر ہر کلام کے اول وآخر میں،آمین۔(ت)

____________________

باب الاستحقاق

(استحقاق کا بیان)

 

مسئلہ ۲۲۰: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئل میں کہ غلام حسین نے زوجہ نیازن اور ہمشیرہ بنی وارث اپنے اور دومکان ایك پختہ اور ایك خام جن کی قیمت بقدر چھ سو روپے کے ہے ترکہ چھوڑ کر اتنقال کیا،نیاز بی بی کا ایك ہزار روپیہ مہر ذمہ غلام حسین واجب الادا تھا۔نیاز بی بی نے بذریعہ مہر دونوں مکانوں پر قبضہ کیا اور مکان پختہ بعوض ساڑھے چار سو روپیہ کے شیخ محمد وزیر کے ہاتھ بیع کیااور بیعنامہ میں حسب معمول صرف اپنامالك وقابض ومتصرف ہونا لکھا اور مشتری کو قبضہ دلادیا بعدہ،بائعہ حج کو گئی اس کے پیچھے بنی نے بذریعہ وارثت تین ربع کا مکان پر دعوٰی کیا اور کچہری سے ڈگری پائی ایك ربع مشتری کے پاس رہا،نیاز بی بی حج سے واپس آکر انتقال کرگئی وارثان نیاز بی بی نے دعوٰی مہر کیا ثابت ہوا بنی پر ڈگری ہوئی تو تین ربع مکان پختہ اور کل مکاں خام مہر میں نیلام ہوگئے اب وارثان نیاز بی بی ایك ربع پر باقی ماندہ کو بھی مہر میں نیلام کرلینا چاہتے ہیں،اس صورت میں شرعا کیا حکم ہے آیا وہ بیع کہ نیاز بی بی نے کی تھی جائزہے یا نہیں اور دعوٰی وارثان صحیح ہے یا باطل؟ اور تین ربع کہ مشتری سے نکل گئے اور یہ ربع باقی ماندہ بھی اگر بحکم شرع نکل جائے تو آیا وہ ثمن کہ مشتری نے نیاز بی بی کو دیا قابل واپسی ہے یانہیں ؟ بینوا توجروا

الجواب:

صورت مستفسرہ یں نیاز بی بی نے جس کا مہر مال غلام حسین سے زائد تھا کل متروکہ پوجو بذریعہ مہرقبضہ کیا صحیح تھااور اس مذہب پر جس پر اب علماء کا فتوٰی ہے نیاز بی بی ان مکانوں کی مالك مستقل ہوچکی اور وہ بیع کہ اس نے بدست محمد وزیر کی صحیح ونافذ تھی نہ بنی کو اپنا دعوی وارثت پہنچا تھا کہ ادائے مہر تقسیم ترکہ پر مقدم ہے نہ وارثان نیازبی بی دعوٰی مہر کرسکتے تھے کہ نیاز بی بی اپنی حیات میں اپنا مہر پاچکی آخر کل متروکہ پر اس کا قبضہ کرلینا بذریعہ مہری تھا تو اب دین اداشدہ کا دعوٰی کا یعنی نہ اس جائداد کامہر میں نیلام ہونا چاہئے تھا بلکہ حکم یہ تھا کہ نیاز بی بی اپنا مہر پاچکی اور دونوں مکانوں کی وہی مالك ٹھہری ایك مکان وہ اپنی حیات میں بیع کرچکی وہ تمام مالك مشتری ہے دوسر ا مکان خام کہ باقی رہا متروکہ نیاز بی بی ٹھہرکر وارثان نیازبی بی پر تقسیم ہوجائے۔

فی الشامی والطحطاوی عن شرح الکنز العلامۃ الحموی عن الامام العلامۃ علی المقدسی عن جدہ الاشقرعن شرح القدوری للامام الاخصب ان عدم جواز الاخذ من خلاف الجنس کان فی زمانہم لمطاوعتہم فی الحقوق والفتوی الیوم علی جواز الاخذ عند القدرۃ من ای مال کان [2]۔ شامی اور طحطاوی میں علامہ حموی کی شرح کنز سے بحوالہ امام علامہ علی مقدسی منقول ہے،انہوں نے اپنے دادا اشقر سے بحوالہ شرح قدوری از امام اخصب ذکر کیا کہ خلاف جنس سے وصول کرنے کا عدم جواز مشائخ کے زمانہ میں تھاکیونکہ وہ لوگ حقوق میں باہم متفق تھے آج کل فتوٰی اس پر ہے کہ جب اپنے کی وصولی پر قادرہو چاہے کسی بھی مال سے ہو تو وصول کرلینا جائز ہے۔(ت)

 



[1]         سنن ابوداؤد کتاب النکاح باب فیمن تزوج آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۲۸۸

[2]         ردالمحتار کتاب الحجر داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۹۵



Total Pages: 247

Go To