Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے روایت کیا انتہی،اور یہ کیونکر نہ ہو حالانکہ ہمارے اصحاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے فرمایا کہ قبضہ طرفین صرف صرف میں شرط ہے اور اس کے سوا اور صورتیں جن میں ربا جاری ہوسکتا ہے ان میں فقط تعین شرط ہے جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں ہے،اور تنویر الابصار میں ہے کہ جس مال میں ربا کا احتمال ہے وہاں ماورائے صرف میں مال کا فقط عین ہونا معتبر ہے قبضہ طرفین شرط نہیں،درمختار میں فرمایا یہاں تك کہ

حمل قولہ ھذ ا فی العبارۃ التی ذکرنا علی التقابض واستجلب منہ اشتراط ذٰلك فی فلس بفلسین کان ایضا مشترطا فی تمرۃ بتمرتین وبیضۃ ببیضتین وجوزۃ بجوزتین عند من یقول ان القید راجع للمسائل جمیعا کالنھر والدر وغیرہما [1]فان المسائل کلھا مسوقۃ سیا قا واحدا لا سیما فی عبارۃ الجامع فان القید مذکور فیہ بعد تمرۃ بتمرتین وانما ذکر فلسا بفلسین قبلہ،وھذا لم یقل بہ ائمتنا فوجب حملہ علی اشتراط التعیین وکان قولہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ باعیانھا تفسیرا لقولہ یدا بید والا لکان حشوا مستغنی عنہ لاطائل تحتہ اصلا فان التقابض فیہ التعین وازید فذکرہ بعدہ لغو ولذا لما نقل الامام برھان الدین صاحب الھدایۃ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی ھذہ المسئلۃ عن الجامع الصغیراسقط عنہا تلك الکلمۃ واقتصر علی ذکر العینیۃ حیث قال قال(ای محمد کما صرح بہ العلامۃ بدرالعینی فی البنایۃ)یجوز بیع البیضۃ

اگر گیہوں کے بدلے گیہوں بیچے اور ان دونوں کو معین کردیا اور بے قبضہ کئے ہوئے جدا ہوگئے تو جائز ہے انتہی،تو امام محمد کا یہ قول عبارت مذکورہ میں اگر قبضہ طرفین پر حمل کیا جائے اور اس سے یہ مطلب نکالا جائے کہ پیسوں کی باہم بیع میں قبضہ طرفین شرط ہے تو خرموں اور انڈوں اور اخروٹوں کی باہم بیع میں بھی اس کا شرط ہونا لازم آئے گا انکے نزدیك جو کہتے ہیں کہ یہ قید ان تمام مسائل کی طرف راجع ہے جیسے نہر الفائق اور درمختار وغیرہما اس لئے کہ وہ سب مسئلے ایك ہی روش پر بیان میں آئے ہیں خصوصًا عبارت جامع صغیر میں کہ اس میں تو یہ قید بیع خرما کے بعد مذکور ہے اور پیسوں کی بیع اس سے پہلے ذکر فرمائی ہے اور یہ ہمارے ائمہ میں سے کسی کا قول نہیں،تو واجب ہوا کہ دست بدست بمعنی تعیین لیں اور امام محمد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ارشاد کہ معین ہوں اس دست بدست کی تفسیر ہو ورنہ محض بیکار بھرتی ہوگا جس کا کچھ فائدہ نہیں کہ قبضہ طرفین میں تعین مع زیادت ہے تو اس کے بعد اس کا ذکر فضول ہے اس لئے جب امام برہان الدین صاحب ہدایہ نے جامع صغیر سے اس مسئلہ کو نقل کیاتو دست بدست کا لفظ اس سے ساقط فرمادیا اور صرف تعیین کا ذکر کیا جہاں کہ ہدایہ میں کہا کہ فرمایا(یعنی امام محمد جیسا کہ علامہ بدر الدین عینی نے بنایہ میں تصریح کی)ایك انڈا

بالبیضتین والتمرۃ بالتمرتین والجوز بالجوزتین ویجوز بیع الفلس بالفلسین باعیانھما [2] اھ ۔فظہر ظہور الشمس فی رابعۃ النھار ان لیس فی الجامع دلیل علی مافھم ھٰؤلاء الاعلام وان فرض فمع احتمال الغیر احتمالا اظہر وازھر لا یرد و لا یرام ولا حجۃ فی المحتمل بخلاف عبارۃ الاصل فانھا نص ای نص فی عدم اشتراط التقابض کما سمعت فعلیہ فلیکن التعویل والتوفیق باللہ الملك الجلیل،ثم لا یخفی علیك ان ھذ اکلہ کان مما شاۃ منامع العلامۃ الشامی والمقصود ابانۃ مفادا لجامع والا فالحق ان فتوی العلامۃ سراج الدین مابھا حاجۃ الی حمل کلام الجامع علٰی اشتراط التقابض ولا عــــــہ۱ ھو مدعاہ و لا عــــــہ۲ علیہ توقف لما ادعاہ فانہ

دو انڈے اور ایك خرما دو خرمے اور ایك اخروٹ دو اخروٹ کو بیچنا جائز ہے اور ایك پیسہ دو پیسے معین کو جائز ہے انتہی،تو پہروں چڑھے آفتاب کی طرح روشن ہوگیا کہ جامع صغیر میں اس پر کچھ دلالت نہیں جو یہ اکابر سمجھے اور اگر فرض بھی کرلی جائے تو اس کے ساتھ دوسرا احتمال بھی موجود ہے ظاہرتر روشن ترکہ نہ رد ہو نہ اس کی طرف کوئی برا قصد کرسکے اور احتمالی بات حجت نہیں ہوتی بخلاف عبارت مبسوط کے کہ وہ قبضہ طرفین شرط نہ ہونے میں نص اور کیسی نص ہے جیسا کہ سن چکے تو اسی پر اعتماد ہونا چاہئے،اور توفیق اللہ عظمت والے بادشاہ کی طرف سے ہے،پھر اتنا معلوم رہے کہ یہ سب کچھ ہماری طرف سے علامہ شامی کے ساتھ ان کی روش پر چلنا تھا اور مقصود مفاد جامع صغیر کا ظاہر کرنا ورنہ حق یہ ہے کہ فتوٰی علامہ قاری الہدایہ کو اس کی طرف حاجت نہیں کہ عبارت جامع کو قبضہ طرفین شرط کرنے پر محمول کیجئے اور نہ وہ ان کا مدعی ہے اور نہ اس پر ان کا دعوٰی موقوف  

عــــــہ۱: لانہ سلمہ سلما وانتم للصرف تصرفون اھ منہ۔

عــــــہ۲:لان السلم لا یجوز فی الثمن سواء کان فیما یشرط فیہ التقابض کثمن فی ثمن اولا کمبیع فی ثمن اھ منہ۔

عــــــہ۱:کہ وہ تو اسے سلم مان رہے ہیں اور تم صرف کی طرف پھیرتے ہو ۱۲ منہ۔

 عــــــہ۲:کہ ثمن میں سلم اصلًا جائز نہیں چاہے اس چیز میں ہو جس میں دونوں طرف کا قبضہ شرط ہے جیسے ثمن میں ثمن کی بدلی یا ایسا نہ ہوجیسے ثمن میں مبیع کی بدلی ۱۲منہ۔

انما حرم النسیئۃ وحرمتھا لاتوجب عــــــہ۱ عینیۃ الجانبین ایضا فضلا عن التقابض الاتری ان بیع ثوب بدرھم حالا لیس بنسیئۃ ولا فیہ العینیتان نعم ایجاب العینیۃ من الجانبین یوجب تحریم النسیئۃ لان التاجیل للترفیۃ فی التحصیل والعین متحصلۃ بالفعل فلو استدل لہ بعبارۃ الجامع علی ھذ االوجہ لکان عــــــہ۲ لہ وجہ وسلم من الاعتراض المذکور،واذن اقول:وباللہ التوفیق لایخفی علیك ان اشتراط العینیۃ من الجانبین فی الربویات وھی المکیلات والموزونات دون المعدودات کما نص علیہ فی سلم الفتح وغیرہ حیث قال انما یمنع ذٰلك فی اموال الربا اذا قوبلت بجنسھا والمعدودلیس منھا اھ [3] کما قال فی البحر تحت کہ وہ تو ادھار کو حرام بتارہے ہیں اور اس کی حرمت دونوں طرف عین ہونے کو بھی واجب نہیں کرتی نہ کہ قبضہ طرفین،کیا نہیں دیکھتے کہ کوئی کپڑا ایك روپے نقد کو بیچنا نہ تو ادھار ہے نہ اس میں دونوں جانب عین،ہاں دونوں طرف عینیت کا واجب کرنا ادھار کی حرمت لازم کرتا ہے اس لئے کہ وعدہ مقرر کرنا اس غرض سے ہوتا ہے کہ شیئ کے حاصل کرنے میں آسانی ہو اور عین خود ہی فی الحال حاصل ہے،تو اگر جامع کی عبارت سے علامہ قاری الہدایہ کے اس طرز پر استدلال کیا جاتا تو اس کی ایك وجہ ہوتی ہے اور اعتراض مذکور سے محافظت رہتی ہے۔ اور اب میں کہتا ہوں اور اللہ ہی سے توفیق ہے تم پرظاہر ہے کہ دونوں طرف سے تعین کی شرط اموال ربامیں ہے اور وہ وہ چیزیں ہیں جو ناپ یا تول سے بکتی ہیں نہ وہ کہ گنتی سے جیسا کہ فتح القدیر وغیرہ کی باب السلم میں تصریح ہے جہاں آیا کہ صرف اموال ربا میں منع ہے جبکہ اپنی جنس کے ساتھ بیچے جائیں اور گن کر بکنے کی چیزیں اموال ربا میں سے نہیں انتہی،جیسا کہ کنز کے اس قول کی شرح میں

 

عــــــہ۱: وانما کانت توجب لو کان انتفاء النسئۃ مستلزما لوجود العینین ولیس کذلك بل قد ینتفیان معا کما فی المثال المذکور اھ منہ۔

 



[1]          البنایۃ فی شرح الہدایۃ کتاب البیوع باب الربوٰ المکتبۃ الامدادیۃ مکۃ المکرمۃ ۳ /۱۵۴

[2]      الھدایۃ کتاب البیوع باب الربا مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۸۳

[3]           فتح القدیر باب البیع باب السلم مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/۲۰۸



Total Pages: 247

Go To