Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

ہمدردی ملی واحساس دینی مذکورہ بالا کی بابت شرعی حکم بصورت فتوٰی تحریر فرما کر مسلمانوں کو ورطہ گمراہی سے نجات دیں اور خدا وند عالم سے دینی و اخروی اجر حاصل فرمائیں وما علینا الاالبلاغ خیر خواہ اسلام۔

الجواب :

سودحرام ہے قال اللہ تعالٰی" وَ حَرَّمَ الرِّبٰواؕ- "[1](اللہ تعالٰی نے فرمایا:اللہ تعالٰی نے سود کو حرام کیا۔ت)مسجد اسے قبول نہیں کرسکتی،

قال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ان اللہ طیب لایقبل الا طیبًا[2]۔

نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا:بیشك اللہ تعالی پاك ہے اور وہ قبول نہیں فرماتا مگر پاك کو۔(ت)

مسجد کے دفتر میں سود کے نام سے جمع کرنا اسے نجاست سے آلودہ کرنا ہے،قیمت اگر گھٹ گئی تو گورنمنٹ نے کوئی مال مسجد کا نہ لے لیا جس کے تاوان میں یہ رقم لی جائے ملازم کورٹ کو اس کا دینا کوئی معنی نہیں رکھتا کہ وہ کسی طرح اس روپے کا مستحق نہیں۔سود سمجھ کر لینے کا جواب تو یہ ہے،ہاں اگر نہ اسے سود سمجھیں نہ سود کہیں،نہ سود کے نام سے دفتر مسجد میں جمع کریں بلکہ یہ جانیں کہ گورنمنٹ اپنی خوشی سے بغیر ہمارے غدر کے(کہ غدر شرعًا حرام ہے)ایك مال زائد ہمیں مسجد کے لئے دیتی ہے تو اس کے لینے اور مسجد میں صرف کرنے اور دفتر مسجد میں بنام "رقم زائد از گورنمنٹ"لکھنے میں کوئی حرج نہیں،

قال رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ انما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی [3]۔واللہ تعالٰی اعلم۔

رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ بیشك عملوں کا دار و مدار نیتوں پر ہے اورہر شخص کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔اور اللہ تعالٰی بہتر جانتا ہے۔(ت)

______________________

 

رسالہ
کِفْلُ الفقیہِ الفاھِم فی احکامِ قِرطاسِ الدِّراھمِ
۱۳۲۴ھ
(کاغذی نوٹ کے احکام کے بارے میں سمجھدار فقیہ کا حصہ)

مسئلہ ۲۱۷:

ما قولکم دام طولکم فی ھذا القرطاس المسکوك المسمی بالنوط والسؤال عنہ فی مواضع الاول ھل ھو مال ام سند من قبیل الصک،الثانی ھل تجب فیہ الزکٰوۃ اذا بلغ نصابا فاضلا وحال علیہ الحول ام لا، الثالث ھل یصح مھرا،الرابع ھل یجب القطع بسرقتہ من حرز،الخامس ھل یضمن بالاتلاف بمثلہ او بالدراہم،السادس ھل یجوز بیعہ بدراہم او دنانیر او فلوس،السابع اذا استبدل

آپ کا کیا ارشاد ہے آپ کا فضل ہمیشہ رہے اس کا غذ کے باب میں جس پر سکہ ہوتا ہے اور اسے نوٹ کہتے ہیں،اور اس میں متعدد باتیں دریافت کرنی ہیں،۱اول کیا وہ مال ہے یا دستاویز کی طرح کوئی سند،۲دوم جب وہ بقدر نصاب ہوا اور اس پرسال گزرجائے تو اس پر زکوٰہ واجب ہوگی یانہیں،۳سوم کیا اسے مہر مقرر سکتے ہیں،۴چہارم اگر کوئی اسے محفوظ جگہ سے چرائے تو اس کا ہاتھ کاٹنا واجب ہوگا یانہیں،۵پنجم اگر اسے کوئی تلف کردے تو عوض میں اسے نوٹ ہی دینا ٹھہرے گا یا روپے، ۶ششم کیا روپوں یا اشرفیوں یا پیسوں کے عوض اس کی بیع جائز ہے،۷ہفتم اگر مثلًا کسی کپڑے سے

بثوب مثلا یکون مقایضۃ او بیعا مطلقًا،الثامن ھل یجوز اقراضہ وان جاز فیقضی بالمثل او بالدراہم، التاسع ھل یجوز بیعہ بدراہم نسئۃ الی اجل معلوم، العاشر ھل یجوز السلم فیہ بان تعطی الدراہم علٰی نوط معلوم نوعا وصفۃ یؤدی بعد شہر مثلًا الحادی عشر ھل یجوز بیعہ بازید مماکتب فیہ من عدد الربابی کان یباع نوط عشرۃ باثنی عشر او عشرین او بانقص منہ کذلک،الثانی عشرا ن جاز ھذا فہل یجوز اذاا راد زید استقراض عشرۃ ربابی من عمرو ان یقول عمرو لادراہم عندی ولکن ابیعك نوط عشرۃ باثنتی عشرۃ ربیۃ منجمۃ الٰی سنۃ تؤدی کل شہر ربیۃ وھل ینھی عن ذلك لانہ احتیال فی الربا وان لم ینہ فما الفرق بینہ و بین الربا حتی یحل ھذا او یحرم ذٰلك مع ان المال وھو حصول الفضل واحد فیہما افید ونا الجواب تو جروایوم الحساب۔

اسے بدلیں تو یہ بیع مطلق ہوگی یا مقایضہ(جس میں دونوں طرف متاع ہوتی ہے)۸ہشتم کیا اسے قرض دینا جائز ہے اورا گر جائز ہے تو ادا کرتے وقت نوٹ ہی دیا جائے یا روپے،۹نہم کیا روپوں کے عوض ایك وعدہ معینہ پر قرضوں اس کا بیچنا جائز ہے،۱۰دہم کیا اس میں بیع سلم جائز ہے یوں کہ روپے پیشگی دئے جائیں کہ مثلًا ایك مہینہ کے بعد اس قسم کا اور ایسا نوٹ لیا جائے گا،۱۱یازدہم کیا یہ جائز ہے کہ جتنی رقم اس میں لکھی ہے اس سے زائد کو بیچا جائے مثلًا دس کا نوٹ بارہ یا بیس کو یا اسی طرح اس سے کم،۱۲دوازدہم اگر یہ جائز ہے کہ جب زید عمرو سے دس روپے قرض لینا چاہے تو عمرو کہے روپے تو میرے پاس نہیں ہیں ہاں میں دس کا نوٹ بارہ کو سال بھر کی قسط بندی پر تیرے ہاتھ بیچتا ہوں کہ تو ہر مہینے ایك روپیہ دیا کرے،کیا اس کو منع کیا جائے گا کہ یہ سودکاحیلہ ہے،اور اگر نہ منع کیا جائے تو اس میں اور ربا میں کیافرق ہے کہ یہ حلال ہو اور وہ حرام حالانکہ مآل دونوں کا ایك ہے یعنی زیادتی کا ملنا، ہمیں جواب سے فائدہ بخشو قیامت کے دن تمہیں اجر ملے۔

الجواب:

 



[1]      القرآن الکریم ۲/۲۷۵

[2]     السنن الکبرٰی للبیہقی کتاب صلوٰۃ الاستسقاء باب الخروج من المظالم الخ دارصادر بیروت ۳ /۳۴۶،صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۲۶

[3]       صحیح البخاری با ب کیف بدء الوحی الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲



Total Pages: 247

Go To