Book Name:Fatawa Razawiyya jild 16

اس کی غلطی ظاہر کردے تاکہ وہ اپنے فتوے سے باطل کا مدد گار نہ بنے،یہاں بحمدہٖ تعالٰی  اس کا لحاظ رہتا ہے جس سوال پر بریلی سے جواب گیا اس میں کوئی امر ایسا نہ تھا کہ صورت سوال کو غلط سمجھا جاتا مگر افسوس کہ اس طرف کے فتووں میں اس امر اہم کا لحاظ اصلًا نہ ہوا،ان کے سوالوں میں صورت یہ فرض کی تھی کہ دوسری مسجد کی بناء ضد سے کہ آپس میں تفرقہ ہواور اگلی مسجد کی آبادی میں فرق آئے محض نفسانیت وعداوت وضرر مسجد قدیم کے لئے بنائی ہے،ظاہر ہے کہ یہ بنانے والوں کے قلب پر حکم تھا کہ ان کی نیت یہ ہے اور نہ صرف یہ بلکہ صرف یہی ہے،حالانکہ نیت کا جاننا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کا کام ہے اور مسلمان پر بدگمانی سخت حرام ہے تو مفتی صاحب کا منصب نہ تھا کہ اس صورت باطلہ کی تقدیر مان کر مسجد کے بنانے کو موجب عذاب ٹھہرائے اور حاکم وقت کو معاذ اﷲخانہ خدا کے ڈھانے پر ابھارے،ایسی جگہ صرف صورت پر حوالہ کا حیلہ یا اس کہدئیے کی آڑ جو چیز ایسی ہے اس کاحکم یہ ہے اہل عقل وعلم واقعات حال زمانہ کے نزدیك ہرگز کافی نہیں جبکہ صراحۃً معلوم ہے کہ ایك فریق بناواقفی حکم شرع وہ صورت گمان یا فرض کرکے فتوے لینا چاہتا ہے جس کے فرض وگمان کا شرعًا اسے اصلًا حق نہیں،نہ دوسرے کو جائز کہ اس کی بدگمانی مقرر رکھے،

" لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِهِمْ خَیْرًاۙ       "[1]۔

ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے یہ بات سنی تو مومن مرد اور مومن عورتیں اپنوں پر اچھا گمان کرتے(ت)

اور وہ اپنے اس فرض باطل کے ایك فریق مسلمان کو بذریعہ فتوٰی ضرر پہنچانا چاہتا ہے تو صرف اس صورت کا حکم بتانا اور اس کا حکم نہ بتانا صراحۃً باطل کو مدد دینا ہے جوایك جاہل مسلمان کے لائق بھی نہیں مفتی تو مفتی،

ومن لم یکن عالما باھل زمانہ فھو جاھل[2]۔

جو اپنے اہل زمانہ کے احوال کو نہیں جانتا وہ جاہل ہے(ت)

اور حقیقت یہ کہ نہ صرف فریق دیگر بلکہ خود اس فریق کی بھی بدخواہی ہے بلکہ اس کی بدخواہی سخت تر ہے،فریق اول کی نیت اگر صحیح ہے تو ان کے فرض باطل یا نا فہم مفتیوں کے اقوال ہائل سے اس کا کیا ضرر،مگر اس فریق کو جوبدگمانی اور مسلمانوں کو ایذارسانی کی بیماری تھی وہ مفتیوں کی تقریر وعدم انکار کے بعد پختہ ہوگئی،

فھلکوا واھلکوا وانما الدین النصح لکل مسلم[3]۔

وہ خود ہلاك ہوئے اور دوسروں کو ہلاك کیا دین تومحض ہر مسلمان کی خیر خواہی کا نام ہے۔(ت)

اس کی مثال یوں سمجھئے کہ ایك مریض نے براہ ناواقفی اپنا مرض الٹا تشخیص کیا اور اس کےلئے طبیب سے دوا پوچھی،طبیب اگرا س کا اصل مرض جانتا اور سمجھتا ہے کہ یہ دوا اسے نافع نہیں بلکہ اور مضر ہوگی،تو اسے ہرگز حلال نہیں کہ الٹے مرض کی اسے دوا بتاکر اس کی غلطی کو اور جمادے اور اس کے ہلاك پر معین ہو اور یہاں اتنا کہہ دینے سے کہ مرض مسئول کی دوا یہ ہے یا جسے یہ مرض ہو اس کی دوایہ ہے،طبیب الزام سے بری نہیں ہوسکتا جبکہ وہ جانتا ہے کہ اسے نہ یہ مرض نہ یہ اس کی دوا،بلکہ یہ اس کے مرض کو اور محکم کردے گی،حاشا یہ وہی کرے گا جو یاتو خود ہی طب نہیں جانتا اور خواہی نخواہی لوگوں کا گلاکاٹنے کو طبیب بن بیٹھا یا دیدہ دانستہ مریض کی غلط تشخیص مقرر رکھ کر خلاف مرض دوادے کر اسے ہلاك کیا چاہتا ہے،دونوں صورتیں سخت بلا ہیں،ایك دوسرے سے بدتر،توصاف روشن ہوا کہ انہیں فتووں میں سخت ناانصافی اور نہ ایك فریق بلکہ دونوں کی سخت بدخواہی ہوئی اگرچہ بظاہر فریق دوم کی طرفداری نظر آئے اگر کسی ذی علم عاقل خیر خواہ مسلمان سے یہ سوال ہوتا تو وہ یوں جواب دیتا کہ بھائیواس کی بناء محض نیت پر ہے اور نیت عمل قلب ہے اور قلب پر اطلاع اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کو،تم نے کیونکر جانا کہ اس فریق نے یہ مسجد اللہ  کےلئے نہ بنائی بلکہ محض نفسانیت وعداوت واضرار مسجد سابق کا ارادہ اس کے دل میں ہے،رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تعالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَفرماتے ہیں:افلاشققت عن قلبہ [4] تونے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھا۔ باہم تفرقہ کے بعد اس کی بناء سے غایت یہ کہ تفرقہ کے باب الوقف میں ہے،اور مسلمان پر بدگمانی حرام قطعی،اس بیان ضروری کے بعد چاہتا تو یہ بھی لکھتا کہ ہاں اگر دلیل شرعی سے ثابت ہو جا تا کہ ان کی نیت اضرار تھی اور اسی غرض سے انھوں نے مسجد بنائی تو ضرور اس کےلئے مسجد ضرار کا حکم ہوتا مگر حاشا اس کے ثبوت کا کیا طریقہ اور اس کی طرف راہ کیا،آپ کے سوال کا جواب یہ تھا،نہ وہ جوایرانی ودہلوی صاحب نے دیا،بہرحال فقیر آپ صاحبوں کا ممنون احسان ہے کہ اپنے نزدیك جو عیب اپنے بھائی مسلمان یعنی اس فقیر میں سمجھا اس سے مطلع فرمایا،مجھ پر فرض تھا کہ بات ٹھیك ہوتی تو تسلیم کرتا اب کہ باطل ہے اس کا بطلان آپ کو دکھادیا،ماننا آپ صاحبوں کا کام ہے،سنیوں بھائیوں کو آپس میں ایك رہنا لازم ہے،سنیوں پر دشمنان دین کے آلام کیا تھوڑے بندھ رہے ہیں کہ آپس میں بھی خانہ جنگی کریں اور نہ ہوسکے تو اتنا ضرور ہے کہ دنیوی رنجش جانے دیں "اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ "[5]بیشك تمام مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ت)پر نظر فرماکر گلے مل لیں، فریق اول کو اپنی نیت معلوم ہے اور اﷲ تعالٰی  اس سے زائد اس کی نسبت جانتا ہے اگر واقع میں مسجد انہوں نے محض براہ نفسانیت بقصداضرار مسجد سابق بنائی ہے تو ضرور وہ مسجد ضرار ہے اسے دور کردیں اورتائب ہوں مگر فریق دوم کو ہر گز حلال نہیں کہ مسلمانوں پر اتنی سخت بدگمانی کرکے معاذاﷲ مسجد ڈھانا چاہیں اور ایسے بے معنی ناموں کے فتووں کی آڑلیں جو اس سے زیادہ اور کیا ظلم کریں گے کہ مسجد گرانے کا حکم دیتے اور حاکم وقت کو بربادی خانہ خدا پر ابھارتے ہیں والعیاذباﷲ رب العٰلمین ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم(اﷲ تعالٰی  رب العالمین کی پناہ،بلندی وعظمت والے اﷲ تعالٰی  کی عطا کے بغیر نہ کسی کو گناہ سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی قوت۔ت)فقیر اپنے اس خط کی نقل فریق اول کو بھی بھیجے گا کہ میں نے دونوں کی خدمت میں دست بستہ عرض کیا ہے اور اصلاح کی توفیق دینے والاخداہے والسلام علٰی جمیع اخواننا اھل السنۃ والجماعۃ(تمام اہلسنت وجماعت پر سلامتی ہو۔ ت)فقیر احمد رضاقادری عفی عنہ۱۰شعبان المعظم یوم الاحد ۱۳۲۹ھ ہجریہ قدسیہ علی صاحبہا وآلہ افضل الصلٰوۃ والتحیۃ آمین!

مسئلہ ۱۵۶:                      ازمارہرہ مطہرہ ضلع ایٹہ مسئولہ جناب سید علی شاہ حسن میاں صاحب             غرہ ماہ مبارك ۱۳۲۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد مسقف میں شدت گرما کے سبب مصلیوں کو تکلیف ہوتی ہے اور پسینہ کی کثرت وحبس کی وجہ سے ادائے فرض میں نقصان اور خلل ہوتا ہے ایسی حالت میں اس کے انسداد کےلئے اگر مسجد میں سقفی بادکش لٹکایا جائے تو یہ بھی جو بحالت معذوری ومجبوری کیا گیا ہے خلاف آداب مسجد ومنافی احکام شریعت تو نہ ہوگا؟بینوا توجروا۔

الجواب:

 



[1]                  القرآن الکریم ۲۴/ ۱۶

[2]                   درمختار کتاب الوتر والنوافل مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۹

[3]                   صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان ان الدین النصیحۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۵۵

[4]         صحیح مسلم کتاب الایمان  باب تحریم قتل الکافر بعد قولہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۶۸

[5]                   القرآن الکریم۴۹ /۱۰



Total Pages: 201

Go To