Book Name:Fatawa Razawiyya jild 16

لانہ منافع مالہ کمنافع الوقف مضمونۃ بالاستھلاك بلاشرط الاعداد کما فی الدر وغیرہ من الاسفار الغر۔

کیونکہ یتیم کے مال کے منافع وقف کے منافع کی طرح ہلاك کرنے پر مضمون ہوجاتے ہیں اگرچہ یہ شرط نہ کی گئی ہو جیسا کہ درمختار وغیرہ مشہور کتب میں ہے(ت)

یہ استثناء صورت ثانیہ میں بھی جاری ہوگا اور قدر حصہ یتیم میں زید تصدق کا اختیار نہ رکھے گا بلکہ یتیم ہی کو دینا واجب، واﷲتعالٰی  اعلم۔

مسئلہ ۴ تا ۱۰:        ازبنارس مسجد چوك کہنہ مرسلہ محمد سلیمان ومحمد صاحبان                              ۲۲جمادی الاولٰی ۱۳۱۴ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس میں کہ خالد کے پانچ پسر،زید،بکر،حامد،جعفر اور تین دختر ہیں،خالد نے مکان مسکونہ بنوایا۔ زید،بکر،عمروجنکی شادی ہوگئی تھی اور بالغ تھے کچھ روپے سے اس کی تعمیر میں خالد کے شریك ہوئے۔چند سال بعد خالد نے اپنی جائداد منقولہ وغیرمنقو لہ،مکانات واسباب دکانداری وغیرہ اپنی زوجہ ہندہ کے نام ہبہ کیا اور یہ مکان مسکونہ بھی اس ہبہ نامہ میں درج ہوا،ہبہ نامہ کی تحریر کے بعد تین سال تك خالد زندہ رہا مگر جائداد منقولہ وغیر منقولہ پر جس کو وہ ہندہ کے نام ہبہ کرچکا تھا خود قابض رہا۔خالد کی حیات میں زید،بکر،عمرو،حامد واسطے خوردونوش کے فی کس پانچ روپے دیتا تھا اورسبھوں کا کھانا یکجائی پکتا۔جعفر صغیر سن تھا اسی وجہ سے شریك نہ تھا،ہر پسر اپنی اپنی آمدنی علیحدہ اپنے پاس رکھتا تھا اور امور خانگی میں خود خرچ کرتا تھا،صرف کھانا یکجائی تھا،بعد انتقال خالد ہندہ کے زمانہ میں بھی خوردونوش کا ایسا ہی انتظام رہا،اور دکان بلا فہرست اسباب عمرو کے سپرد ہوئی اس شرط پر کہ وہ ایك آنہ ۱/فی روپیہ دستوری لے لیا کرے جب مال فروخت ہو،اور وہ حساب کتاب بھی لکھتا رہے۔

تھوڑے دنوں تك عمرو نے حساب کتا ب لکھا مگر پھر خود ہی بند کردیا۔بعد وفات خالد ہندہ کے حیات میں مکان مسکونہ میں تعمیر مزید کی ضرورت ہوئی اور حامد نے کام شروع ہونے میں روپیہ دیا،روپے کی کمی عمرو پوری کرتا تھا جن کے تعلق دکان تھی اور اپنی انگریزی پہری بھی پہرتا تھا مگر آمدنی دونوں کی یکجا رکھتا تھا اس اثناء میں خاص اپنا روپیہ لگا کر زید نے اپنے لئے بنگلہ ا س مکان مسکونہ میں اپنے روپے سے بنوایا جو اب تك قائم ہے ہندہ کے انتقال کے بعد حامد نے ایك بنگلہ اپنے واسطے اس مکان مسکونہ میں اپنے روپے سے بنوایا،اور یہ اس روپے کے علاوہ ہے جو کہ حامدنے تعمیر مزید کے شروع کرنے میں دیا تھا،دیگر یہ کہ زید کی وفات کے بعد اس کی بیوہ کو دو آنہ فی یوم اب تك دکان سے جو عمرو کے متعلق ہے ملتا ہے۔اور عمرو کا بیان ہے کہ دکان کے ذمہ قرض بھی ہے مگر خالد وہندہ نے کوئی قرضہ نہیں لیا تھا اب وارثان خالد وہندہ میں نزاع درپیش ہے مکان مسکونہ کس طور پر تقسیم ہوگا؟(۱)آیا زید وبکر وعمرو کا روپیہ جو حیات خالد وہندہ میں لگا ہے مجراہوگایانہیں؟

(۲)حامد کا روپیہ اور زید کا بنگلہ جس کا وقوع بعد انتقال خالد مگر ہندہ کی حیات میں ہوا ہے مجرا ہوگا یانہیں؟

(۳)حامد کا بنگلہ جو بعد وفات خالد وہندہ کے تعمیر ہوا مجرا ہوگایانہیں؟

(۴)دختروں کو مکان مسکونہ میں کس قدر حصہ پہنچ سکتا ہے صرف اس قدر مکان میں جو خالد کے انتقال کے وقت تھا یانئی تعمیر سے لے کر؟ 

(۵)عمرو کی دکان کا حساب نہ لکھنے پر کوئی الزام اس پر آسکتا ہے یانہیں؟

(۶)زید کے بیوہ کو دو آنہ ۲/فی یوم جو دکان سے ملتا ہے واپس ہوگا یانہیں؟

(۷)عمرو کو جو قرضہ دکان مجرا ہوگایانہیں؟فقط بینواتوجروا۔

الجواب:

جواب سوال اول:ان مسائل میں اصل کلی یہ ہے کہ جوشخص اپنے مال سے کسی کو کچھ دے اگر دیتے وقت تصریح ہوکہ یہ دینا فلاں وجہ پر ہے مثلًا ہبہ یا قرض یا ادائی دین ہے جب توآپ ہی وہی وجہ متعین ہوگی اور اگر یہ کچھ ظاہر نہ کیا جائے تو دینے والے کا قول معتبر ہے کہ وہ اپنی نیت سے خوب آگاہ ہے اگر اپنی نافع نیت بتائے گا مثلًا کہے میں نے قرضًا دیا قرض میں دیا ہبہ مقصود نہ تھا تو اس کا قو ل قسم کے ساتھ مان لیا جائے گا اور جو اس کے خلاف کا مدعی ہو وہ محتاج اقامت بینہ ہوگا مگر جبکہ قرائن ودلائل عرف سے اس کا یہ قول خلاف ظاہر ہو تو نہ مانیں گے اور اسی کو اقامتِ بینہ کی تکلیف دیں گے بکثرت مسائل اسی اصل پر متفرع ہیں،مداینات العقود الدریۃ میں بزازیہ سے ہے:

القول قول الرافع لانہ اعلم بجھۃ الدفع[1]۔

دینے والے کی بات معتبر ہوگی کیونکہ دینے کی وجہ کو وہ بہتر جانتا ہے۔(ت)

فتاوٰی قاضی خان کتاب النکاح میں ہے:

دفع الٰی غیرہ دراھم فانفقھا وقال صاحب الدراھم اقرضتکھا وقال القابض لابل وھبتنی کان القول قول صاحب الد راھم[2]۔

ایك نے دوسرے کو کچھ درہم دئے تو اس نے لے کر خرچ کر لئے،دراہم دینے والے نے کہا میں نے تجھے قرض دئے تھے اور لینے والا کہتا ہے نہیں بلکہ تو نے مجھے ہبہ دیا ہے،تو دینے والے کی بات معتبر ہوگی(ت)

جامع الفصولین فصل رابع وثلثین میں ہے:

صدق الدافع بیمینہ لانہ مملک[3]۔

دینے والے کی بات قسم کے ساتھ مصدقہ قرار پائے گی کیونکہ وہ دینے والا ہے(ت)

وہیں ہے:

دفع الٰی ابنہ مالافاراداخذہ صدق انہ دفعہ قرضا لانہ مملک[4]۔

بیٹے کو کچھ مال دیا اب واپس لینا چاہتا ہے تو قرض کے طور پر دینا مانا جائے گا کیونکہ وہ دینے والا ہے(ت)

وہیں ہے:

 



   [1] العقودالدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ کتاب المداینات القول قول الرافع الخ ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۲۴۴

    [2] فتاوٰی قاضی خاں کتاب النکاح فصل فی حبس المرأۃ نفسہا بالمہر نولکشور لکھنؤ ۱/ ۱۷۸

    [3] جامع الفصولین فصل ۳۴ اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۱۷

   [4] جامع الفصولین فصل ۳۴ اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۱۷



Total Pages: 201

Go To