We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Fatawa Razawiyya jild 15

کے جبوں ،عماموں،مولویت،مشیخیت کے مقدس ناموں قال اﷲ وقال الرسول کے روغنی کلاموں سے دھوکے میں آکر شکار گرگاں خونخوار ہوکر معاذاﷲ سقر میں نہ گریں،یہ مبارك کام بحمدالمنعام اس عاجز کی طاقت سے بدرجہا خوب تر وفزوں تر ہوا،اور ہوتاہے،اورجب تك وہ چاہے گا ہوگا۔ذلك من فضل اﷲ علینا وعلی الناس،والحمدﷲ رب العالمین(ہم پر اور لوگوں پر یہ اﷲ تعالٰی کا فضل ہے اور سب تعریفیں اﷲ رب العالمین کے لئے ہیں۔ت)اس سے زیادہ نہ کچھ مقصود نہ کسی کی سب وشتم وبہتان وافتراء کی پروا،میرے سرکار نے مجھے پہلے ہی سنادیا تھا:

"وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْکِتٰبَ مِنۡ قَبْلِکُمْ وَمِنَ الَّذِیۡنَ اَشْرَکُوۡۤا اَذًی کَثِیۡرًا ؕ وَ اِنۡ تَصْبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا فَاِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الۡاُمُوۡرِ ﴿۱۸۶"[1]۔

بے شك ضرورتم مخالفوں کی طرف سے بہت کچھ براسنو گے اور اگر صبر وتقوٰی کرو تووہ بڑی ہمت کاکام ہے۔

الحمد للہ! یہ زبانی ادعا نہیں۔میری تمام کاروائیاں اس پر شاہد عدل ہیں،موافق اور مخالف سب دیکھ رہے ہیں کہ امر دین کے علاوہ جتنے ذاتی حملے مجھ پر ہوئے کسی کی اصلًا پروانہ کی،اصحاب فقیر نے آپ کی طرف سے ہر قابل جواب اشتہار کے لاجواب جواب دئے جوبحمدہٖ تعالٰی لاجواب رہے مگر جناب کے مہذب عالم مقدس متکلم مولوی مرتضی حسن صاحب دیوبندی چاند پوری کے کمال شستہ وشائستہ دشنام نامے(بریلی چپ شاہ گرفتار)کی نسبت قطعی ممانعت کردی،جس کا آج تك ادھر والوں کوا فتخار ہے کہ ہمارا گالی نامہ لاجواب رہا،گرامی منش مولانا ثناء اﷲ امرتسری ممکن و موجود میں فرق نہ جان سکے،مقدورات الہیہ کو موجودات میں منحصر ٹھہرایا،علم الٰہی کے نامحدودد ہونے میں اپنے آپ کو متامل بتایا اور جاتے ہی رمضان جیسے مبارك مہینہ میں برعکس چھاپ دیا،میں ہرا آیا،ادھر اس پر بھی التفات نہ ہوا،عاقلاں نیکوں میدانند پر اکتفاکیا،یہاں تك وقائع مکہ معظمہ میں کیسے کیسےمعکوس اور مصنوع اکاذیب فاجرہ اخباروں میں کس آب وتاب سے چھپاکئے،ہر چند احباب کا اصرار ہوا،فقیر اتناہی شائع کرتاہے کہ"یہ جھوٹ ہے"اتنا بھی نہ کیا،پھر جب چندہی روز میں حضرات کے جھوٹ کھل گئے اور واحد قہار کے زبردست ہاتھوں نے ان کے منہ میں پتھر دے دئے،اسی پر بھی میں نے اتنا نہ کہا کہ"کیسا آپ صاحبوں کاجھوٹ کھلا"ایسے وقائع بکثرت ہیں،اور اب جو صاحب چاہیں امتحان لیں،ان شاء اﷲ العزیز ذاتی حملوں پر کھبی التفات نہ ہوگا۔سرکار سے مجھے یہ خدت سپرد ہے کہ عزت سراکار کی حمایت کروں نہ کہ اپنی۔

میں تو خوش ہوں کہ جتنی دیر مجھے گالیاں دیتے،افتراء کرتے،براکہتے ہیں اتنی دیر محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی بدگوئی،منقصت جوئی سے غافل رہتے ہیں،میں چھاپ چکا،اورپھر لکھتاہوں میری آنکھ کی ٹھنڈك

 



[1] القرآن الکریم ۳/ ۱۸۶



Total Pages: 742

Go To