Book Name:Fatawa Razawiyya jild 14

آیۃ ممتحنہ میں حنفِیہ کا مسلک:

اوراسی پر ہمارے ائمہ حنفیہ نے اعتماد فرمایاکہ آیہ" لَا یَنْہٰىکُمُ اللہُ "دربارہ اہل ذمہ اور آیہ" یَنْہٰىکُمُ اللہُ "حربیوں کے بارےمیں ہے۔اسی بناپر ہدایہ ودرر وغیرھما کتب معتمدہ میں فرمایا:کافر ذمی کے لیے وصیت جائز ہے اور حربی کے لیے باطل وحرام،آیہ " لَا یَنْہٰىکُمُ اللہُ "نے ذمی کے ساتھ احسان جائز فرمایا اور آیہ" اِنَّمَا یَنْہٰىکُمُ اللہُ

"نے حربی کے ساتھ احسان حرام۔عبارت ہدایہ یہ ہے:

یجوز ان یوصی المسلم للکافر والکافر للمسلم فالاول لقولہ" لَا یَنْہٰىکُمُ اللہُ عَنِ الَّذِیۡنَ لَمْ یُقٰتِلُوۡکُمْ فِی الدِّیۡنِ "الایۃ،والثانی لانھم بعقد الذمۃ ساووا المسلمین فی المعاملات ولھذا جاز التبرع من الجانبین فی حالۃ الحیاۃ فکذا بعد الممات وفی الجامع الصغیر الوصیۃ لاھل الحرب باطلۃ لقولہ تعالی

" اِنَّمَا یَنْہٰىکُمُ اللہُ عَنِ الَّذِیۡنَ قٰتَلُوۡکُمْ فِی الدِّیۡنِ "الایۃ۔[1]

جائز ہے کہ مسلمان(ذمی)کافر کے لیے وصیت کرے اور کافر مسلمان کے لیے،اول تواس دلیل سے کہ اﷲ تعالی تمھیں ان سے منع کرتا جو تم سے دین میں لڑیں آخر آیت تک،اور دوم اس لیے کہ وہ ذمی ہونے کے سبب معاملات میں مسلمانوں کے برابر ہوگئے اسی لیےزندگی میں ایك دوسرے کے ساتھ مالی نیك سلوك کرسکتا ہے تو یوں ہی بعد موت بھی،اور جامع صغیر میں ہے حربیوں کے لیے وصیت باطل ہے اس لیے کہ اﷲ تعالی فرماتاہے اﷲ توتمھیں ان سے منع فرماتا ہے جوتم سے دین میں لڑیں آخر آیت تک،

 



[1] 1 الھدایہ کتاب الوصایا مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/۶۵۳



Total Pages: 712

Go To